وفاداری کا کوہ ہمالیہ
06 جنوری 2019 2019-01-06

ملک حاکمین خان بھی رخصت ہوئے۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی نے پاکستان کو نوجوان سیاسی کارکنوں کی ایسی کھیپ دی جس نے اگلے کئی عشروں تک ملک کو سیاسی قیادت فراہم کی۔ قلمکار ایسے افراد جو اب ادھیڑ عمر کی منزل سے گزر کربڑھاپے کی دہلیز پر دستک دے رہے ہیں ان کیلئے ایسے سیاسی کارکن کسی ہیرو کی مانند تھے۔ دائیں اور بائیں کی تقسیم اپنی جگہ۔لیکن ان ایثار پیشہ جیالوں اور متوالوں کی کمٹ منٹ پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ اس تمام عرصہ میں اسلامی جمعیت طلبہ، پیپلز پارٹی اور دیگر ترقی پسند جماعتوں کے پلیٹ فارم سے ان گنت نوجوان ابھر کر سامنے آئے۔ کئی سیاسی تحریکوں کا ایندھن بنے۔حسن ناصر شہید بنے اور ان جیسے متعدد ایسے بھی ہیں جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔ سرخ انقلاب کے سپنے اپنی آنکھوں میں سجائے ایسے نوجوان اپنے تئیں دنیا کو بدل دینے کیلئے نکلے تھے۔ ان کو کیا معلوم زمانہ کبھی نہیں بدلتا۔ جبر کی سیاہ رات کی سحر صرف افسانوں میں طلوع ہوتی ہے انسانوں کا بنایا نظام جبر بہت سفاک ہے۔ تبدیلی ایسی دیوی ہے جس کا درشن اکثر سراب ہی ثابت ہوتا ہے۔ تبدیلی آتی بھی ہے تو عارضی، وقتی، طور پر جیسے نظر کا دھوکہ ہوتا ہے۔ کسی واہمے کی مانند۔سو وہ سب نوجوان جو سرخ پھر یرے کے طلسم کے اسیر تھے اور وہ سب جن کے خیال میں ان کی قربانیاں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے کام آئینگی،ان کی امیدیں کسی حد تک ثمر بار ہوئیں اس کا حساب کتاب وفا شعاروں نے شاہی قلعہ کے بندی خانوں میں کسی سڑک پر پولیس کی لاٹھیاں کھاتے ضرورکیا ہو گا۔اس وقت نہیں تو بہت بعد میں معاش اور روزگار کی تلخیوں سے لڑتے اپنے نیم تاریک گھروں میں پیرانہ سالی میں بیٹھ کر ضرور تجزیہ کیا ہوگا کیا کھویا کیا پایا۔ سیاسی تحریکوں کے طالب علم عمرانیات کے مشاہدہ کار کے طور پر ایسے سب نوجوانوں، سیاسی کارکن خاکسار کے آئیڈیل تھے اورر ہیں گے۔ بچپن میں نظریاتی تقسیم کا شکار ہو کر ممکن ہے کبھی ایسے کردار وں کے خلاف نعرہ بازی کی ہو، کبھی دل میں ان کو برا بھلا محسوس کیا ہو لیکن بعد میں مطالعہ کرنے کے نتیجے میں تعصبات کی عینک اتار کر دیکھا تو وہ سب افراد اپنے آئیڈیل کے طور پر محسوس ہوئے۔ ان جیالوں اور متوالوں نے معاشرے میں تبدیلی برپا کرنے کی کوشش کی۔ اپنے حصہ کی شمع جلائی اور ان مدہم دیوں کو اپنے خون جگر سے مسلسل جلتا رکھا۔ پیپلز پارٹی نے ارض وطن کو ان گنت سیاسی ور کر دیے۔ جن پر قوم فخر کر سکتی ہے ان میں اکثر متوسط طبقے کے محروم پسے ہوئے گھرانوں کے چشم و چراغ تھے جو اپنے گرد و پیش اپنے شہروں، بستیوں میں خلق خدا پر فرعون کی مانند حکومت کرنے والوں کے مقابل کھڑے ہوئے۔جو ان کو کمی کمین سمجھتے تھے۔ ان کو چارپارئی پر برابر بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ جو ازل سے رعایا کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کے کھیت کھلیان، ان کی عزتیں ان فرعونوں کے قبضہ قدرت میں تھیں۔لیکن وہ نوجوان وہ بے وسیلہ عشاقان جمہوریت بے سروسامان نہتے ان قہر مانوں سے ٹکرا گئے۔۔ ان کی ہیبت کے بت پاش پاش کر دیے۔ کیونکہ ان کے پاس نظریے کی طاقت تھی۔ خلق خدا ذوالفقار علی بھٹو کے پرچم تلے جمع ہوئی۔ خان، وڈیرے، میر،پیر،ارباب سب کھیت رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا لشکر جمہور فتح مند رہا۔ میری عمر کے افراد نے بچپن میں ان میں سے کئی ایک کو آنکھوں سے دیکھا۔ کسی کے متعلق اخبار میں پڑھا۔ کیسے کیسے لوگ تھے جو طاقت کی علامت جابروں سے ٹکرا گئے۔ زمین کھا گئی، آسمان کیسے کیسے پیچھے مڑکر دیکھتا ہوں تو خورشید حسن میر، جہانگیر بدر، مختار اعوان،خواجہ عسکری حسن، پتو کی کا چاچا اللہ دت، گگو منڈی کا بس کنڈیکٹر بشیر، ساہیوال کا ماسٹر خان محمد، نور محمد سکھیرا فہرست اتنی طویل ہے کہ کاغذوں کا انبار کسی ٹرک پر اٹھانا پڑے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے انتخابی معرکوں میں فراعین عصر کو منہ کے بل گرایا۔ ایسے جابروں کو شکست دی کہ اسمبلی کی سیٹ ان کے گھر کی رکھیل تھی۔ ان وارفتگان جمہوریت میں ایک ملک حاکمین خان بھی تھا۔ ضلع کیمبل پور جہاں صدیوں سے زر اورزمین کے مالک حکومت کرتے آئے تھے۔ اس ظلم اور جبر کی دھرتی پر ملک حاکمین خان نے بھٹو کے ٹکٹ کو سینے پر سجایا۔اور دریائے سندھ کے کنارے بسی زرخیزبستیوں کے سمندر میں کود گیا۔ اور نواب زدگان کو شکست فاش سے دوچار کیا۔ متوسط طبقے کا یہ نوجواں الیکشن جیتا کئی وزارتوں پر فائز رہا۔ اور اپنی انتظامی صلاحیتوں سے سیاسی لیڈروں کو گمراہ کر دینے میں ماہر بیوروکریسی کو حیران کر دیا۔ میڈیا اور بیوروکریسی کی ملی بھگت سے سیاسی ورکروں کو گھامڑ نیم خواندہ ثابت کرنے کیلئے جعلی لطیفے گھڑے جاتے ہیں۔ ان میں اکثر جھوٹے اور بے بنیاد ہوا کرتے ہیں۔ ملک حاکمین خان کی ذات کے متعلق بھی ایک لطیفہ گھڑا گیا جس کی بنیاد میدان صحافت کے شہ سوار کے ذہن کی تخلیق سرخی تھی۔ اب ملک حاکمین خان اور استادی مقام پر فائز سرخی کار دونوں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ نیتوں کا حال اللہ جانے لیکن وہ لطیفہ جو سرخی کی کوکھ سے نکلا ملک حاکمین کی ذات سے چمٹ گیا۔ بہت کم لوگ جانتے کہ آج جیلوں میں میسر بہت سی سہولتیں ملک حاکمین کے دور وزارت میں متعارف کرائی گئیں۔ جیلوں کی صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کرنے والا سیاسی کارکن اپنے بعد آنے والے سیاسی و غیر سیاسی قیدیوں کے دکھ درد کا ازالہ کر سکتا تھا۔ ملک حاکمین کا تعلق سیاسی کارکنوں کے اس قبیلے سے تھا جن کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہ تھا۔ ساری زندگی تنگ دستی میں گزاری دو دفعہ اسمبلی کے ممبر رہے سینیٹ آف پاکستان کی رکنیت کا اعزاز پایا۔ لیکن پائے استقامت میں لغرش نہ آئی۔ ملک حاکمین مرحوم بھی ان عظیم سیاسی کارکنوں میں سے تھے جن کے متعلق بچپن میں پڑھا سنا اور دشت صحافت کی آبلہ پائی میں ان کے ساتھ قربت کا رشتہ پیدا ہوا۔ ان کی رفاقت میں جووقت گزرا وہ سرمایہ حیات ہے۔ ایسے بے لوث دیوانے کہاں ملتے ہیں۔ جو اپنے نظریے پر ڈٹے رہے ملک حاکمین مرتے دم تک ہر سیاسی تحریک کے سرخیل رہے۔ تنگ دستی وسائل کی کمیابی کے باوجود عوامی حقوق کیلئے نقارے پر چوٹ پڑی تو وہ خم ٹھونک کر صف اول میں آ کھڑے ہوئے، ایم آر ڈی،اے آر ڈی، جی ڈی اے وہ کونسی تحریک جس کے وہ روح رواں نہ رہے۔ وہ نوابزدہ نصر اللہ خان کے دست راست کے طور پر کل جماعتی کانفرنسوں میں کلیدی کردار ادا کرتے۔ کوئی مشکل کوئی رکاوٹ ان کی راہ میں حائل نہ ہو سکی۔وہ کشادہ دل دیہی سماج کی مہمان نوازی کے خمیر میں گندھلے ہوئے متواضع شخص تھے۔ ان کی محفلیں ہمیشہ آراستہ رہیں۔ ملک حاکمین خان کافی عرصہ سے علیل تھے۔ ملک حاکمین خان جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، آصف زرداری، بلاول بھٹو سب کے ساتھ وفا نبھائی۔ کوئی مشکل وفا کے اس کوہ ہمالیہ کو پیپلز پا رٹی سے جدا نہ کر سکی۔ ہاں بس وہ موت تھی۔ جس کے آگے کسی کا بس نہیں چلتا۔ موت ان کو اپنے شہید بابا ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ سے ایک دن پہلے اپنے ساتھ لے گئی۔ ملک حاکمین خان دفن بھی ہوئے تو اس روز جب پانچ جنوری کو قائد عوام کی سالگرہ تھی۔


ای پیپر