الیکشن اور ادبی حلقے
06 جولائی 2018 2018-07-06

ہم نے اپنے ایک شاعر دوست (ب )سے پوچھا کہ اس بار ووٹ کسے دے رہے ہو؟ کہا : کیا آپ نے تحریک لبیک والا کلپ دیکھا ہے جس” میں تحریک لبیک کی حکومت آنے پر ہر شخص پر چار شادیاں فرض کی جائیں گی۔“

شمار صاحب ! میں تو تحریک لبیک والوں کو ہی ووٹ دینے کا ارادہ رکھتا ہوں تاکہ ان کی حکومت بنے اور معاشرے سے بے حیائی کا خاتمہ ہو سکے۔میں نے تو رشتے بھی دیکھنا شروع کر دیے ہیں۔جیسے ہی تحریک لبیک کا وزیر اعظم حلف اٹھائے گا اور آرڈر کرے گا ،میں شادیاں رچا لوں گا۔اب اِس عمر میں، اس سے زیادہ تو میں وطن عزیز کی خدمت نہیں کر سکتا ۔۔۔“

ہم نے الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہا تو جھٹ بولے :” یار بعض لوگ توالیکشن کے انعقاد پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں ، مجھے تو الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر بھی کچھ عجیب سا گمان ہونے لگا ہے۔کسی حلقے میں ایک امید وار کے کاغذ درست ہوتے ہیں تو وہ دوسرے حلقے میں نا اہل ہوجاتا ہے۔یہ کیسا فیصلہ ہے؟ میں تو کہتا ہوں ایک امید وار صرف ایک حلقے سے الیکشن لڑے تاکہ ضمنی انتخابات میں قوم کا پیسہ ضائع نہ ہو۔آج تو نیب چیئر مین کے تازہ بیان پر بھی مجھے حیرت ہو رہی ہے ،فرماتے ہیں : ” الیکشن تک کسی امید وار کو گرفتا ر نہیں کیا جائے گا، ہے ناں عجیب و غریب فیصلہ۔ بھلا قانون کا کیا کا م کہ وہ انصاف کرنے کے علاوہ دیگر معاملات کو بھی مد نظر رکھے۔مجرم تو مجرم ہوتا ہے،اگر کسی کے خلاف کرپشن کا معاملہ ہے تو اس کی تحقیق کر کے پہلے سزا دی جائے۔ الیکشن کے بعد تو امید وار جیت کر مزید ترو تازہ ہو جائیں گے۔لہٰذا ضروری ہے کہ الیکشن سے پہلے امیدواروں کو اچھی طرح ” سکین “ کیا جائے۔تبھی قوم کو دیانت دار ،صادق اور امین قیادت میسر آئے گی۔

دوسری بات یہ ہے اگر الیکشن تک کسی امید وار کو گرفتار نہیں کر نا تو پھر مریم نواز کو بھی گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔میں نے شاعر دوست سے کہا : ”یار آپ نے تو سیاست ہی شروع کر دی ہے، کوئی ادبی صورتحال پر بھی روشنی ڈالو۔“ جھٹ جیب سے نیا سگریٹ سلگایا اور لمبا سا کش لے کر فرمایا : برادر ! یہ نفسا نفسی کا دور ہے ،ادیب شاعر بھی بہت جلدی میں ہیں۔وہ راتوں رات مشہور ہو کر عطا الحق قاسمی بننا چاہتے ہیں۔

ہاں یا ر یاد آیا قاسمی صاحب کے کیس کی سناﺅ ان دنوں ادبی حلقے اس کیس کے بارے میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں وجہ یہ ہے کہ قاسمی صاحب ہمارے قبیلے کے فرد ہیں۔ ویسے ایک بات کہوں ، ہمارے ہاں زیادہ تر ادیب منا فقت کا شکار ہیں۔ آج تو قاسمی صاحب کے دستر خوان پر نظر آنے والے بھی کئی دبی دبی ہنسی میں مقدمے کی روداد پر کمنٹ کرتے ہیں۔ بھئی میں تو کہتا ہوں،جوبھی ہے ،یہ زیادتی ہے کہ ایک تخلیق کار کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔عطاالحق قاسمی کا موقف یہ ہے کہ ان کے پروگراموں کے اخراجات بھی ان کے کھاتے میں ڈال دئےے گئے ہیں۔ خیر کچھ بھی ہوانصاف ہونا چاہیے۔ ابھی یہ باتیں جاری تھیں کہ ہمارے دوست کو غالباََگھر سے فون آگیا ورنہ وہ بات مکمل کئے بغیر اجازت نہیں لیتے۔ سو تیزی سے ہاتھ ملا کر رخصت ہو لیے۔

چلتے چلتے اب کچھ ادبی خبروں کا ذکر ہو جائے :سرگودھا سے نوجوان شاعر سید عمران نقوی کا شعری مجموعہ ”میثاق محبت“ موصول ہوا۔چھوٹی بحر میں بہت خوبصورت غزلیں اس میں دیکھی جاسکتی ہےں۔مضافات میں کئی نوجوان شعراءاچھی شاعری کر رہے ہیں عمران بھی ان میں سے ایک ہے ۔بہت دنوں بعد اظہر جاوید کا ادبی جریدہ تخلیق موصول ہوا ۔کھولتے ہی اظہر جاوید کی یادیں آنکھوں میں جھلملانے لگیں۔بھگوان سٹریٹ اظہر جاوید کے دم سے آباد تھی۔بعض لوگ انہیںادب کا بھگوان بھی کہتے تھے۔سونان اظہر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ باپ کے راستے پر چلتے ہوئے خسارے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔لاہور کے دیگر باقاعدگی سے موصول ہونے والے ادبی جرائد میں ادب دوست،الحمرا ،فانوس،بیاض اور مکالمہ شامل ہیں۔سالانہ ادبی پرچوں میں لوح اور تسطیر اسی آب و تاب سے شائع ہورہے ہیں ۔ممتاز شیخ لوح نکالتے ہیں جبکہ نامور اور ہمارے پسندیدہ شاعر نصیر احمد ناصر تسطیر شائع کرتے ہیں ۔اس کا انصرام گگن شاہد اور امر شاہد کے پاس ہے۔ایسے ضخیم ادبی جرائد، ادب سے جنون کی حد تک لگاﺅ رکھنے والے ہی شائع کر سکتے ہےں۔ہم نے ابھی تسطیر کا حصہ غزل ہی مکمل کیا ہے۔ غزل نگاروں کی ایک کہکشاں” تسطیر “میں دمکتی نظر آتی ہے۔ظفر اقبال،نصیر احمد ناصر،انوار فطرت،نسیم سحر،اشرف جاوید،سے لے کر نسیم سکینہ صدف تک نئے پرانے شعراءایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔چند اشعار دیکھئے :

کبھی کبھار کی یہ گفتگوبھی دم بھر کو

فقیر کے لےے خیرات کے برابر ہے

یہ اتنی دور سے رکھنا مری خبرہر دم

تمام تیری کر امات کے برابر ہیں

ظفر اقبال

بونوں کے درمیاں میں کسی پر نہیں کھلا

قد کے سوا مرا کوئی جوہر نہیں کھلا

انور فطرت

ایک چراغ کو ایک ستارہ میں نے کیا

تم کو خیر اک دوسری بات بتانی ہے

سید کامی شاہ

ہنسنے کو صرف ہونٹ ہی کافی نہیں رہے

جواد شیخ ! اب تو کلیجہ بھی چاہےے

جواد شیخ

وہ تو شریک خواب گری تھے نہ خواب گر

جن پر پڑا ہے رات کا ملبہ تمام دن

خمار میر زادہ

نظر نظر جو تھپیڑوں سے اٹ گئے تو کھلا

یہ بند کھڑکی خبر ناک استعارہ تھا

یاسر اقبال

مدتوں بعد ہنسا ہوں سو تذبذب میں ہوں

یہ جو آواز سی آئی ہے ہنسی ہے کہ نہیں ہے

سعید شارق

آنے جانے کی سب کو جلدی ہے

کوئی رکتا نہیں اشارے پر

نصیر احمد ناصر

چڑیوں کی بولنے کی صدائیں تھی وہ نسیم

اور میں سمجھ رہا تھا سریلا درخت ہے

نسیم سحر

جو بن پہ ہوئی گرمیِ بازار ٹھہر جا

ہیں دست و گریبان خریدار ٹھہر جا

اشرف جاوید

عقیدتوں کی روشنی خدا کرے بڑے یونہی

یہ نفرتوں کی آگ تو ہمارا خون جلا گئی

شاہدہ تبسم


ای پیپر