عام انتخابات۔۔۔امید کی کرن باقی ہے
06 جولائی 2018 2018-07-06

25جولائی کو ملک بھر میں عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پر عزم انداز میں ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔مذہبی،لسانی اور علاقائی جماعتیں بھی اپنے مخصوص حلقوں میں ووٹرں کو متوجہ کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔اس بار ان انتخابات پر کیے جانے والوں تبصروں اور تجزیوں کا تمام تر محور تحریک انصاف ہے ۔یہ جماعت گزشتہ دو دہائیوں سے ملکی سیاست میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اب کی بار یہ جماعت ان انتخابات میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب ہوئی ہے ۔اس جماعت کو اس مقام تک لانے میں 126دن کے دھرنے کا کمال ہے ۔گزشتہ پانچ سال کی احتجاجی سیاست نے ا س جماعت کو عوامی سطح پر کسی حدتک مقبول

بنایا ہے ۔تحریک انصاف تبدیلی کے نعرے کے ساتھ میدان میں اتری ہے ۔میرٹ،انصاف،برابری اور کرپشن فری پاکستان کے نعروں نے اس ملک کے نوجوانوں کو متاثر کیا ہے ۔عمران خا ن نے گزشتہ پانچ سالوں میں اپنے دھرنوں،جلسوں،ریلوں اور جلوسوں میں قوم کو ان موضوعات پر خوب لیکچر دیے ہیں۔عمران خان کی تربیت نے جب اپنا اثر دکھانا شروع کیا تو خود عمران خان اپنے ہی سکھائے ہوئے اصولوں پر سمجھوتا کرنے لگے۔عمران خان جنہیں یو ٹرن کا ماہر مانا جاتا ہے نے اپنی ہی سوچ اور فکر پرپر یو ٹرن لے لیااور انہوں نے الیکشن جیتنے کی سائنس متعارف کروا ڈالی۔ تحریک انصاف کی ٹکٹوں کی تقسیم نے اس وقت اس جماعت کو شدید تنقید کے نشانے پر رکھا ہو اہے۔اس پر ستم یہ کہ وہ جماعتیں بھی جو اقربا پروری، ناانصافی، ظلم اور کرپشن کی علمبردار رہی ہیں تحریک انصاف پر وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو ٹکٹ دینے پر نالاں ہیں۔اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ اس طرز کی جماعتیں تحریک انصاف کو اخلاقیات کا درس بھی دیتی ہیں۔

دوسری جانب ملک کے سنجید ہ او ر پڑ ھے لکھے طبقے کی جانب سے تحریک انصاف کے ا س عمل پر تنقید کویکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان کے صف اول کے کالم نگار اور تجزیہ نگار اس پر اپنی رائے کا اظہار پورے شد و مد سے کر رہے ہیں۔جو جماعت میرٹ اور انصاف کا بھاشن دیتی رہی ہو اگر وہ خود ہی محض حکومت حاصل کرنے کی خاطر میرٹ اور انصاف کو ہوا میں اڑا دے تو عوام کو سوال کا حق حاصل ہے ۔وہ لوگ جنہیں تبدیلی کا خواب دکھایا گیا تھا اب اس خواب کو چکنا چور ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ان میں مایوسی کی لہر موجود ہے ۔تحریک انصاف کے لیے عام آدمی کی جدوجہد پانی کی لہروں کے سپرد ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے ۔الیکٹرانک،پرنٹ اور سوشل میڈیا پر اس کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے ۔عمران خان نے وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو ٹکٹ جا ری کر کے تبدیلی کی امید لگائے عوام کے ارمانوں کو خون کیا ہے ۔اب ملک کے نامور کالم نگار بھی ایسے افراد کے لیے اپنی تحریوں میں لوٹے کا لفظ استعمال کرنے لگے ہیں۔لفظ لوٹا اس طرز کے سیاستدانوں کے لیے گالی بن چکا ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو لوگ وفاداریاں بدل کر تحریک انصاف میں آئے انھیں پانچ سال تک جماعت کے ساتھ بطور ورکر کام کرنے کا کہا جاتااور کارکردگی کی بنیاد پر 2023کے انتخابات میں ٹکٹ دیا جاتا۔مگر عمران خان کی بے صبری نے سب کیے کرائے پر پانی پھیر دیا ہے ۔اچھی منزل کے لیے غلط راستے کا انتخاب ہمیشہ منزل سے دور کر دیتا ہے ۔البتہ یہ عمران خان کی ہی محنت اور تبلیغ کا اثر ہے کہ عوام اب اپنے سیاسی نمائندوں سے سوال کرنے لگے ہیں۔عمران خان کی دی ہوئی سوچ نے اپنا رنگ جمانا شروع کر دیا ہے ۔جمال لغاری ہو یا سکندر بوسن سندھ کا کوئی وڈیرا ہو یا بلوچستان کا کوئی سردار عام آدمی کے سوال کے سامنے بھیگی بلی بنا ہوا ہے ۔خود عمران خان بھی ان سوالوں سے پریشا ن ہے ۔جب آپ نے ذہین کے بند دریچوں کوکھولا ہے تو اب اس سوچ کا سامنا بھی کریں۔

پاکستان میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ مقتدرہ ان لوٹوں ہی کی بدولت اپنی مرضی کی حکومت بناتی ہے اور سیاسی محاذ پر اپنا تسلط قائم رکھتی ہے ۔قوم ا س تاثر کو خود زائل کرے۔ووٹ کا اختیار عام آدمی کے پاس ہی ہے ۔قوم اس بار یہ تہیہ کر لے کہ وہ سیاسی وفاداری بدلنے والے کو ووٹ نہیں دے گی تو اس قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔ اس سے سیاسی جماعتیں بھی مضبوظ ہو ں گی ،جمہوریت بھی توانا ہو گی اور ملک ترقی کی جانب بھی گامزن ہو گا۔آج عام پاکستانی میں سوال کرنے کی ہمت پیدا ہوئی ہے کل وہ اپنا ووٹ بھی اپنی مرضی سے دے گا۔ لوٹے کسی بھی جماعت میں ہوں شکست کھائیں گے کیونکہ امید کی کرن باقی ہے ۔


ای پیپر