Source : Yahoo

مسلم لیگ (ن) نے احتساب عدالت کے فیصلے کو مسترد کردیا
06 جولائی 2018 (16:58) 2018-07-06

لاہور: مسلم لیگ ( ن ) کے صدر میاں شہباز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں پارٹی قائد سابق وزیر اعظم کو داماد اور بیٹی سمیت سزا کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) احتساب عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے.

یہ فیصلہ ایسا ہے جسے تاریخ میں سیاہ فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا‘ یہ کیس پہلے عدالت عظمیٰ میں 3 ججوں نے سنا پھر نیچے عدالت کو بھیج دیا‘پورے کیس میں کوئی ٹھوس دستاویزات پیش نہیں کی گئی‘ نام پانامہ میں نہیں ہے ‘ نہ کوئی ثبوت پیش کئے گئے‘اس لئے ان کی آف شور کمپنی کے حوالے سے بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا پھر بھی یہ فیصلہ آنا نا مناسب ہے ‘ یہ فیصلہ اس کیخلاف آیا جس نے خارجی دباﺅ اور لالچ کو مسترد کر کے ملک کو ایٹمی قوت بنایا‘ نیب کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا مگر 25جولائی کو ایک عوامی عدالت بھی لگنے والی ہے ‘وہ عوامی فیصلہ اللہ کے فضل سے ثابت کرے گا کہ عوامی عدالت کا فیصلہ ٹھیک ہے اور نیب عدالت کا ‘میں پاکستان کے ہر گلی اور کوچے میں جاﺅں گا اور جا کر اس زیادتی اور ناانصافی سے عوام کو آگاہ کروں ۔

وہ جمعہ کو یہاں پارٹی رہنماﺅں مشاہد حسین سید ‘ خواجہ سعد رفیق ‘شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر کے ہمراہ احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر مسلم لیگ ( ن ) کے صدر نے کہا کہ مسلم لیگ ( ن ) احتساب عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے‘ یہ فیصلہ ایسا ہے جسے تاریخ میں سیاہ فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا‘ یہ کیس پہلے عدالت عظمیٰ میں 3 ججوں نے سنا پھر نیچے عدالت کو بھیج دیا‘پورے کیس میں کوئی ٹھوس دستاویزات پیش نہیں کی گئی۔ یہ ہے بنیادی بات ہے کہ ان کیخلاف کوئی ثبوت مہیا نہیں کیا گیا۔ ایک طرف ناانصافی کی بنیاد پر یہ فیصلہ اور دوسری طرف نیب کے حالیہ سالوں میں پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں ایسا فیصلہ نیب کورٹ نے دیا ایک ایسی سیاسی شخصیت کے حوالے سے نیب کورٹ نے کہا کہ چونکہ اصل ڈاکومنٹس میسر نہیں اس لئے اس کیس کو خارج کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ ہے اوریہ فیصلہ آپ ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ بہت بڑی سیاسی شخصیت کو نیب نے ریلیف دیا۔

اسی طرح لاہور ہائی کورٹ نے 2010ءمیں نیب کو خط لکھا ہدایات دیں کہ نیب نے 450 ارب کے کلین چٹ دیدی۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے جج رحمت حسین جعفری صاحب نے ایک فیصلہ میں لکھا کہ بابر اعوان اس کے براہ راست ذمہ دار ہیں ان کیخلاف کارروائی کی جائے لیکن نیب نے کارروائی نہیں کی۔ یہی ہیں سالہا سال سے یہ کیس نیب میں پڑے ہیں جہاں ایک ارب نہیں کئی سو ارب روپے کے کیسز نیب میں التواءءکا شکار ہیں ۔ یہ چند مثالیں میں نے اس لئے دیں کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی دنے نیب کی 109 پیشیاں بھگتی ہیں اور دوسری طرف میں نے ابھی آپ کو چند مثالیں دی ہیں میں جائز طورپر یہ بات کر رہا ہوں کہ جہاں پر منظم کرپشن ہوئی ہے اس لوگوں کی پونجی لوٹی گئی ہے جو کہ کئی سو ارب ہے جس کے ثبوت موجود ہیں جہاں نیب کورٹس نے کیسز کو التاوءکا شکار رکھا اور اس طرف ہو 109پیشیاں ہوئیں اس کا فیصلہ سنایا ۔

اس فیصلے کے حوالے سے کہتا ہوں کہ محمد نواز شریف جن کے کریڈٹ میں یہ بات جاتی ہے کہ نواز شریف وہ شخص ہیں جنوہں نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا اور ایٹمی قوت بناتے وقت جو خارجی دباﺅ تھے اور دھمکیا ں تھیں اور جو 5 ارب ڈالر کی پیشکش کی کلنٹن نے اس تمام دھمکیوں اور لالچ کو ٹھکرایا اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور سی پیک کا موجد کون ہے ۔ سی پیک پاکستان کی ترقی اور معیشت کے حوالے سے چین کا جو تحفہ ہے وہ نواز شریف نے قوم کو پیش کیا اور گوادر کے حوالے سے ترقی کا موجد نواز شریف ہے ‘ موٹر وے ‘ دیامر بھاشا کا موجد نواز شریف ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے طاقت ور مقدمہ پیش کرنے کا کریڈت بھی نواز شریف کو ہی جاتا ہے ۔

آج اس قوم کے فرزند کو جو سزا سنائی گئی یہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس کے قطعاً حقدار نہیں انہوں نے بہت خدمات انجام دی ہیں۔ جب امریکہ نے پابندیاں لگائیں تو پاکستان کیلئے 3 سال تیل کا بندوبست کیا وہ نواز شریف ہی تھا۔ ناز شریف نے مقابلہ بہادر سے کیا۔ انصاف کے حصول میں سخت تحفظات ہونے کے باوجود اور ان کی اہلیہ کی شدید علالت کے باوجود 19 اکتوبر 1917ءسے لے کر اب تک وہ 109 مرتبہ نیب کورٹس میں پیش ہوئے اس کی کیا 70 سالہ تاریخ میں کوئی مثال ہے۔ اور وہ جنہوں نے ملک کو لوٹا اور خزانے کو کنگال کردیا اور نہ جانے اربوں کھربوں سمیٹ کر لے گئے اس کے بارے میں نیب کورٹس نے کیا فیصلہ کیا نیب کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا مگر ایک عوامی عدالت بھی لگنے والی ہے 25 جولائی کو عوامی عدالت لگنے والی ہے اور وہ عوامی فیصلہ اللہ کے فضل سے ثابت کرے گا کہ عوامی عدالت کا فیصلہ ٹھیک ہے اور عوامی عدالت کا فیصلہ نیب عدالت سے پوچھے گا۔

میں پاکستان کے ہر گلی اور کوچے میں جاﺅں گا اور جا کر اس زیادتی اور ناانصافی سے عوام کو آگاہ کروں اور 25 جولائی کو فجر کی نماز پڑھ کر عوام جائے گی اور اپنی گواہی ووٹ کی صورت میں دیں گے اور وہی اصل گواہی ہو گی۔ ہم اپنا مقدمہ عوام کی عدالت تو ہے لیکن اس ے بھی بڑی عدالت خدا کی عدالت میں رکھتے ہیں۔ وہاں ناانصافی اور انصاف کا فیصلہ آنا ہے وہاں بھی اس کا فیصلہ اس مالک نے کرنا ہے کہ کس نے ملک کی خدمت کی اور کس نے ملک کو لوٹا۔ کس نے اس ملک کا امن بشمول کراچی بحال کیایہ فیصلے عوام کریں گے لیکن خدا کی عدالت میں بھی اس کا فیصلہ ہو گا۔ ”کفن کی کوئی جیب ہوتی۔

یہ فیصلہ 25 جولائی کو عوام نے کرنا ہے۔ ووٹرزس نے کرنا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس صورتحال جو سامنے آئی ہے ہم تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کرے گے انصاف کے حصول کیلئے۔ مسلم لیگ ( ن ) کے جو ہمارے امیدوار ہیں جو اپنی مہم چلا رہے ہیں وہ اپنی بھرپور مہم چلائیں گے۔ اور مسلم لیگ ( ن ) کے تمام امیدوار اپنے جلسوں میں پر امن احتجاج کا ذریعہ بنائیں گے تاکہ پوری دنیا کو پتہ چلے کہ کیا انصاف کا پیمانہ یہی ہے کہ کیا تکڑی کا تول اور پیمانے الگ الگ ہیں۔ انصاف وہی ہوتا ہے جس کی پوری دنیا تائید کرے۔ اگر یہ سلیکشن ہے تو اس کو انصاف کا نام نہیں دیا جا تا۔ میں مسلم لیگ ( ن ) کے بہی خواہوں ساتھیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ عظیم پاکستانی ہیں آپ اس فیصلے سے دلبرداشتہ نہ ہوں۔

ہم نے بڑی عاجزی کے ساتھ ‘ محنت کر کے اس ملک کی خدمت کی ہے ۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ آج کوئی بدترین بھی ہمارا سیاسی مخالف ہمیں اس بات کو نہیں کہہ سکتا کہ 2013ءمیں نواز شریف نے جووعدے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے۔ ہم نے ملک سے اندھیرے ختم کر دئیے ‘ سی پیک کاقوم کو تحفہ دیا جب 25 جولائی کو رزلٹ آئے گا تو ثابت کرے گا کہ نواز شریف نے ملک کی بے لوث خدمت کی ہے۔ ہم قانون کے آگے سر جھکائیں گے اور ایسا انصادف ہونا چاہیے جو سب کیلئے برابر ہو۔ قانون ایک جابر اور محکموم کیلئے بھی برابر ہوتا ہے۔ انصاف سب کو ملناچاہیے۔

فیصلہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش ہے ۔ ہ فیصلہ انصاف کے حقوق کے منافی ہے ۔ ایک شخص جس کی اہلیہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو اس کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا گیا کیا یہی انصاف ہے۔ کیا یہی انسانیت ہے یہ ساری قوم کے سامنے رکھیں گے۔ ہم پورے پاکستان میں یہ پیغام پہنچائیں گے۔ اس ملک میں قانون کی حکمرانی کیلئے ‘ انسانی حقوق کیلئے اور انسانیت کے تقاضے پورے کرنے کا پیغام دیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ قرآن پاک کے حکم کے مطابق سب کے ساتھ انصاف ہو۔


ای پیپر