پیپلز پارٹی کی جارحانہ پالیسی
06 جنوری 2019 2019-01-06

دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے والا الیگزینڈر دی گریٹ پنجاب فتح نہ کرسکا۔ راجہ پورس سے لڑائی میں ایسا کاری زخم لگا کہ اسی میں واپسی پر انتقال کر گیا۔ اس کے باوجود دی گریٹ کہلایا، اپنے سکندر اعظم نے پنجاب فتح کرلیا لیکن سندھ میں پسپائی کا سامنا کرنا پڑا اس کے باوجود دی گریٹ ہے۔ ہر حکمران ’’دی گریٹ‘‘ ہوتا ہے۔ دی گریٹ نہ ہو تو اسے حکمرانی نہیں ملتی ،حکمرانی دینے والوں کو جانے اس بار کیا سوجھی کہ انہوں نے اپنے سکندر اعظم کو ڈی گریڈ کی بجائے دی گریٹ بنا دیا ،کسی کو کیا اعتراض جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے، کسی نے کہا کہ محمد بن قاسم نے 17 سال کی عمر میں سندھ فتح کیا تھا، راجہ داہر کو شکست دے کر لوگوں کے دل جیت لیے، اپنا سکندر اعظم 67 سال کی عمر میں بھی سندھ فتح نہ کرسکا، بڑے زور شور سے سپاہ انصاف کے ہمراہ طبل جنگ بجاتا سندھ پر حملہ آور ہوا لیکن سارے بڑے کمانڈر بقول شخصے گفتار کے گلو بٹ ثابت ہوئے کسی کے باپ کے نوکر نہیں کہ سیاست میں بہتر کردار کا مظاہرہ کریں یہی کافی ہے کہ انہیں اس لڑائی میں جو کردار دیا گیا وہ بحسن و خوبی نبھا رہے ہیں ،گزشتہ پانچ سالوں میں انہوں نے ثابت کیا کہ وہ بہترین ’کیریکٹر ایکٹر‘ ہیں اسی لیے تو وزیر مشیر بنا کر آگے لائے گئے، سندھ فتح کرنے نکلے تھے سیاسی رسہ کشی میں اوندھے منہ گر گئے، بقول میرزا سودا۔ ’’سپاہی گر پڑیں سوتے میں چارپائی سے۔‘‘ سندھ میں سائیں سرکار، حکمران، پنجاب سے ’’مولا جٹ‘‘ کی طرح بڑھکیں مارتے پہنچے۔ سائیں سرکار نے جارحانہ پالیسی اختیار کی اور فوری شکست سے بچ گئی، ن لیگ نے دفاعی حکمت عملی اختیار کی تھی اپنے زعم میں ماری گئی، کیا حشرنشر کیا گیا۔ حکومت باقی رہی نہ قیادت، جس ایجنڈے پر عوام سے ووٹ حاصل کیے تھے۔ وہ خواب پریشاں بن گیا۔ بیچ سفر میں راہ میں کانٹے بچھا دیے گئے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے کارخانے لگائے مگر تکمیل سے پہلے سفر کھوٹا ہوگیا۔ خواجہ آصف آخری سال کے دوران ٹرانسمیشن لائنیں درست کرا رہے تھے کہ ان کی اپنی لائن ٹرپ ہوگئی، انتخابات تو جوں توں جیت گئے مگر پی ٹی آئی کا ڈار اب تک اڈاری بھرنے نہیں دے رہا، جان کو آیا ہوا ہے۔ اوپر سے انکوائریاں، نا اہل ہوگئے تھے۔ اپیل میں بچ گئے، قیادت جیل کی سختیاں سہتے سہتے نڈھال ہوگئی، کوٹ لکھپت جیل میں پہنچتے ہی قیدیوں کو پڑھانے کی مشقت سونپی گئی تھی کہیں سے کہا گیا کہ خبردار، قیدیوں کو کوئی اور پٹی پڑھا دیں گے اور وہ نعرے لگانے لگیں گے کہ ’’ہمیں بند کیوں رکھا گیا ؟‘‘ مشقت بدل دی گئی اپنی بیرک کی خود صفائی کریں، مشقتی ندارد، ذلت آمیز بات، تین بار وزیر اعظم رہنے والا بیرک میں خود جھاڑو دے گا ،کیا دیگر ممالک میں بھی اسی طرح دشمنی نکالی جاتی ہے؟ سیاسی رسہ کشی میں پیپلز پارٹی کے جیالے جیت گئے ،کھلاڑی کپڑے جھاڑ رہے ہیں، دو تین ’’کمانڈو‘‘ حالات کا جائزہ لینے کراچی پہنچے تھے انہوں نے جیالوں کو منحرف کرنے اور فارورڈ بلاک بنوانے کی کوششیں کر دیکھیں بارے کامیابی نہ ہوئی تحریک عدم اعتماد کیسے آتی 99 کے مقابلے میں 69 اس پر جی ڈی اے اور متحدہ نے بھی ساتھ دینے سے انکار کردیا ،،گورنر راج کی دھمکی بھی کام نہ آئی، چیف جسٹس نے ایسی ڈانٹ پلائی کہ مزاج ٹھکانے آگئے ،گورنر راج لگا کر دکھاؤ ہٹانے میں ایک منٹ لگے گا ،کے ریمارکس کے بعد کیا باقی رہا، پارٹی کی پوری قیادت اور وزیر اعلیٰ سمیت 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈال کر صوبائی حکومت کو خوفزدہ کیا گیا۔ اس فہرست میں 9 سیاست دان 12 بینک حکام، 16 بیوروکریٹس اور 50 سے زائد کاروباری شخصیات شامل تھیں، وزیر اعلیٰ نے مخصوص انداز میں کہا کہ میں کہیں جا ہی نہیں رہا، ای سی ایل میں نام ڈالنے کا فائدہ، بات نہ بنی تو نفسیاتی حربہ استعمال کیا گیا اوپر تلے کئی بیانات کہ وزیر اعلیٰ پر کرپشن میں سہولت کاری کاالزام ہے اس لیے وہ استعفیٰ دے دیں۔ جواب ان کا آیا کہ الزامات تو بیشتر وزیروں، مشیروں پر ہیں سبھی استعفے دے دیں خس کم جہاں پاک، سیاسی راستوں پر کچرا بھر گیا ہے صفائی کا کوئی انتظام نہیں، کیا ہوگا میریا ربّا، تان اس پر ٹوٹی کہ وزیر اعلیٰ چند ہفتوں میں خود ہی استعفیٰ دے دیں گے، کیوں؟ کیا کالا جادو کیا جائے گا یا ہیپناٹرم آزمایا جائے گا؟ یہ بات سمجھنی چاہیے تھی کہ سندھ کے وڈیروں کو پیپلز پارٹی کے سوا کوئی اور پارٹی راس نہیں آتی، کچھ کہتی ہے نہ کسی کو کہنے دیتی ہے، کوئی جیالا بھی ہاتھ نہ آیا، ایک علی گوہر مہر ہاتھ آگئے، سدا بہار ہیں جہاں دیکھی توا پرات وہیں گزاری ساری رات کے قائل، ایک زمانے تک پیپلز پارٹی میں رہے ایک بھائی کو وزیر اعلیٰ بھی بنا دیا گیا تعلقات بگڑے تو ٹھاہ کر کے ن لیگ کے سینے سے جا لگے، نواز شریف کی اپنے لوگوں پر مشکل ہی سے نظر پڑتی ہے نظریں دوڑاتے رہتے تو ممتاز بھٹو اور غوث علی شاہ کہیں نہ جاتے، عمران خان نے سندھ سے گوہر نایاب ڈھونڈ لیا، قریب بلایا گلے سے لگایا پوچھا کتنے بندے ہیں، دروغ برگردن راوی کہا کہ تحریک عدم اعتماد جتنے ہیں، دروازہ کھلا اذن باریابی ملا اندر داخل ہوگئے جیب سے کچھ نہ نکلا تحریک عدم اعتماد کے لیے 100 ارکان درکار 99 پیپلز پارٹی کے پاس جی ڈی اے متحدہ تحریک لبیک اور جماعت اسلامی کسی نے بھی حامی نہ بھری ’’سیکنڈ ان کمانڈ ‘‘کراچی آنا چاہتے تھے روک دئے گئے کہاکراچی جا کے کیا کرو گے بیانات سے کام چلاؤ، معاف کجیے بیانات کے معاملے میں سارے طاق ،کسی نے پھبتی کسی کہ نومولود لیڈروں کی بہتات ہے پیدا ہوتے ہی بد زبانی اور بدکلامی میں مہارت حاصل کی ، بیانات کے معاملے میں ما شاء اللہ پیپلز پارٹی والے بھی کم نہیں ایسی دور کی کوڑی لائے کہ بھیجے گئے ہر کاروں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ،جیالوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ انکوائریوں پر استعفے دینا ہیں تو وزیر اعظم بھی دیں وزیر اعظم، پرویز خٹک اور دیگر بہتوں کے نام بھی ای سی ایل میں ڈالے جائیں، سندھ پر پہلا حملہ پسپا ہوا ہے جس سے حملہ آوروں کے قد میں اضافہ نہیں کمی ہوئی ہے سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ

میرے حریف ہیں سب میرے آس پاس کے لوگ

میرا ہی سایہ میرا قد گھٹانے لگتا ہے

لیکن شنید ہے کہ مارچ 2019ء سے قبل سندھ حکومت کی تبدیلی کا فارمولا تیار کرلیا گیا ہے۔ اس فارمولے کے تحت فارورڈ بلاک بنانے پر محنت کی جائے گی اور کسی ناراض شخصیت کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے گا ،کیا ایسا ممکن ہے؟ مارچ ابھی دور ہے مفاہمت کا بادشاہ مزاحمت پر اترا ہوا ہے، گرفتاری کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، نواز شریف کی طرح زرداری بھی جیل میں اپنی بیرک میں جھاڑو دینے پر لگا دیے گئے تو کہیں مایوسی کے عالم میں واقعی جھاڑو نہ پھر جائے، سب کچھ اچھا نہیں ہے، جیالے آسانی سے خاموش نہیں بیٹھیں گے آگ لگانے والے اور خود کو جلانے والے لوگ ہیں، بلوچستان کی طرح سندھ میں بھی تشویشناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ شاید قوم پرست بھی اس مرحلہ پر وفاقی حکومت کا ساتھ نہ دیں، عقل اور ہوش و حواس سے کام لیا جائے جمہوری ملکوں میں حکومتیں گرانے کے مراحل دیر میں آتے ہیں چار ماہ کے بعد ہی لشکر کشی، خود کشی کے مترادف سمجھی جاتی ہے ،کیسے لوگ ہیں اپنی اعلیٰ قیادت ہی کو دیوار سے لگانے اور بند گلی میں دھکیلنے کے مشورے دیتے ہیں، وزیر اعظم عمران خان اپنی سیاسی زندگی کی لڑائی جیتنے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں انہیں اس لڑائی میں کامیابی کے لیے وقت چاہیے جس میں وہ معیشت کو سنبھالا دے سکیں اور جمہوریت کو مستحکم کرسکیں تاکہ فرمان امروز کے مطابق پر امن، متحرک اور آگے بڑھتا ہوا پاکستان معرض وجود میں آسکے، ایسا نہ ہوا تو یہ المیہ ہوگا،چراغ کیسے جلیں گے پھونکیں مارنے والوں کا منہ تو بند کیا جائے، ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر کوئی سیاسی رومانس پیدا کیا جائے، معاملات چلتے رہیں لیکن ملک اور جمہوریت کو باقی رہنا چاہیے ورنہ الٹی آنتیں گلے پڑ جائیں گی۔


ای پیپر