Man, word, emotion, feeling, Allah, Pakistan, Dr. Azhar Waheed
06 جنوری 2021 (11:59) 2021-01-06

لغت میں ہم مترادفات و متضادات تلاش کرتے رہتے ہیں لیکن انسانوں کی طرح ہر لفظ یکتا و منفرد ہے۔ کوئی لفظ کسی کا ہم شکل نہیں ہوتا ، اس لیے ہم معنی نہیں ہوتا ہے۔ انسان کی طرح ہر لفظ بھی ایک الگ جذبے اور احساس کی نمائند گی کرتا ہے۔ اُنسیت ، دوستی، اُلفت، محبت اور پھر عشق ایسے الفاظ کو ہم عام طور مترادفات کے طور پر بے دریغ استعمال کرتے رہتے ہیں لیکن خدا گواہ ہے‘ ہر لفظ ایک الگ جہان کی خبر دیتا ہے۔ راہِ عشق کے مسافروں سے پوچھیں تووہ کسی وضاحت کے بغیر حیرت میں گم مسکرا دیتے ہیں یا پھر لفظوں کی اِس بے حرمتی پر رو پڑتے ہیں۔ انسان فطری طور پر نرگسیت پسند واقع ہوا ہے‘ وہ اپنے احساس کے لیے بلند آہنگ لفظ کا انتخاب کرتا ہے اور پھر باقی عمر اُس کی وضاحت میں گزار دیتا ہے۔ ہمیں کسی کے ساتھ معمولی سی اْنسیت بھی ہو‘ تو ہم ٹھک سے اور دھک سے اپنے نوزائیدہ جذبے کیلئے عشق و محبت سے کم کسی لفظ کا انتخاب نہیں کرتے۔ 

یہی حال عزت اور شہرت ایسے الفاظ کا ہے۔ یہ ہم معنی ہیں‘ نہ ہم مرتبہ و ہم مآل!!  شہرت کا تعلق ظاہر ہے اور عزت کا تعلق باطنی نظام سے ہے۔ شہرت کی چکا چوند اَسباب کی محتاج ہے اور اَسباب  کے مدھم ہوتے ہی شہرت کا ستارہ غروب ہو جاتا ہے۔ شہرت بے تعلق ہوتی ہے، عزت تعلق والوں کے ہاں ملتی ہے۔ شہرت ایک خیرات کے طور پر بھی میسر آ جاتی ہے، عزت خیر ہے، سرتاپا خیر! شہرت میں شر کا  پہلو بھی برآمد ہو سکتا ہے، عزت ہمیشہ خیر کا پیغام لے کر آتی ہے۔ شہرت میں مقابلہ ہے، مجادلہ ہے اور پھر انجامِ کار مقاتلہ ہے۔ شہرت میں نمبر وَن اور ٹو کی جگہ پانے کیلئے کل وقتی مسابقت ہے، سیاست اور دولت کا بے دریغ استعمال ہے۔ عزت کے مقامات کیلئے کوئی مقابلہ نہیں۔ عزت تو ایک عطا ہے، رب العزت کی خاص مہربانی اور فضل ہے۔ شہرت ناقابلِ اعتبار ہے ، ناپائیدار ہے … ناپید ہو جاتی ہے۔ شہرت کا کچھ بھروسہ نہیں‘ کب گمنامی کا گھاس پھونس بن جائے اور کب عبرت بن کرٹھہرجائے۔ عزت پائیدار ہے، قابلِ اعتبار ہے، معتبر ترین اثاثہ ہے… عزت والوں کے ہاں قابلِ پذیرائی ہے۔ عزت میں ہمیشگی کا پہلو ہمیشہ نمایاں ہوتا ہے۔ 

 عزت کا تعلق دل کی دنیا سے ہے‘جہاں کسی کا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں۔سچ پوچھیں‘ تو عزت کسی کمال کی  محتاج نہیں، وہ عزت پہلے دیتا ہے اور کمال بعد میں عطا کرتا ہے۔ عالم ِ اَسباب میں یہ بلاسبب میسر آنے والی نعمت ہے۔عزت کا تعلق دولت سے ہے ‘ نہ حکومت سے اور نہ کسی منصب و صلاحیت سے!! ہاں ! عزت کا تعلق حکومت سے ضرور ہے لیکن وہ دلوں پر حکومت ہے۔ سب سے 

بڑی معزولی تو دلوں سے معزول ہونا ہے۔  

عزت تو ایک اَمرہے ‘ جو دِلوں پر نافذ ہوجاتا ہے۔ مخلوقِ خدا کو حکم ہوتا ہے کہ اِس بندے کی عزت کی جائے، یہ آسمانی حکم نامہ ایک  غیر محسوس طریق پر مخلوق کے دلوں میں راتوں رات بھیج دیا جاتا ہے۔ ہو نہ ہو‘ یہ ولایت ہی کی کوئی قسم ہو!! خدائی رازوں میں ایک راز ہے ‘ جس کانام عزت ہے،عزت اتنا بڑا راز ہے کہ وہ ذات اپنی عزت کی قسم کھاتی ہے۔

عزت ایک انعام ہے‘ یہ رب تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عطا کر تاہے…یہ عزت کا پیغام کسی وائرلیس سگنل کی طرح مخلوقِ خدا کے دلوں میں پہنچ جاتا ہے، لیکن ہر دل یہ سگنل موصول نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے خاص بندوں کی عزت اپنے خاص بندوں ہی کے دلوں میں ڈالتا ہے۔ وہ اپنوں کو اپنے غیر سے متعارف نہیں ہونے دیتا ہے، اور نہ کسی غیر ہی کو اپنوں کا عارف بناتا ہے۔ وہ اپنے مخصوص بندوں کی عزت اپنے مختص شدہ دلوں میں القا کرتا ہے۔ عزت شہرت کی طرح شاہراہِ عام نہیں۔عزت وہ راستہ ہے جو صرف ایک مخصوص گھر کو جاتا ہے۔اس گھر کی نسبت‘ نسبت والوں کوخوب معلوم ہے!!

عالمِ اسباب میں صبح و شام بسر کرنے والوں کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ بلاسبب کوئی واقعہ کیسے رونما ہو سکتا ہے۔ انسان کی خوئے عقل ہر بات کی توجیہہ چاہتی ہے۔ یہ وہ راز ہے ‘ جو تسلیم کو تحقیق سے جدا کرتا ہے۔ تحقیق کسی سبب کے نتیجے یا کسی نتیجے کے سبب تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا دائرہ عالمِ صفات ہے، یہی شش جہات ہے۔ عزت کا راز تسلیم والوں پر کھلتا ہے۔تسلیم کا انتساب ذات اور فقط ذات ہے۔ اُس کا کوئی نام بھی ہو ‘ وہ ہر نام سے اُسی ایک ذات تک پہنچتی ہے، ہر صفاتی نام اسے ذاتی تعارف تک ہی لے کر جاتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں، اور وہ کہہ سکتے ہیں… اللہ ذات ہے اور بندہ مظہر ِصفات…اگر صفات ذات تک نہ لے کر جائے تو کہانی راستے میں اْلجھ کر رہ جاتی ہے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں: 

آدم کے کسی روپ کی  توہین نہ کرنا

پھرتا ہے زمانے میں خدا بھیس بدل کر

تسلیم انسان کو ذات آشنا کرتی ہے ، مزاج آشنا کرتی ہے بلکہ مشیت آشنا کرتی ہے۔ وہ ذات جب چاہے ، جس کو چاہے نوازے۔ اَسباب و نتائج کی کڑیاں جوڑنے والے سر جوڑ کر بیٹھے رہیں‘ کس کو کیا سے کیا کردیا اور… کیوں کر دیا؟  فضل ، رحمت ، شفا اور شفاعت استثنیات میں سے ہیں…یہ آسمانی حقیقتیں قاعدے کلیے اور عقل کے نصاب میں شامل نہیں!!

بر سبیلِ تذکرہ‘ برادرم محمد یوسف واصفی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اِس آیت کی تلاوت کے دوران میں معانی کی تفہیم میں الجھ گئیـ’’ وتعز من تشاء و تذل من تشاء‘‘(وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے)۔کہتے ہیں‘  میرا ذہن اِس بات میں اُلجھ گیا کہ عزت اور ذلت کا کوئی سبب ہونا چاہیے ، یہ بات دل کو لگتی ہے لیکن عقل کیلئے یہ تسلیم کرنا دشوار ہے کہ بغیر ’’میرٹ‘‘ کے عزت اور بغیر کسی’’جرم‘‘ کے ذلت؟ چہ معنی دارد؟؟ کہتے ہیں‘ اگلے ہی دن کا اِس کا مفہوم روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا۔ اِن دنوں یوسف ایک فارما کمپنی چلا رہے تھے، اُن کی ادویات کی سپلائی جناح ہسپتال کی فارمیسی میں بھی ہوتی تھی، ایک دن دفتر جاتے ہوئے ‘ جناح ہسپتال کے قریب سے گزرے تو سوچا کہ آج ادھر سپلائی ہے، دفتر جا کر کسی ملازم کو بھیجوں گا‘انجیکشن کا کارٹن ان کی گاڑی میں موجود تھا‘ کیوں نہ خود ہی فارمیسی میں پہنچا دوں ۔ چنانچہ انہوں نے گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی اور ٹیکوں کا کارٹن اٹھا لیا، دیکھا کہ کارٹن کے اوپر رکھے ہوئے ٹیکے کہیں راستے میں نہ گر پڑیں، چند ایک ٹیکے انہوں نے اپنی پینٹ کی جیب میں اڑس لیے۔ فارمیسی پر موجود سیل مین ان سے ناواقف تھے، انہوں نے اپنا تعارف نہ کروایا بلکہ اپنی کمپنی کا نام بتایا اور کہا کہ یہ سٹاک وصول کرلو اور رسید دے دو۔ سیل مین نے ٹیکوں کی گنتی کرنے کے بعد اُن کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ چار ٹیکے کم ہیں، اچانک انہیں خیال آیا‘ وہ تو اُن کی جیب میں ہیں، فوراً ہڑ بڑا کر جیب ٹٹولی اور کائونٹر پر ٹیکے رکھ دیے، یہ دیکھ کر سیل مین نے اپنے ساتھیوں کو آواز دے کر بلا لیا اور لگا بے عزتی کرنے، اِن سب لڑکوں نے انہیں کھڑے کھڑے چور بنا دیا، اب وہ شرم کے مارے یہ بھی نہ بتا پائیں کہ وہ اس کمپنی کے مالک ہیں، انہیں کیا ضرورت ہے، چوری کرنے کی۔ اگلے دن ان کاملازم حسب ِ معمول وہاں گیا تو وہ لوگ اسے ہنس ہنس کر بتا رہے تھے کہ تمہاری کمپنی سے کل ایک نیا بندہ آیا تھا، وہ چور ہے، پکا چور! کل ہم نے اس کی جیب سے ٹیکے نکلوائے۔ بقول یوسف صاحب‘ اس دن انہیں یقین آگیا کہ کم از ذلت تو بغیر کسی وجہ کے بھی مل سکتی ہے۔ درحقیقت عزت بھی بغیر وجہ کے میسر آتی ہے۔ یہ مالکِ کائنات کا اِذن ہے‘ جو کسی سبب کا محتاج نہیں۔ اَسباب اَمر کے محتاج ہوتے ہیں، اَمر کو اَسباب کی احتیاج نہیں۔

قرآن کریم میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے ’’اگر کوئی عزت کا طالب ہے تو جان لے کہ تمام کی تمام عزت اللہ اور اس کے رسولؐ کیلئے ہے‘‘ رب العزت نے اپنی بے پایاں رحمت اور محبت کی طرح اپنی عزت کا مرکز و محور بھی بلاشرکت ِ غیرے اپنے حبیبﷺ کی ذاتِ بابرکات ہی کو بنایا ہے۔ جو اِس ذاتؐ کے قریب ْ وہ عزت کے قریب! جو اِ ِ س ذاتؐ سے دُور‘ وہ عزت کے ہر مفہوم سے دُور!!


ای پیپر