حکمرانی کی ” لت “ اور عوام مسائل میں ” لت پت“
06 جولائی 2018 2018-07-06

لت ، بری عادت ، خو، اور خصلت کو کہتے ہیں، مگر جب حکمران کی لت ، عادت بن کا درجہ اختیار کر لے، تو پھر حکمرانی کی امید میں ، امیدوار نجانے عوام سے آسمان سے تارے توڑ کے لانے، اور لاکھوں گھر بنانے کے وعدے ، روٹی، کپڑے اور مکان کے نام پر حکومت کر جاتے ہیں، اور اَب پھر اُسی نعرے کو اپنے منشور میں شامل کرنے کی نوید سنوائی جا رہی ہے،

مغلیہ دور میں تو بادشاہوں نے ہزار برس تک بر صغیر پاک و ہند میں حکومت کر ڈالی، مگر اُس پچھلے دور میں کسی مغلیہ شہنشاہ نے عمرے یا حج کرنے کا فریضہ صرف اس لئے ادا نہیں کیا، کہ کہیں پیچھے ، بادشاہ کا بیٹا یا بھائی یا باپ تخت پر قبضہ نہ کر لے، حتیٰ کہ توکل کا یہ عالم تھاکہ اورنگ زیب عالمگیر ، جو ٹوپیاں سی کر تو گذارہ کرتا خیر اب تو خود سعودی بادشاہوں کا بھی یہی حال ہے،

چونکہ اُس زمانے میں دَست بدست لڑائیوں کا اندازِ جدال تھا، لہٰذا پچھلے دور میں بادشاہ، نواب، حتیٰ کہ جاگیر دار اور رﺅسا اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھتے تھے، اور اپنی جوانی کو دیر تک قائم رکھنے کیلئے خاصی رقم بھی خرچ کرتے تھے، ملک کے نامی گرامی حکماءاور طبیب ، اُن کے دربار سے منسلک ہوتے تھے، بلکہ یہ غارتِ خرم ترکی تک اور اسلامی ریاستوں تک پھیلی ہوئی تھی، بلکہ پھیلی ہوئی ہے، اور پائیزگی حرم کے موجب یہی شاہی حکیم ہوتے تھے اور اُن کے تعلقات خاص ، اور دسترس درگاہ براہ راست بادشاہوں کے ساتھ ہوتی تھی، سمجھانے کیلئے عرض ہے، کہ جیسے صدر زرداری کے شاہی حکیم رحمانی ملک ہیں، میاں نواز شریف کے پرویز رشید اور الطاف حسین کے فاروق ستار نباض بھی ہیں اور حکیم خاص بھی۔

بہر حال پرانے اطباءکا کچھ طریقہ کار اِس قسم کا تھا، کہ ان کے بنائے ہوئے ، کُشتے معجون اور تریاق ، خاص مدت تک اصیل مُرغ کو کھلائے جاتے تھے، اور یہ مدت مہینوں اور کئی ہفتوں پہ محیط ہوتی تھی۔ اس اثناءمیں مرغ کا خیال رکھا جاتا تھا، اور مقررہ اور معینہ مدت کے بعد مرغ ذبح کر کے ، بادشاہوں اور نوابوں کو کھِلا کر مطلوبہ نتائج حاصل کر لئے جاتے تھے، اِس طریقے سے ، خوراک کا اثر انہیں پہنچا دیا جاتا تھا، میرا خیال ہے کہ اس چیز کا خاص خیال رکھتے ہوئے دوائی کے اوپر بھی لکھ دیا جاتا ہوگا کہ ” عورتوں کی دسترس سے دور رکھیں“ ورنہ تو ۔۔۔۔

میری مرحوم پیر پگاڑہ سے اتنی شناسائی نہیں تھی، پچاس سال کی رفاقت کے بعد بیوی کو کیوں طلاق دی، اور بیاسی سال میں بچہ کیسے پیدا ہوا؟ نہ ہی دو چار ، پانچ ملاقاتوں کو میں جناب عزت مآب سردار محمد ذوالفقار علی خان کھوسہ صاحب، سابق گورنر پنجاب، اور دور موجود کے چھیاسی سالہ ” دولہا سے “ مراسم کا نام دے سکتا ہوں، میں تو عمران خان سے اُن کے خاندانی افراد کے راہ رسم ، اور بھائی چارے کو اپنے معاذ میں استعمال نہیں کر سکتا، ورنہ دوسری شادی کرنا، تو ہر مسلمان کا حق ہے اور میرا بھی جب سے برائلر مرغی ایجاد ہوئی ہے، لوگوں کی صحت پہ غیر محسوس طریقے سے تبدیلی آنی شروع ہو گئی ہے۔ کیونکہ مرغی کی خوراک ، جس طریقے سے بنتی ہے، اس میں مردار جانور اُن کا خون، اور دُنیا بھر کی آلائشیں شامل ہوتی ہیں، جو مرغی کھانے کی صورت میں انسانی جسم میں بڑی بیدردی سے منتقل کی جا رہی ہیں، چند ہفتوں کے اندر اندر مصنوعی خوراک اور دوائیوں سے مرغی کا گوشت ، بڑھانے ، اور چوزے کو جوان بنانے کیلئے غلط انجکشن بھی لگا دیے جاتے ہیں، جن کے کھانے سے بچوں میں ہارمون کی تبدیلی کے آنے سے مُنہ پہ بال آجاتے ہیں، اور لڑکیاں اور لڑکے بھی جلد ہی جوانی کو پہنچ جاتے ہیں، بلکہ بلا تفریق ایسا انصاف درس گاہوں کی دہلیز پہ ملنا شروع ہو جاتا ہے،

حکمران، مثلاً میاں نواز شریف ، شہباز شریف ، مصطفے کھر، عمران خان ، متوقع حکمران ولایتی مرغی کے قریب بھی نہیں بھٹکتے، مگر چونکہ سُنا ہے، یہ کاروبار بھی حمزہ شریف صاحب کا خاندانی کاروبار بن چکا ہے، شاید وہ اُن کے مسائل حل کرنے اُن کے پاس تو جاتے ہوں گے،

مگر افسوس تو اِس بات کا ہے ، کہ ہمارے ملک میں سارے عمران خان یا میاں صاحب تو ہیں نہیں، انہیں تو دو وقت کی روٹی بھی دستیاب نہیں، حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے مہنگائی کی وجہ سے ایک وقت کا کھانا بھی چھوڑ دیا ہے،

پچھلے برسوں تو یہ انکشاف ہوا تھا کہ ” برڈ فلو“ دیسی مرغیوں میں بھی آگیا تھا لیکن اِس کا کیا کیا جائے، گر دیسی مرغیوں کو بھی ولایتی والی خوراک دی جا رہی ہے، کہ یار لوگوں نے دیسی اور ولایتی کو پاکستان اور امریکہ کی دوستی کی طرح برابری کی سطح پر کھڑا کر کے کمال کر دیا ہے، اور اِس طرح سے شاید دیسی اور ولایتی کا فرق، ختم ہوتا نظر آرہا ہے،

سائنسی دنیا میں تجربات ہوتے ہیں۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض ملٹی نیشنل ادارے، کسی چیز کے حق اور مخالفت میں بیان شائع کرا دیتے ہیں مگر دیسی ، تو دیسی ہوتا ہے، جیسے آج کل ڈالڈا ، یا کسی بھی آئیل کی بجائے دیسی گھی کو اب ڈاکٹر بھی ترجیح دینے لگے ہیں، کیونکہ یہ جسمانی درجہ حرارت کے ساتھ پگھل جاتا ہے جبکہ دوسرا گھی بالکل جم جاتا ہے، اور اس کا تجربہ تو قارئین آپ اپنے گھر میں بھی کر سکتے ہیں، دَراصل روغنیات کو تکمیل کے آخری مراحل سے پہلے کے کیمیکل سے گذارنے کیوجہ سے ذیابطیس ، بلڈ پریشر، اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں کو والہانہ دعوت دی جاتی ہے، اسی طرح ہماری سبزیوں پہ و دوائیاں چھڑکی جاتی ہیںوہ دوسرے مہذب ملکوں میں اور خصوصاً امریکہ میں بند کر دی گئی ہیں، لیکن وہ ظالم لوگ یہی دوائیاں بین شدہ اور انسانی فلاح کے دعویدار کِس قدر گھناﺅنے کردار کے مالک ہیں۔

مگر شاید اس ظلم میں ہم بھی برابر کے حصے دار ہیں، کئی سال پہلے آسٹریلیا سے جو بیمار بھڑیں ( ہمارے عوام کی طرح) لاد کر جنہیں کوئی بھی ملک لینے کو تیار نہیں تھا، صوبہ سندھ کے خورشید شاہ صاحب، جو دعویٰ حکمرانی کرتے ہوئے کہتے ہیں ، کسی نے ترقی دیکھنی ہے تو میرے حلقے یا میرے صوبے میں آکر دیکھے، ان بھیڑیوں کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے خوش آمدید کہا تھا،

مگر بھلا ہو، میڈیا اور ہمارے باضمیر صحافیوں کا ، جنہوں نے حکمرانوں کا جینا دوبھر کر دیا، اور پھر اُن بھیڑوں کو ”طریقہ نازی “اپناتے ہوئے تلف کر دیا گیا،

غرضیکہ ایک طرف تو ہماری قوم ہے کہ خود کشیوں کے دور میں جس کا رشتہ جسم و جاں بر قرار رہنا مشکل ہو گیا ہے، مگر اِسی غریب مُلک کے صوبے میں نت نئی فوڈسٹریٹ کی بھر مار ہوتی جا رہی ہے،

بحیثیت مجموعی ، ہمارے ہاں میانہ رو کی کمی، اور انتہا پسندی ہماری رگ و پے میں بُری طرح سرایت نہیں پیوست ہوگئی ہے، ہماری حکمرانی بلکہ معاشرتی پالیسیوں میں حقیقت پسندی کا شائبہ تک نہیں ہوتا، کھانے کی چیزوں کو جُوتے سے تشبیہ دیکر چپلی کباب، چھتر کباب کا نام رکھ دیا گیا، اور شاید کسی کے ، چھولے گوالمنڈی میں کیچڑ میں گر گئے ہونگے، تو نام کیچڑ چھولے رکھ دیا گیا، یہودی ہمارے رسول کو طعنےٰ دیتے تھے کہ آپ کا کیا مذہب ہے، جو انسانی روز مرہ کے معمولات میں بھی دخل اندازی کرتا ہے؟ تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، کہ میں اپنی اُمت کا والد کی طرح خیال رکھتا ہوں، اور ان کا فرمان ہے کہ کم کھایا جائے، اور کم سویا، اور کم بولا جائے،

بادشاہوں کے بادشاہ اور شہنشاہ لولاک کی عادتِ مبارکہ تھی، کہ جب کِسی دعوت میں تشریف لے جاتے تھے، اور زیادہ کھانے اور پکوان موجود ہونے کے باوجود وہ صرف ایک ہی کھانا، کھانے کو ترجیح دیتے، دُوسرے لفظوں میں وہ صرف ” سنگل ڈش“ پسند فرماتے تھے، مگر ہم نے تو عید الالضحی کا نام بکرا عید رکھ کر بکرے کو سر سے لیکر پاﺅں تک ضائع نہیں ہونے دیتے، اور نہ ہی مکرو و ممنوع کو خاطر میں لاتے ہیں۔

ویسے قارئین بات بڑھ نہ جائے، میں خود بھی ایسے ہی کرتا ہوں، کیونکہ آپ صبح سے شام تک جو بھی چینل کھولیں، تو ہر جگہ انواع و اقسام کے کھانے پکانے کی ترکیبیں سکھائی جا رہی ہوتی ہیں۔ اور نیچے خبر چل رہی ہوتی ہے، کہ غربت سے تنگ آکر ، پانچ بچوں کی ماں بچوں سمیت نہر میں ڈوب گئی، یا بچوں کو عید پہ جوتے نہ دینے کی وجہ سے غریب باپ پنکھے سے جھول گیا۔۔۔۔ جبکہ کھانے کی ترکیبیں بتانے والا ، اِب تو حالتِ وجد میں محورقص بھی ہو جاتا ہے،

مختصر یہ کہ کفایت شعاری اپناتے ہوئے ہمیں اعتدال پسندی، کی راہِ مستقل بنیادوں پر اپنانی چاہئے، اور رُسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ، کسی بندے سے محبت کرتا ہے، تو اُسے زیادہ کھانے سے بچاتا ہے، شاید اللہ تعالیٰ کا فرمان، پاکستان میں اِس طرح سے پورا ہوتا نظر آتا ہے، کہ ہمارے عوام ، حکمرانوں کی وجہ سے مسائل سے بھی لت پت ہیں، اور کیچڑ میں بھی لت پت ہیں۔


ای پیپر