فواد حسن فواد 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے
06 جولائی 2018 (17:14) 2018-07-06

لاہور: احتساب عدالت نے 2 سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے پرنسپل سیکرٹری رہنے والے فواد حسن فواد کوبطور سیکرٹری امپلیمینٹیشن برائے وزیر اعلی پنجاب اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں 14 روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا۔


نیب حکام نے فواد حسن فواد کو سخت سکیورٹی میں لاہور کی احتساب کے جج نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا ۔اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری عدالتی احاطے میں تعینات تھی۔ نیب کے پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم فواد حسن فواد نے بطور سیکرٹری امپلیمینٹیشن برائے وزیر اعلی پنجاب اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، ملزم نے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو طاہر خورشید کو آشیانہ اقبال پراجیکٹ کا کنٹریکٹ معطل کرنے کے غیر قانونی احکامات جاری کئے، ملزم کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق سرکاری طور پر کنٹریکٹ حاصل کرنیوالے چوہدری لطیف اینڈ سنز کا ٹھیکہ معطل کروایا گیا،ملزم نے بد نیتی کے تحت انکوائری کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ کنٹریکٹ کی رپورٹ کو حکام سے مخفی رکھا،انکوائری کمیٹی سیکرٹری فنانس طارق باجوہ کی زیر نگرانی کام کر رہی تھی،انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق چوہدری لطیف اینڈ سنز کو دیا گیا کنٹریکٹ قانونی اور پپرا رولز کے مطابق تھا،ملزم کی جانب سے آشیانہ اقبال پراجیکٹ کا کنٹریکٹ ایوارڈنگ کے 8ماہ بعدمعطل کروایا گیا،چوہدری لطیف اینڈ سنز کی جانب سے 70ملین روپے بطور موبیلائیزیشن ایڈوانس ادا کئے گئے تھے تاہم پراجیکٹ پر باقاعدہ کام بھی جاری ہو چکاتھا،ملزم کی جانب سے کنٹریکٹ کے غیر قانونی معطلی کی وجہ سے حکومت کو 5.9ملین بطور جرمانہ ادا کرنا پڑا۔


ترجمان نیب لاہور کے مطابق ملزم فواد حسن فواد کے یہ غیر قانونی اقدام پراجیکٹ کے غیر ضروری التواء کا باعث بنے اور پراجیکٹ کی قیمت میں اربوں روپے کا اضافہ بھی ہوا، نیب لاہور کی جانب سے ملزم کو متعدد مرتبہ طلب کیا گیا جبکہ ملزم صرف 2مرتبہ نیب حکام کے روبرو پیش ہوا۔ملزم پر بطور سیکرٹری ہیلتھ پنجاب مہنگے داموں 6 موبائل ہیلتھ یونٹس خریدنے کا الزام ہے،ملزم نے 2010ء میں 6 موبائل ہیلتھ یونٹس خریدے تاہم 1 یونٹ کی مالیت 55ملین تھی،ملزم غیر قانونی طور پر بینک الفلاح میں ستمبر2005تا جولائی 2006کام کرتا رہا تاہم سیکرٹری ایسٹیبلشمنٹ کی طرف ان کی تعیناتی کی درخواست کو رد کر دیا گیا۔ملزم جے ایس گروپ کے ماتحت ادارہ سپرنٹ انرجی میں بھی تعینات رہا تاہم 9 سی این جی پمپس کی ایک ضلع سے دوسرے ضلع منتقلی کے لئے جعلی این او سی تیار کروانے میں ملوث رہا۔ملزم کے ان اقدامات سے ملکی خزانے کو مجموعی طور پر اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کسی قسم کی منی ٹریل کا پتہ لگایا ہے آپ نے؟ اس پر نیب کے انویسٹی گیشن آفیسر نے بتایا کہ منی ٹریل کا پتہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں اور متاثرین کو بلا رہے ہیں ۔ اس موقع پر فواد حسن فواد نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ میرا اس سارے معاملے میں کوئی کردار نہیں تھا، میں نے کسی معاہدے کو ختم کرنے کا حکم نہیں دیا، میری بطور سیکریٹری موجودگی میں یہ ٹھیکہ نہیں دیا گیا اور وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ہی آرڈر پر دستخط کیے۔عدالت نے فواد حسن فواد سے استفسار کیا کہ معاہدہ منسوخی پر دستخط کیے؟ ۔اس پر ملزم نے کہا کہ نہیں، معاہدے سے متعلق دستخط کیے، 30مارچ 2013ے کو میرا تبادلہ ہوا، اس وقت سے پنجاب میں تعینات نہیں کیاگیا، مجرموں کے بیانات پر نیب نے مجھے پکڑ کر یہاں پر لا کھڑا کیا۔


ای پیپر