Source : Yahoo

ملکی تاریخ کا رخ بدلنے کی سزا دی گئی :نواز شریف
06 جولائی 2018 (20:03) 2018-07-06

لند ن :مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے فیصلہ کیخلاف بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ سزا ملکی تاریخ کا رخ بدلنے کی وجہ سے دی گئی ہے ،یہ سزائیں میری جاری جدو جہد کو نہیں روک سکتیں ،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے اہم انکشاف کیا کہ مجھے متعدد بار ملک چھوڑنے کا بھی پیغام دیا گیا ،انہوں نے کہا ووٹ کی عزت کو بچانے کیلئے ہر قیمت دینے کو تیار ہوں ،صرف پیشیاں نہیں بھگتیں ،عوام کی خدمت سب کے سامنے ہے ۔

نواز شریف نے کہا آج کے فیصلے میں پھر نہیں بتا یا گیا کہ جرم کیا کیا ہے ؟چوری کہاں سے کی ؟یہ سوال ہمیشہ پوچھے جائینگے ،میری جدو جہد کو یہ فیصلے نہیں روک سکتے ،کسی کو پھانسی دی جاتی ہے اور کسی کو قید ،سیاسی و مذہبی پارٹیوں سے دھرنے کرائے جاتے ہیں ،انہوں نے کہا یہ سزا کسی کرپشن کی نہیں ہے بلکہ پاکستان کی تاریخ کا رخ بدلنے کی سزا دی گئی ہے ،حق بات کہنے پر ہمیں جکر دیا جاتا ہے ۔کلثوم نواز سے سلام دعا کے بعد وطن واپس چلا جاﺅنگا ،آئینی اور قانونی حقوق بھی استعمال کرونگا ،کرپشن ثابت ہوئی تو سیاست ہی چھوڑ دونگا ،انہوں نے کہا مریم وطن واپس جانے کیلئے میرے سے زیادہ بے تاب ہے ۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا کئی گھنٹے کی تاخیر کے بعد فیصلہ سنا دیا ‘مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کو 10 سال مریم نواز کو 7 سال قید‘ کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنا دی گئی ۔عدالت میں غلط دستاویزات پیش کرنے پر مریم نواز شریف کو مزید ایک سال کی سزا ‘مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 8 ملین پاﺅنڈ ‘ مریم نواز کو 2 ملین پاﺅنڈ جرمانہ کی سزا بھی سنائی گئی ‘لندن پراپرٹیز بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم ‘ مریم نواز 2018ءکے عام انتخابات کیلئے نااہل قرار دیدیا گیا۔

نواز شریف اور مریم نواز نے وطن واپسی کا فیصلہ کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کلثوم نواز کے ہوش میں آتے ہیں وطن واپس آ جاو¿ں گا اور جیل میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

مصدقہ ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ اتوار کے روز پاکستان واپس آ رہے ہیں۔سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف ان دنوں لندن میں اپنی بیوی کے علاج کے سلسلے میں مریم نواز کے ہمراہ موجود ہیں۔ ان کی وطن واپسی کے متعلق کئی سوالات اٹھ رہے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کر لی ہے لیکن وطن واپسی کے فیصلے سے انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے تمام سوالات کے جواب دیدیئے ہیں۔

خیال رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال قید بامشقت ، مریم نواز کو 7 سال اور کیپٹن (ر) صفدر کو 1 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ احتساب عدالت نے نوازشریف کو 80 لاکھ پاو¿نڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاو¿نڈ جرمانہ بھی کیا ہے جب کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو سرکاری تحویل میں لینے کا بھی حکم دیاہے۔ مریم نواز کو جھوٹی دستاویز جمع کرانے پر بھی ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ یہ سزا بہت چھوٹی ہے ،70 سال سے سرگرم نادیدہ قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کی یہ سزا کم ہے.جمعہ کے روز ایوان فیلڈ ریفرنس کے احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد مریم نواز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ظلم کے خلاف لڑنے کا حوصلہ بہت بلند ہوا ہے ، نواز شریف ڈرے نہیں، جھکے نہیں بلکہ اپنی ذاتی زندگی کو پاکستان پر ترجیح دی ، پاکستانی عوام آج بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں انشاءاللہ جیت عوام کی ہی ہوگی۔

مسلم لیگ ( ن ) کے صدر میاں شہباز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں پارٹی قائد سابق وزیر اعظم کو داماد اور بیٹی سمیت سزا کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) احتساب عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے. یہ فیصلہ ایسا ہے جسے تاریخ میں سیاہ فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا‘ یہ کیس پہلے عدالت عظمیٰ میں 3 ججوں نے سنا پھر نیچے عدالت کو بھیج دیا‘ پورے کیس میں کوئی ٹھوس دستاویزات پیش نہیں کی گئی ‘ نام پانامہ میں نہیں ہے‘ نہ کوئی ثبوت پیش کئے گئے‘ اس لئے ان کی آف شور کمپنی کے حوالے سے بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا پھر بھی یہ فیصلہ آنا نا مناسب ہے۔


ای پیپر