موروثی سیاست
06 جولائی 2018 2018-07-06

ہمارے ملک کی بہت بڑی بدقسمتی یہ ہے ۔کہ ہمارے ملک میں موروثی سیاست کا رواج عام ہو گیا ہے ۔اگر کسی کا باپ وزیر یا کسی بڑی سیاسی عہدے پر فائض رہ چکا ہے ۔تو اس کا بیٹا بھی وہی عہدہ لینے میں کامیا ب ہو جاتا ہے ۔یہاں سیاسی جماعتیں بھی نسل در نسل منتقل ہوتی جا رہی ہوتی ہے۔ہمارے ملک کو چند خاندان نے یرغمال کر رکھا ہے ۔اس لیے ہمارے ملک میں چند نسلیں تو پھل پھول رہی ہے ۔مگراس سے ہمارے ملک کو کافی نقصان ہو رہا ہے۔اگر ہم صوبہ خیبرپختونخوا کی موروثی سیاست پر نظر دوڑائیں ۔تو خیبر پختونخوا کے انتخابات میں آج بھی موروثی سیاست عروج پر ہے ۔اس میں سب سے پہلا نمبر جمعیت علماء اسلام (ف)کا ہے ۔ اورمولانا فضل الرحمان کا خاندان 6افراد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے ۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے بھائی ،بیٹے،دو

سالیوں اور سمدھی کو بھی ٹکٹوں سے نوازدیا۔ جمعیت علماء اسلام کے دوسرے طاقت ور شخصیت اکرم خان دورانی بھی اپنے خاندان کے لیے تین ٹکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔جمعیت علماء اسلام جو سیٹیں جیتنے کے پوزیشن میں ہے وہ یا تو مولانا فضل الرحمان کے خاندان کے پاس ہے یا پر اکرم خان دورانی کے خاندان کے پاس ہے ۔ اس میں دوسرا نمبر پاکستان تحریک انصاف کا ہے ۔پرویز خٹک نے اپنے خاندان کے پانچ افرادکو ٹکٹ سے نواز کر دوسرا نمبر خاصل کیا۔ایک قومی اور دو صوبائی کا ٹکٹ خود لے کرداماد اور بھابھی کے لیے بھی دوٹکٹیں حا صل کی ۔یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف جو تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے عوام کو خواب دیکھاتی رہی ہے۔اس تبدیلی میں موروثی سیاست کاخاتمہ بھی شامل ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا ہے ۔یہ بھی درست ہے کہ عمران خان نے اپنے کسی رشتہ دار کو ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ مگر صرف عمران خان کے رشتہ داروں کوٹکٹ نہ جاری کرنے سے موروثی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔بالکل بھی نہیں ہوگا۔کیوں کہ موروثی سیاست کے خاتمہ کے لیے پارٹی میں بھی موروثی سیاست کا خاتمہ ضروری ہے ۔یہی وجہ ہے پاکستان تحریک انصاف میں ٹکٹ کے تقسیم میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔میں ذاتی طور پر ایسے شخصیات جانتا ہوں۔ جو پارٹی کے ساتھ کافی وفادار رہے ہیں ۔مگر ٹکٹ کے تقسیم پر نظر انداز کیا گیا۔جن میں ضلع کرک سے تعلق رکھنے والے شمس الرحمان ہے۔شمس الرحمان نے پارٹی کے ساتھ کافی وفاداری نبھائی ۔لیکن عمران خان نے اس کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے ٹکٹ سے محروم رکھا۔اس کے بعد نمبر صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی کا آتا ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدراسفندیار ولی نے اپنے خاندان کو چار چار ٹکٹوں سے نواز کر موروثی سیاست میں صوبہ خیبر پختونخوا میں تیسرا نمبر حاصل کیا ہے۔خود قومی اسمبلی کا جبکہ بیٹے ایمل خان کو صوبائی ٹکٹ دلوایا۔اور بھانجے حیدر ہوتی قومی،صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈر ہیں ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے غلام بلور بھی اپنے خاندان کے لیے ایک سے زائد ٹکٹ لینے والوں میں شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ارباب عالمگیراور ان ہی اہلیہ عاصمہ عالمگیراور بیٹے زرک بھی ٹکٹ پانے والوں میں شامل ہیں۔آفتاب شیرپاؤاورامیر مقام بھی ایک سے زائد ٹکٹ لینے والوں میں شامل ہیں۔ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑھَتا ہے ۔کہ ہم آج بھی چند خاندانوں کے غلام ہیں ۔چند خاندانوں نے سیاست کو اقتدار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کا زریعہ بنایا ہوا ہے ۔یہی چند خاندان سیاست میں اتنے طاقت ور ہو چکے ہیں ۔کہ ان خاندان کواپنے علاوہ کوئی سیاست کے لیے اہل ہی نظر نہیں آتا۔ ہر صورت میں اپنے آپ کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے پارٹی کے نظریاتی ورکرز کو نظر انداز کر کے دولت کے اعتبار سے صاجب حثیت کو پارٹی کا ٹکٹ دیا جاتا ہے ۔نظریاتی ورکرز مایوس ہو کر سیاست کو خیرباد کہہ دیتا ہے ۔اور ملکی سیاست ان ہی خاندانوں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے ۔اور اہل لوگ سیاست کے دور چلے جاتے ہیں۔یہاں سے معاشرے کا توازن خراب ہو جاتا ہے ۔معاشرے میں امیر غریب کا فرق

شروع ہو جاتاہے ۔میرٹ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے ۔کہ 35چالیس سالوں سے یہی خاندان ہم پر حکمرانی کر رہیں ہیں۔اور عام انسان کی زندگی نہیں بدلی۔اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی جماعتیں ہمیں جمہوریت اور اخلاقیات کا درس دیتی رہتی ہے ۔اور عام عوام ان ہی کے لیے لڑتے رہتے ہیں ۔جب ملک میں سیاسی جماعتوں کے اندر صاف اور شفاف انتخابات نہیں ہونگے ۔ تو اہل اور ایماندار عوامی نمائنداگان کا آنا مشکل ہو گا۔ بوسیدہ جمہوری نظام کا خاتمہ بھی نہیں ہو گا۔ کیوں کہ پارٹیوں میں صاف اور شفاف انتخابات سے ہی اہل ،ایماندار اور نظریاتی کارکن عوامی نمائنداگان کی صورت میں سامنے آئیں گے۔جو نظام میں بہتری کا سبب بنیں گے۔اور ان ہی کی وجہ سے ملک کی تقدیر بدلے گی۔ موروثی سیاست کا خاتمہ ہوگا۔


ای پیپر