احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا تاریخی فیصلہ سنا دیا
06 جولائی 2018 (16:24) 2018-07-06

اسلام آباد: احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا کئی گھنٹے کی تاخیر کے بعد فیصلہ سنا دیا ‘مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کو 10 سال مریم نواز کو 7 سال قید‘ کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنا دی گئی.

عدالت میں غلط دستاویزات پیش کرنے پر مریم نواز شریف کو مزید ایک سال کی سزا ‘مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 8 ملین پاﺅنڈ ‘ مریم نواز کو 2 ملین پاﺅنڈ جرمانہ کی سزا بھی سنائی گئی‘لندن پراپرٹیز بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم ‘ مریم نواز 2018ءکے عام انتخابات کیلئے نااہل قرار دیدیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کو احتساب عدالت نے ایوان فیلڈ فیلٹس ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے ان پراپرٹیز کو بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے، احتساب عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد مریم نواز 2018ءکے عام انتخاابت کیلئے نااہل ہو گئیں جبکہ کیپٹن صفدر بھی الیکشن نہیں لڑ سکیں گے ‘ فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس 1993ءسے شریف فیملی کی ملکیت ہیں‘حسن اور حسین نواز کو غیر حاضری کے سبب سزا نہیں سنائی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چار بار فیصلہ موخر کرنے کے بعد ساڑھے تین بجے فاضل جج کمرہ عدالت میں پہنچے تو میڈیا نمائندوں کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا اور دعویٰ کیاگیا کہ بند کمرے میں فیصلہ سنانا شروع کردیا گیا تاہم اب عدالتی عملے نے تردید کردی اور کہاہے کہ دراصل فیصلہ نہیں سنا رہے بلکہ مشاورت جاری ہے تاہم اب فیصلہ سنا دیا گیاہے۔

عدالت سے نکالے جانے پر میڈیا کے نمائندوں نے احتجاج شروع کردیا اور موقف اپنایا کہ 9 ماہ تک اوپن ٹرائل ہوا ہے لیکن آج جب اس کا حتمی مرحلہ تھا تو بند کمرے میں فیصلہ سنایا جارہاہے۔ بعدازاں عدالتی عملے نے واضح کیا کہ فیصلہ نہیں سنایا جارہا بلکہ وکلا اور جج کے درمیان ڈسکشن چل رہی ہے ، عدالتی فیصلہ سناتے وقت میڈیا کو بھی بلا لیاجائے گا، اس وقت تک فیصلہ نہیں سنایا جارہا بلکہ مشاورت ہورہی ہے ، فیصلہ سنانے میں مزید تیس سے چالیس منٹ لگیں گے۔فیصلہ سنانے سے پہلے سکیورٹی آفیشلز نے سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جج محمد بشیر کو بتایا جس کے بعد انہوں نے عدالت میں آکر فیصلہ سنایا۔

فیصلے سے قبل ہی احتساب عدالت کا کمرہ نمبر ایک فیصلہ سننے والوں سے کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ مسلم لیگ ن کا کوئی بھی اہم رہنما فیصلہ سننے کیلئے عدالت نہ آیا۔ صبح جس وقت پہلی بار فیصلہ موخر کیا گیا تو اس وقت آصف کرمانی عدالت میں موجود تھے جبکہ جمعہ کے بعد ڈاکٹر طارق فضل چوہدری فیصلہ سننے پہنچے تھے۔دوسری جانب میاں نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس لندن میں بیٹھ کر سنا ۔ اس موقع پران کے صاحبزادے حسین نواز ، حسن نواز اور ان کی صاحبزادیاں مریم نواز اور اسما علی بھی موجود تھیں۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی فیصلے کے وقت ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں ہی موجود تھے ، وہ مریم نواز کے ہمراہ ایک ہی گاڑی میں بیٹھ کر اپارٹمنٹس پہنچے تھے۔


ای پیپر