پاکستان میں آج بھی 22 ملین بچے سکول سے باہر ہیں

06 جولائی 2018 (17:38)


اسلام آباد:سابق وفاقی اور صوبائی حکومت نے تعلیمی شعبے کو بہتر بنانے کے بارے میں بلند بانگ دعوے کئے تھے تاہم سرکاری جاری اعداد و شمار میں تاریک تصویر پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب بھی 22.84 ملین بچے سکول سے باہر ہیں ۔


گزشتہ سال کے جاری اعداو شمار کے مقابلے میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں قدرے اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔یہ اعداد و شمار پاکستان کے تعلیمی اعداد و شمار رپورٹ 2016-17 میں سامنے آئے ہیں ۔ جس کو اکیڈمی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ نے لانچ کیا ہے جو کہ وفاقی وزارت تعلیم کا ذیلی ادارہ ہے ۔سالانہ رپورٹ نگران وزیر تعلیم محمد یوسف شیخ نے پیش کی ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 5 اور 16 سال کے 22.84 ملین بچے سکول سے باہر ہیں ۔ جو 44 فیصد بنتے ہیں ۔ 2015-16 کی رپورٹ کے مطابق 22.63 ملین بچے سکول سے باہر تھے۔ بلوچستان وہ صوبہ ہے جس میں سب سے زیادہ بچے سکول سے باہر ہیں ۔اس کے بعد فاٹا کا نمبر ہے ۔


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے 70 فیصد بچے ، فاٹا کے 57 فیصد اور سندھ کے 52 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں ۔سردست اولین عمر کے 5.03 ملین بچے سکول سے باہر ہیں ۔ مڈل ، ہائی اور ہائیر سکینڈری سطح پر تعداد بالترتیب 6.51 ، 4.97 اور 6.29 ملین ہے ۔ لڑکوں سے زیادہ لڑکیاں سکول سے باہر ہیں ۔ پرائمری سے ہائیر سکینڈری سطح تک لڑکیوں کی آبادی کا 49 فیصد سکول سے باہر ہے جبکہ لڑکوں کی آبادی کا 40 فیصد حصہ سکول سے باہر ہے ۔تاہم 2013-17 تک کی صورت حال کے مقابلے میں سکول سے باہر بچوں کی مجموعی تعداد میں 3.11 ملین کمی آئی ۔ 2012-13 میں 25.9 ملین بچے آئوٹ آف سکول تھے جبکہ 2013-14 میں یہ تعداد 24.81 ملین تک کم ہو گئی ۔


2014-15 میں تعداد 24 ملین اور 2015-16 یہ اعداد و شمار 22.63 ملین رہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 26 فیصد پرائمری سکول ایک ہی ٹیچر سے چلائے جا رہے ہیں جبکہ سکولوں کا 18 فیصد صرف ایک ہی کلاس روم لگتے تھے اور 32 فیصد سکول بغیر بجلی ، 22 فیصد بغیر ٹائلٹ ، 21 بغیر دیواروں اور 22 فیصد سکولوں میں پینے کا پانی بھی نہیں تھا رپورٹ کے مطابق ملک میں مجموعی پرائمری سکولوں میں 7 فیصد بغیر عمارتوں کے تھے ۔

مزیدخبریں