رو¿ف طاہر بھی چلے گئے 
06 جنوری 2021 2021-01-06

روف طاہر سے میری واقفیت اس وقت ہوئی جب میں نے ’خبریں‘ سے اپنی صحافت کا آغازکیا اور وہ ’ نوائے وقت ‘ میں رپورٹنگ کرتے اور ’جمہور نامہ‘ کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے۔ مجھے ان کے کالم کی زبان، فصاحت ، اس میں موجود بہاو¿ اور روانی نے بہت متاثرکیا۔انہی دنوں میں پولیٹیکل بیٹ بڑے بھائیوں کی طرح محترم سلمان غنی کے پاس آ گئی تو رو¿ف صاحب سے رابطے کا ذریعہ اشرف ممتاز ہو گئے جو ان دنوں ’ ڈان‘ میں تھے اور ان کے ساتھ ہی موٹرسائیکل پر کبھی نوابزادہ نصر اللہ کے ڈیرے ،کبھی ماڈل ٹاو¿ن میں نواز شریف کے گھر خبرکی تلاش میں پہنچ جایا کرتے تھے۔ میں میجر ( ر) طاہر کے ساتھ مل کر رپورٹنگ کررہا تھا، دوسری طرف’جنگ‘ میں پرویز بشیر تھے اور ماشااللہ ہیں،’ پاکستان‘ میں نعیم اقبال ہوا کرتے تھے۔ نیوز ایجنسیز میں این این آئی سب سے اہم تھی اور وہاں خواجہ فرخ سعید نے ڈیرے لگالئے تھے۔ ہمارے ساتھ جو بہت متحرک ہواکرتے تھے وہ ’ مساوات ‘ کے چیف رپورٹر آغا افتخار مرحوم تھے یہ اس وقت کی سب سے اہم پولیٹیکل بیٹ کی لاہور جیسے اہم سیاسی شہر میں رپورٹنگ ہوا کرتی تھی۔ مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ یہ سب کے سب اپنی اپنی فطرت کی نیرنگی کے باوجوددرویش تھے،جن کو یہ دُنیا لفافے کہتی ہے نجانے وہ کون تھے،کون ہیںاورکہاں ہوتے ہیں۔

رو¿ف طاہر ملنگ آدمی تھے، اپنی دھن میں مست۔ ہارون آباد ضلع بہاولنگر سے تعلق تھا اور وہاں اسلامی جمعیت طلبا کے ناظم تھے۔لاہور آئے تو نوازشریف کی محبت کے اسیر ہو گئے مگر ان پر یہ بات صادق آتی ہے کہ انسان جماعت اسلامی سے نکل جاتا ہے مگر جماعت اس کے اندر سے نہیں نکلتی، یعنی جو امانت اور دیانت سید ابوالاعلیٰ مودودی کے شاگردوں میں تربیت کے ذریعے رکھ دی جاتی ہے وہ میں نے ننانوے فیصد نکلتی ہوئی نہیں دیکھی۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میری سیاسی سوجھ بوجھ بنانے میں اشرف ممتاز اوررو¿ف طاہر کی نوک جھوک نے اہم ترین کردارادا کیاسومیں اشرف صاحب کے ساتھ روف طاہر کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے جاتے ہوئے ان دنوں کویاد کر رہا تھا اور مجھے ان لوگوں سے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں جو صحافت کو محض بلیک میلنگ اور بدمعاشی کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں وہ اشرف ممتازکو دیکھ لیں اگروہ صحافت میںصداقت، دیانت اور توکل علی اللہ والے کسی حقیقی ولی اللہ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔مجھے فخر ہے کہ میری یہ کمپنی رہی اور انگریزی محاورے کے مطابق انسان اپنی کمپنی سے ہی پہچانا جاتاہے۔

رو¿ف طاہر کے ساتھ میری زندگی کا یادگار سفر افغانستان کا تھا جب مجاہدین کی ایک تحریک نے ہماری بعض لوگوں کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرداور بعض کے مطابق سب سے بڑے مجاہد اسامہ بن لادن کے ساتھ ایک ملاقات کا اہتمام کیا۔میںان دنوں روزنامہ ’ دن‘ کا چیف رپورٹر ہوا کرتا تھا اور اللہ بھلا کرے طاہر القادری کا جنہوں نے ہمارے اس وقت کے ایڈیٹر کواپنے خرچے پر لندن کی سیر کی پیش کش کی ورنہ افغانستان کی اصل دعوت انہی کے لئے تھی۔ جس وفد میں رحیم اللہ یوسف زئی اورسعود ساحر جیسے بڑے نام تھے ان میں، میں غالباً سب سے چھوٹا تھا بعدازاں رو¿ف طاہر سعودی عرب چلے گئے اور وہاں ’ اردُو نیوز‘ اور ’ اردُو میگزین‘ کے مدیر ہو گئے۔ مجھے انہوں نے ذمے داری دی کہ میں اس بین الاقوامی معیار کے اردو میگزین کے لئے لاہور سے ہفتہ وار ڈائری لکھا کروں، اس زمانے میں فی ڈائری پانچ سو روپے ملنے لگے تو میرے لئے تنخواہ گھر کے خرچ کے لئے دینے کے بعد جیب خرچ کی حیثیت رکھتے تھے۔ رو¿ف طاہر سعودی عرب میںمیاں نوازشریف کے اور زیادہ کلوز ہو گئے مگر دلچسپ بات یہ کہ میری وہ ڈائری بھی کبھی شائع ہونے سے نہیں روکی گئی جس میں میاں نواز شریف یا نواز لیگ کی حکمت عملی پر تنقید ہوا کرتی تھی یعنی روف طاہر ایک دیانتدار صحافی اور مدیر تھے۔

رو¿ف طاہرمجھ سے پہلے ڈائریکٹر جنر ل پبلک ریلیشنز پاکستان ریلویز بھی رہے اور جب مجھے یہ ذمے داری ملی تو کچھ مہربانوں نے اختلافات پیدا کرنے کی سازش کی جیسے میں نے ان کی جگہ لینے کی کوشش کی ہو۔رو¿ف طاہر میرے ساتھ دفترآئے اور بار بار آئے جو فقط یہ پیغام دینا تھا کہ ہمارے درمیان کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ میں اس وقت سٹی فارٹی ٹو کا پرائم ٹائم شو چھوڑ کر ریلوے میں گیا تھا لہٰذا جناب عطاءالحق قاسمی نے ہمیں پی ٹی وی پر وارننگ شو شروع کروا دیا جس میں میری میزبانی میں رو¿ف طاہر کے ساتھ ساتھ ہمارے گروپ ایڈیٹرمحترم المقام عطاءالرحمان اور بہت پیارا گل نوخیز اختر بھی ہوا کرتے تھے۔ پھر یوں ہواکہ ہم سے پہلے جس پروگرام کے سترہ ،اٹھارہ ہزار روپے ملا کرتے تھے ہمارے تین،چار ماہ کے بعد پندرہ، پندرہ سو روپوںکے چیک بنا دئیے گئے۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ ہم سب نے بہت کوشش کی کہ مریم نواز شریف سے بات کی جاسکے کہ یہ توہین آمیز ہے۔میں نے مریم نواز کے کزنوں محسن لطیف اور احسن لطیف سے بھی بات کی مگر پھریوں ہوا کہ ان زمینی خداو¿ں نے واٹس ایپ میسج دیکھنا بھی بند کر دیا۔رو¿ف طاہر سمیت ہماری ایک ملاقات اس وقت کے فیڈرل سیکرٹری انفارمیشن سے بھی ہوئی مگر مریم اورنگ زیب کی منسٹری نے ہمیں ذلیل وخوار کرنا ہی مناسب سمجھا۔ میں نے مناسب سمجھا کہ یہ چیک لینے سے ہی انکار کر دوں اور یوں پی ٹی وی پر ہمارا سفر بڑی شرمندگی اور خجالت کے ساتھ تمام ہوا۔

میں رو¿ف طاہر کے جنازے پر دیکھ رہا تھا کہ ساری عمر مسلم لیگ نون کا مقدمہ لڑنے والے رو¿ف طاہر کے جنازے میں مسلم لیگ نون کی طرف سے سوائے خواجہ سعد رفیق کے کوئی دوسرا تھا تو ایک نظریاتی کارکن آصف جرال حالانکہ یہ جنازہ جاتی امرا سے چند کلومیٹر دورلیک سٹی کی جامع مسجد میں ہو رہا تھا۔میں نے رو¿ف صاحب کی یاد میں پروگرام کرتے ہوئے یہ مقدمہ جناب عطاءالرحمان کی عدالت میں رکھا تو انہوں نے بجا طورپر فرمایا کہ مسلم لیگ نون کو یہی عادتیں نقصان دیتی ہیں اور یہ کہ اگر کوئی گلیمر والا مرتا تووہ بھرپور حاضری ہوتی۔یہ کہاجاسکتاہے کہ میاں نواز شریف نے ایک ٹوئیٹ کر کے زندگی بھر کی وفاو¿ں کا قرض ضرورچکا دیا جس میں انہوں نے روف طاہر کی موت کو اپنے ایک اچھے دوست سے محرومی قرار دیا۔ میں رو¿ف طاہر کی زندگی کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ ایک مزدور اور محنت کش کی زندگی نظر آتی ہے جس نے ایک اچھی صحافت اورایک ا چھی زندگی کے لئے بھرپور تگ و دو کی۔ مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ ہماری صحافت میں بہت سارے رو¿ف طاہر ہیں مگر نمایاں وہ ہوجاتے ہیں اور انقلاب پسند بھی کہلاتے ہیں جو چند برسوںمیں بڑے بڑے محل نما گھر بنا لیتے ہیں۔میں خود بھی مسلسل سیکھتا ہوں اور اپنے نئے آنے والوں کو بھی کہتا ہوں کہ اصل تعلق وہی ہوتا ہے جو ذاتی ہو ورنہ سیاسی تعلقات کوئی تعلقات نہیں ہوتے۔ یہ ضرورت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔رپورٹروں کو خبر کی ضرورت ہوتی ہے اور سیاستدانوں کو شہرت کی اوریوں یہ گاڑی چلتی رہتی ہے۔

ہمیں سیکھنا ہے کہ ہم روف طاہر کی طرح اپنے اصولوں اور نظرئیے سے کمٹڈ رہیں، اپنے دل کی بات نفع و نقصان کی پرواکئے بغیر کہتے رہیں، آخرمیں ہماری وہی کمائی کام آئے جو آخرت کے لئے ہو گی ورنہ جن لوگوں کے لئے ہم گالیاں کھاتے رہیں، لفافہ کہلواتے رہیں ان میں سے کچھ واقعی ہمارے جنازے میں شرکت نہ کرنے کی حقیقی مجبوریاں اور جواز رکھتے ہوں گے اور کچھ کے پاس ہمارے لئے باجماعت دعا بھی ترجیحات میں بہت نیچے ہو گی۔وہ سوشل میڈیا پر انا للہ و اناالیہ راجعون کے ساتھ لکھ دیں گے کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ جوجنازے تک میں شریک نہ ہوسکیں وہ غم میں برابر کے شریک کیسے ہوسکتے ہیں؟


ای پیپر