عوام کی عدالت
06 جولائی 2018 2018-07-06


14جولائی 1789ء میں پیرس کی ایک بہت بڑی “باستیل جیل “منہدم کر دی جاتی ہے اور اس جیل کو منہدم حکومت وقت نہیں بلکہ عوام کرتی ہیں اور یوں انقلاب فرانس کے سفر کا باقاعدہ آغاز ہو جاتا ہے جس کا دورانیہ کم و بیش دس سال پر محیط تھا ، ملک میں جوں جوں شورش بڑتی گئی توں توں اشرافیہ عوام پر اپنا اختیار کھوتی گئی، بالآخر 10 اگست 1792ء کو عوام نے بادشاہ کے محل پر حملہ کر کہ بادشاہ کو ملکہ سمیت گرفتار کر لیا اور 21 جنوری 1783ء کو بادشاہ کو عوامی عدالت نے سزائے موت سناتے ہوئے بادشاہ کا سر قلم کر دیا، تاریخ کے اوراق انقلاب فرانس کی مختلف وجوہات سے بھرے پڑے ہیں، کہیں انقلاب کی وجہ عوام پر مقتدر اور بااثر طبقے کی طرف سے کئے جانے والے مظالم بیان ہوئے ہیں تو کہیں اس وقت کے صاحب اقتدار طبقے کی غیر مستحکم معاشی پالیساں، اقرباء پروری اور مالی بحران وغیرہ کا ذکر ہے۔

مذکورہ بالا تمام وجوہات یا تو قوموں کے لئے ایک مثبت انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں یا قومیں بنی اسرائیل کی طرح ظلم سہنے کی عادی ہو جاتی ہیں اور کسی موسیٰ کے انتظار میں کئی صدیاں وقت کے فرعونوں کی غلامی میں گزار دیتی ہیں، فرانس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کی عوام نے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا اور جگہ جگہ عوامی عدالتیں لگا کر اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرنے لگ گئی،انقلاب فرانس کی عوامی عدالتوں کا مختصر تذکرہ کرنے کے بعد ہم آتے ہیں پاکستان کی عوامی عدالت کی طرف جسے عام طور پر سیاستدان الیکشن کے نام سے متعارف کرواتے ہیں اور جب بھی ان کے محاسبے کی بات ہو تو وہ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ صرف عوام کو ہمارے محاسبے کا اختیار ہے اور وہ ووٹ اور الیکشن کے ذریعے ہمارا محاسبہ کریں گے۔

ہر پانچ سال بعد عوام کی عدالت کے نام پر الیکشن ہوتے ہیں اور ساری سیاسی بدمعاشیہ پاک صاف ہو کر اگلے پانچ سال کے لئے اقتدار پر براجمان ہو جاتی ہے، ہماری عوامی عدالت کا عالم یہ ہے کہ اس میں پیش ہونے والے تقریباً تمام امیدوار جھوٹے بیان حلفی جمع کرواتے ہیں، دولت جن کی وجہ شہرت ہوتی ہے وہ بھی اپنے آپ کو مقروض ظاہر کرتے ہیں، کروڑوں اربوں کی جائیدادوں کو لاکھوں یا ہزاروں میں بتایا جاتا ہے، آئین کا آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ جو اس عوامی عدالت میں پیش ہونے کے لئے سب سے بڑی شرط ہے اس کا نام لینے والوں کو عوامی عدالت کے خلاف سازش کرنے کے طعنے ملتے ہیں، ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ سے سزا یافتہ بھی اس عوامی عدالت میں امیدوار بننے کا اہل ہوتا ہے، اس طرح اس عوامی عدالت سے عام عوام کوسوں دور ہوتی ہے۔

پچھلی ایک دہائی سے تبدیلی کا نام لے کر اورعوامی عدالت کے ساتھ دھاندلی کا شور مچانے والے بھی آج انہی پرانے پاپیوں کو ناگزیر سمجھ رہے ہیں اور انہی کے ساتھ عوامی عدالت میں پیش ہونے جا رہے ہیں، دھاندلی پر ان کی زبانیں جیسے گونگی ہو گئی ہیں ہر بات پر دھرنا دینے کی دھمکیاں دینے والے آج عوامی عدالت کے ساتھ ہونے والے بہت بڑے دھوکے پر خاموش اور بہرے بن گئے ہیں، لگتا ہے کہ اس دھوکے کے خلاف میڈیا پر اٹھنے والی آوازیں بھی انہیں سنائی دینا بند ہو گئی ہیں، صورتحال کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ موصوف اب روز اپنے گھر کے باہر سمجھوتے کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔

ایک دفعہ پھر آر اوز کو متحرک کر دیا گیا ہے ، 2013ء کے الیکشن میں تو پھر میڈیا پر باسٹھ تریسٹھ کےنام پر ایک کھلبلی مچائی گئی تھی مگر اس الیکشن میں تو میرٹ کا سرے سے کوئی نام و نشان نہیں مل رہا ، اعلیٰ عدلیہ نے بھی صرف کاغذات نامزدگی کے ساتھ ایک حلف نامہ لف کرنے پر اکتفاء کرتے ہوئے باقی سارے ہیر پھیر سے آنکھیں بند کر لی ہیں، نگران حکومت پر بھی صرف الیکشن وقت پر کروانے کا بھوت سوار ہے باقی میرٹ جائے بھاڑ میں کیونکہ بعد بھگتنا تو بیچاری عوام نے ہے ، انہیں اس سے کیا غرض کہ الیکشن شفاف ہوں یا غیر شفاف، الیکشن کمیشن کی سابقہ کارگردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں الیکشن کمیشن ہر اس اقدام کی توثیق اور تائید کرتا ہے جس کا فائدہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس اشرافیہ کو ہونا ہوتا ہے۔

ہماری اشرافیہ اور صاحب اقتدار طبقے کو سوچنا چاہئے کیونکہ اگر اس بار بھی عوامی عدالت کا مذاق بنایا گیا تو شاید پھر عوام کا جمہوریت پر سے بھی اعتبار جاتا رہے اور وہ کسی انقلاب فرانس کی طرز پر عوامی عدالت کا راستہ ہموار کرنے میں لگ جائیں ، ڈریں اس وقت سے جب حقدار اپنا حق چھیننے کے لیئے نفرت کے گھوڑے پر سوار ہوجائیں پھر فاصلے مختصر ہوجاتے ہیں اور جذبات کا طلاطم وہ سیلاب بنتا ہے کے جسکی راہ میں جاہ و حشمت اور اقتدار کے محلات سب خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں


سلطان محمود

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں)


ای پیپر