Pakistan, Overseas Alliance Forum, Athens, Aegean Sea, Penarrubia, Dr Zahid Munir Amir
06 جنوری 2021 (12:29) 2021-01-06

ہم خلقیدہ میںایجین کے کنارے محوِخرام رہے تھے وہاں سے چل کر شام کو ایتھنز کے جس پنج ستارہ ہوٹل میںپہنچے وہ بھی ایجین ہی کے کنارے واقع تھا ۔ Penarrubia نامی اس ہوٹل کے عقبی دیار میںٹھاٹھیں مارتا ایجین پھیلا ہوا تھا۔ یہاں پاکستان اوورسیز الائنس فورم یونان کی جانب سے ہمارے لیے استقبالیہ ترتیب دیاگیاتھا ۔راقم کو اس استقبالیے سے خطاب کی دعوت بھی دی گئی ۔کسی تقریرکا خیال تھا نہ کوئی موضوع مقررتھا۔راقم نے یہاں برجستہ جن خیالات کا اظہارکیا وہ خوانندگان کرام کی خدمت میں پیش کیے جارہے ہیں:۔

ایجین سی ((Aegean Seaکے منظر نے مجھے اقبال کی بے مثال نظم ’’تنہائی‘‘ کے اشعار یاددلادیے جس میں وہ اپنے سوالات لے کرمختلف مظاہرفطرت کے پاس جاتاہے اور ان سے جواب کا طالب ہوتاہے لیکن اسے کہیں سے بھی اپنے سوالات کا جواب نہیں ملتا۔ آخرآخر وہ اپنے سوالات کے ساتھ حضرت یزداں کے حضور حاضر ہوتا ہے لیکن یہاں بھی اسے تبسمِ لب کاسامنا ہوتاہے …تبسمی بہ لبِ اورسیدوہیچ نگفت… سمندر کے پاس جاکر جوسوال اس نے پوچھاہے وہ بڑا عجیب ہے۔ وہ کہتاہے کہ میں سمندر کے پاس گیا اور اس میں تڑپتی ہوئی موج سے کہاکہ تم ہمیشہ کسی کی تلاش میں رہتی ہو، آخر تمہیں کیا مشکل درپیش ہے اور تمہیں کس کی تلاش ہے؟ جب کہ تمہارے اپنے گریبان میں ہزاروں لولوئے لالہ پوشیدہ ہیں ؟…پیشتراس سے کہ موج کی جانب سے اس سوال کا کوئی جواب ملے، شاعراس سے یہ بھی پوچھتاہے کہ یہ تو بتائو کہ کیا تمہارے سینے میں بھی میری طرح دل ہے ؟ موج ،شاعر کا سوال سن کر تڑپ اٹھتی ہے لیکن اس سوال کاجواب دینے کے بجائے وہ ساحل سے دور بھاگ جاتی ہے۔

بہ بحر رفتم وگفتم بہ موجِ بیتابی

ہمیشہ در طلب استی چہ مشکلی داری

ہزارلولوئی لالاست درگریبانت 

درونِ سینہ چومن گوہردلی داری

تپیدواز لب ساحل رمید و ہیچ نگفت 

اسی موج کو اپنے تحرک کے تصور کی علامت بناتے ہوئے یہ بھی کہاہے کہ ایک تیز رفتار موج نے تڑپ کرکہاکہ میں جب تک متحرک ہوں تو اس وقت تک زندہ ہوں جب مجھ میں سے تحرک ختم ہوجائے گا تو میں باقی نہیں رہوں گی یعنی زندگی تحرک کانام ہے مسلسل آگے بڑھنے کانام ہے اگر آپ متحرک ہیں تو زندہ ہیں اور اگر متحرک نہیں ہیں تو زندہ نہیں ہیں۔

دوسری نظم جو مجھے یہاں یاد آرہی ہے مولانا ظفرعلی خان کی ہے۔ وہ جب ۱۹۱۲ء میں یورپ کے سفر پر گئے تو انہوں نے پہلی بارسمندرکو دیکھا۔یہ زمانہ تھا جب انڈین پریس ایکٹ نے ان کااخباربندکردیاتھا اور وہ ہندوستان سے نکل کراس پریس ایکٹ کے خلاف مہم چلانے کے لیے برطانیہ چلے گئے تھے۔اس سفر میں انہوںنے بحرہند، بحرقلزم، اور بحیرئہ روم وغیرہ دیکھے ۔اس تجربے نے ایک نظم کو جنم دیا جسے انہوںنے ’’تخیل کی جولانی اور سمندرکی روانی‘‘ کہا ہے …اسی نظم کے اشعار اس وقت میرے دردل پر دستک دے رہے ہیں۔

اے محیط بے کراں اے بحر ناپیداکنار

تیری یکتائی ہے نقشِ رحمتِ پروردگار

تیرے عارض پر جمال اس کا فروغ افشاں کبھی

اور جلال اس کا کبھی تیری جبیں پر جلوہ بار

یہ جو تیری بے کرانی ہے، یہ جو تیری انفرادیت ہے کہ تاحدِنظر سمندرہی سمندر دکھائی دیتاہے، یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا ایک بہت بڑا نقش ہے۔ تو پرسکون ہو تو یوں ہے کہ تیرے رخساروں پر جمال الٰہی جلوہ فگن ہے اور جب تیری لہریں جوش میں آجائیں تو 

پھر اس کے غصے اور غضب کا اظہارہوتاہے… توایجین سیAegean Sea) (کو دیکھ کرمیرے ذہن میں مختلف خیالات کے سلسلے ابھرنے لگے ہیں ۔ابھی ہم خلقیدہ سے آئے ہیں وہاں بھی یہ سمندرموج زن ہے،وہاں میں نے ایک عجیب منظردیکھاکہ اس سمندر میں پانی کے درمیان ایک حد فاصل ہے، اس حدکے ایک جانب پانی ایک سمت میں رواں ہے تو دوسری جانب پانی کی سمت بالکل برعکس ہے ،یہ ایک عجیب و غریب منظر ہے …مجھے یادآرہاہے کہ میں نے کہیں پڑھاتھاکہ جب مصر فتح ہوا تو جناب عمروؓبن العاص نے پہلی دفعہ اسکندریہ میں سمندر دیکھا تو انہوں نے حضرت عمرؓ کو خط لکھا کہ اب آگے کیا کروں یعنی وہ وہاں سے فتح کرتے ہوئے اسکندریہ تک پہنچ گئے تھے ۔ آگے سمندر تھا تو انہوں نے پوچھا اب کیا کروں؟ امیرالمومنینؓ سے ہدایات طلب کیں، پیچھے ہیڈآفس سے ،تو حضرت عمر ؓ نے بھی غالباً کبھی سمندر نہیں دیکھا تھا، انہوں نے جواباً لکھا کہ مجھے بتائو وہ ہے کیا ؟ ہوتا کیسا ہے سمندر تو پھر انہوں نے سمندر کی تعریف کی ۔ حضرت عمروؓ بن العاص نے خط میںبتایا کہ سمندر ایک بہت بڑی مخلوق کانام ہے جس کی سطح پر انسان اس طرح دکھائی دیتا ہے جیسے درخت کے تنے پر چیونٹی چونکہ انہوں نے دیکھا نہیں تھا کہ سمندر کتنا بڑا ہوتا ہے تو سمندر کے کنارے بیٹھ کر مجھے یہ خیال آتا ہے کہ سمندر میںکتنی لہریں ہیں لیکن ایک لہر جو اس وقت یہاں سے گزر رہی ہے وہ دوبارہ کبھی نہیں آئے گی۔ وہ ہمیشہ کے لیے گزررہی ہے حالانکہ اس کے اندر بے شمار لہریں ہیں۔ بحر ناپیداکنار ہے، کنارہ کوئی نظر نہیں آرہا، تو لہروں کا کیا حساب لیکن ہر ایک لہر جو ایک بار گزر رہی ہے وہ دوبارہ قیامت تک کبھی نہیں آئے گی چاہے آپ سارا سمندر الٹا کر بہادیں پھر بھی وہ جب گزرے گی تو وہ ایک اور لہر ہوگی ،وہ پہلے والی لہرنہیں ہوگی، تو یہی وقت کاحال ہے کہ جو لمحہ گزررہا ہے ،جو دن گزررہا ہے وہ آخری مرتبہ گزررہا ہے، یعنی آج جو دن طلوع ہوا ہے، یہ اب دوبارہ تو کبھی طلوع نہیں ہوگا یعنی اکتوبر کایہ دن ،آج کیا تاریخ ہے …؟آج ۱۳؍اکتوبر ۲۰۱۸ء ہے تو نہ ۲۰۱۸ء کبھی پلٹ کرآئے گانہ ۲۰۱۸ء کااکتوبر کبھی آئے گا اور نہ ۲۰۱۸ء کے اکتوبر کی ۱۳؍ تاریخ کبھی دوبارہ آئے گی ۔ اکتوبر آئے گا لیکن وہ تو ۲۰۱۹ء کاآئے گا، ۲۰ء کا آئے گا، ۲۱ء کاآئے گا۔ ۱۳؍تاریخ آئے گی لیکن وہ اگلے مہینوں، اگلے سالوں کی آئے گی ۔ ۱۳؍اکتوبر ۲۰۱۸ء تو اب کبھی نہیں آئے گا۔ تو یہ ملاقات جوآج اس وقت یونان کے اس سمندر کنارے ہورہی ہے تو ہمارا یہ ملنا جو ہے، ہماری ہرملاقات جو ہے، خواہ کیسی ملاقات ہی کیوں نہ ہو، وہ آخری ہوتی ہے۔ اس لیے کہ آج کے بعد تو یہ ملاقات دوبارہ نہیں ہوگی ۔ جو ہوگی وہ دوسری ملاقات ہوگی، تو ہر گزرتا ہوا لمحہ جو ہے وہ یہی پیغام دے کر جارہا ہے کہ زندگی میںسے آج کا دن نکل گیا ہے۔ اب آپ اس لمحے کو دوبارہ پکڑ نہیں سکتے۔ کل اگر ہم بیٹھ جائیں، یہی سمندرہو، یہی کنارہ، ہو یہی ہوٹل ہو،یہی وقت ہوتو یہ ۱۴؍اکتوبر ۲۰۱۸ء کی ملاقات ہوگی۔ اس لیے جو دن گزررہا ہے وہ آخری بار گزررہا ہے ۔کچھ کرلیا تو ہمارا ہے اگر ہم نے اس لمحے کو تسخیر نہیں کیا تو وہ ضائع ہوگیا ،تو وہ لمحہ تسخیر کیسے کیاجاسکتاہے …؟ گزرتے ہوئے لمحے جوہیں گزرتے ہوئے ایام جو ہیں انہیں تسخیر کیسے کیا جا سکتا ہے…؟ وہ کوئی ایسا کام کر کے تسخیر کیا جاسکتا ہے جو آپ کی کلغی میں ایک نئے پر کی حیثیت رکھتاہو۔ جوآپ کی ایک نئی کامیابی ہو۔ اگر آج کے دن میں آپ نے ایک نئی کامیابی حاصل کر لی تو پھر آپ کایہ دن محفوظ ہوگیا۔ پھر دن ضائع نہیں گیا ۔اسے آپ کسی بھی زمانے میں پلٹ کردیکھیں گے تو اپنی اس کامیابی کی شکل میں محفوظ پائیں گے۔ تو اس لمحے کومحسوس کرنا، وہ لمحہ جوگزررہا ہے اسے محسوس کرنا، اس کی قوت کو محسوس کرنا،اسے محفوظ کرنا یہ انسان کی کامیابی کاپہلاقدم ہے ۔ اس لیے کہ وہ لمحہ آخری بارگزررہاہے، وہی جو پہلی بار گزررہاہے وہ آخری بار بھی گزررہاہے…

کب لمحۂ سفاک تجھے تاک لے راشد

سو لمحۂ موجود میں موجود رہا کر

تولمحۂ موجود میں موجودرہیں ۔ یہی افراد کی ترقی کاراز ہے یہی قوموں کی ترقی کا راز ہے یعنی وہ قومیں جو صرف ماضی کی عظمت کی کہانیاں بیان کرتی ہیں…… ہم ایسے تھے، ہم ویسے تھے، ہمارے بزرگ ایسے تھے تو وہ کچھ بھی نہیں کرپاتیں اوروہ جو مستقبل کے سہانے سپنے ہی دیکھتے رہتے ہیں وہ بھی کچھ نہیں کرپاتے جو خواب ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ کامیاب تو وہ ہوتا ہے جوماضی اور مستقبل کے بجائے حال میں موجود رہتا ہے ۔ آج کے تقاضے کو محسوس کرتے ہوئے آج کے مطالبے کومحسوس کرے ۔آج کی دنیا کو دیکھے۔ آج کی دنیا کو سمجھے۔ آج کی دنیا کے مطالبوں کا جواب دے ۔ جوماضی میں ہے وہ پیچھے رہ گیا جو مستقبل میں ہے وہ ایک تخیلاتی دنیا میں ہے۔ نہ ماضی آپ کی دسترس میں ہے کیوں کہ آپ پیچھے تو جانہیں سکتے نہ مستقبل آپ کی دسترس میں ہے۔ آپ ماضی کو تھام سکتے ہیں نہ مستقبل کو پکڑ سکتے ہیں۔وقت کا پہیہ الٹا نہیں گھمایاجاسکتااسے آپ فارورڈ بھی نہیں کرسکتے یہ تو اپنی ہی ڈگر پر چلتا ہے، اس لیے یہی آج کا دن ہی آپ کی دسترس میں ہے۔ نہ ماضی آپ کا ہے نہ مستقبل آپ کا ہے۔ آپ کا تو آج ہے۔ آج کا دن ، آج کا لمحہ اس لیے کہ اگلے لمحے کا تو پتا کچھ نہیں ہے ۔ (جاری ہے)


ای پیپر