ای روزگار اسکیم
06 جولائی 2018 2018-07-06

پاکستان کی آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال پاکستان کی سرکاری اور نجی یونیورسٹیزسے اڑھائی لاکھ نوجوان گریجویٹ ہونے کے بعد مارکیٹ میں نکلتے ہیں مگر افسوس کہ پاکستان صرف پچاس ہزار نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی دو لاکھ نوجوان کہاں سے نوکری پائیں،یہ وہ سوال میں جو 2017ء میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر عمر سیف کو سمجھ آ گیا اور انہوں نے فری لانسنگ پروگرام لانچ کیا جس کا ٹائٹل’’ ای روزگار اسکیم ‘‘ رکھا۔انہوں نے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا،انہوں نے نئی نسل کے کیریئر کو تابناک بنانے کا خواب دیکھا اور ایک ایسا قدم اٹھایا جس پر ہم ان کے ہمیشہ ممنون رہیں گے۔اس اسکیم کا مقصد نوجوانوں کو

ملازمتوں کے بہترین مواقع فراہم کرنا،بے روزگاری کے مسائل سے نمٹنا اور ای روزگار اسکیم کے ذریعے فی لانسنگ پروگرام کو فروغ دینا تھا۔۔اس پروگرام کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی کسمپرسی کا کم کرنا اور معاشرے میں تعلیمی فروغ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی ایک کوشش تھی جو یقیناًرنگ لا گئی۔میں جب’’ڈیلی ٹائمز ‘‘میں شائع ہونے والی اس پروگرام کی سالانہ رپورٹ دیکھ رہا تھاتو مجھے یہ جان کر خوش گوار حیرت ہوئی کہ ’’ ای روزگار اسکیم ‘‘کے نام سے صرف اور صرف نوجوانوں کے لیے اتنی بڑی سرمایہ کاری کی گئی جو یقیناًپاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کی ایک کوشش تھی جو کامیاب ٹھہری۔ ’’ ای روزگار اسکیم ‘‘کے نام سے پورے پنجاب میں 40مراکز قائم کیے جائیں گے، 23 مراکز اب تک قائم ہو چکے ہیں جن میں پانچ سینٹرزفی میل کے لیے ہیں۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق 45321گریجوایٹ نوجوانوں نے اپلائی کیا، جن میں سے 3584 نوجوان گریجویٹ ہو چکے ہیں اور تقریبادوہزارنوجوان ابھی تک رجسٹرڈ ہیں۔اس حوالے سے مجھے برادر عمار چودھری نے بتایا کہ پنجاب آئی ٹی بورڈ بین الاقوامی سطح پر بھی اس طرح کے تربیتی گروپ بنانے میں کامیاب ہو رہا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر اپنے نوجوانوں کو کامیاب بنانا ہے۔میرے خیال سے یہ کام اگرچہ ہماری سابقہ حکومتوں کو بہت عرصہ پہلے کر لینا چاہیے تھا کیونکہ اس بات سے کسی کو مفر نہیں کہ نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں،ان کا دماغ بنیادی طور پر وہ تمام تبدیلیاں قبول کر رہا ہوتا ہے جو عالمی سطح پر ہو رہی ہوتی ہیں یا ملکی سطح پر۔آپ ماضی کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ کسی بھی ملک میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،وہ ان تما م چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے ملک اور ذات کو درپیش ہوتے ہیں۔ہمارے ملک کا ہمیشہ سے المیہ رہا ہے کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو اگنور کیا،انہیں کبھی بھی اپنی مرضی کے مطابق پنپنے کا موقع نہیں دیا۔آپ اس کی مثال اپنے گھروں سے لے لیں ،بچے بلوغت کو پہنچ جاتے ہیں،وہ گریجوایشن کر جاتے ہیں،ان کی شادیاں اور بچے ہو جاتے ہیں مگر جب بھی بروں کو کوئی جدید مشورہ دیتے ہیں تو والدین اور اس سے پچھلی نسل یہ کہہ کر چپ کروا دیتی ہے کہ’’آپ ابھی بچے ہیں،آپ کو کیا پتا،ہمارا تجربہ آپ سے زیادہ ہے‘‘۔یہ وہ لائین ہے جس سے ہمارے بچوں کو آگے بڑھنے ہی نہیں دیا گیا۔بھلا نون لیگ شریف برادران نے ’’ لیپ ٹاپ اسکیم ‘‘،’’ییلو اسکیم ‘‘ اور’’ ای روزگار اسکیم ‘‘ جیسے موقع فراہم کر کے اس ملک کی آدھے سے زیادہ آبادی کو پٹڑی سے اترنے سے بچا لیا ورنہ اگر کسی ملک کی ساٹھ فیصد نوجوان آبادی بے روزگار ہو تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس کا کتنا شدید نقصان ہو سکتا ہے۔ آپ دنیا بھر کے دہشت گردوں،شدت پسندوں اور کسی بھی حوالے سے انتہا پسند وں کی فہرست نکال لیں اور آپ ان کی عمروں کی شرح دیکھیں،آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ نوے فیصد لوگ عین جوانی میں اس راستے پر نکلیں ہوں گے اور پھر ایسے نکلے کہ واپسی کا رستہ بھول گئے۔پاکستان بھی اس وقت ایسی ہی شدید صورت حال سے دوچار ہے،اس ساری سچوایشن پر قابو اسی صورت میں پایا جا سکتا تھا کہ کوئی ایسا پروگرام متعارف کروایا جاتا جس کے ذریعے نوجوانوں کو نہ صرف بہترین موقع فراہم ہوتے بلکہ ان کا ذہن انتشار پسند کاموں کی بجائے کسی اچھے کام کے لیے صرف ہوتا۔لہٰذا ’’این روزگار اسکیم ‘‘سے یہ سب ممکن ہوا۔

اس کا طریق کار بھی بہت آسان ہے۔ یہ کورس کرنے کے خواہش مند حضرات www.erozgaar.pitb.gov.pk پر جا کر آن لائن اپلائی کریں،بورڈ انٹری ٹیسٹ اورانٹرویو کے بعد فہرست مرتب کرے بگا اور جو طلبا اہلیت رکھتے ہوں گے اور میرٹ پر پور اتریں گے انہیں ان کے قریبی سینٹرز پر بھیج دیا جائے گا جہاں سے وہ متعلقہ شعبوں میں ٹریننگ پائیں گے۔ٹریننگ دینے والے ٹرینی بھی باقاعدہ ٹیسٹ اور دیگر پراسس سے گزر کر اس شعبے میں آتے ہیں لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اپنے اپنے شعبوں کے ماہر ہوتے ہیں۔ ’’ ای روزگار اسکیم ‘‘کا ٹریننگ پروگرام تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے،عمر کی حد 35سال سے کم رکھی گئی ہے،داخلے کے لیے ڈومیسائل پنجاب کے کسی ضلع کا ہونا لازمی ہے۔میں ذاتی طور پر کسی بھی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں سے کہوں گا کہ اس ٹریننگ کا لازمی حصہ بنیں،یہ سیکھنے کے بعد آپ ایک بہترین روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ملکی معاشی استحکام اور معاشرتی غربت اور کسمپرسی کے خاتمے کے لیے یہ انتہائی اہم قدم ہے۔میں ڈاکٹر عمر سیف اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان کی یوتھ کے بارے میں سوچا۔حکومتیں تو اس معاملے میں ہمیشہ دو قدم پیچھے رہیں مگر یہ سچ ہے کہ پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی جو

نوجوانوں پر مشتمل ہے،اس کے بارے میں بہتر اور مفید اقدامات کی ضرورت ہے۔ہمیں آج اس مسئلے پر سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا،ہمیں آج سرمایہ کاری کرنی پڑی گی ان اڑھائی لاکھ نوجوانوں کو مستقل ملازمتیں دیے کرجو ہر سال مختلف جامعات سے فارغ ہو رہے ہیں،اگر آج ہم نے ان کی طرف توجہ نہ دی تو یقین جانیں اس ملک میں آئی ٹی ایکسپرٹ، انجینئرز، سائنسی دماغ اور تخلیق کار کم ہوں گے اور مذہبی جنونیت کا شکار شدت پسند،دہشت گرد اور انتہا پسند ذیادہ،سوآج ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہم نے اس ملک کو دہشت گرد دینے ہیں یا سائنس دان، دانشور اور آئی ٹی سپیشلسٹ۔


ای پیپر