سندھ میں اقتدار کی جنگ
06 جنوری 2019 2019-01-06

تحریک انصاف کی قیادت نے منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں JIT (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو کافی مانتے ہوئے سندھ میں تبدیلی برپا کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔ تحریک انصاف سندھ کے صوبائی رہنماؤں اور وفاقی وزراء کے تندو تیز بیانات نے صورت حال کو کافی حد تک کشیدہ بنا دیا ۔ تحریک انصاف کی جانب سے پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کو گرانے کی کوششیں ابتداء میں ہی ناکام ہو گئیں مگر ان کوششوں کے نتیجے میں بہت سے موجود اس تاثر کو تقویت ملی ہے اور یہ مزید گہرا ہوا ہے کہ احتساب کو سیاسی مقاصد اور انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ احتساب کے حوالے سے پہلے سے یہ تاثر عام ہے کہ اس کے ذریعے حزب اختلاف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سب کا احتساب نہیں ہو رہا۔

تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے جلد بازی میں اپنائی گئی جارحانہ حکمت عملی اور پالیسی نے پیپلزپارٹی کے کئی رہنماؤں کو یہ مؤقف اپنانے کا موقع فراہم کیا کہ ان پر بدعنوانی ، نا اہلی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کرنے کا بنیادی مقصد سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کا خاتمہ اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت قائم کرنا ہے۔

تحریک انصاف پر یہ الزام بھی عائد ہوا ہے کہ وہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی میں رخنے اور پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے یہ تاثر دیا کہ اسے کئی ارکان کی حمایت حاصل ہے اور پیپلزپارٹی کے کئی ارکان سندھ اسمبلی ان کے رابطے میں ہیں۔ ان بیانات نے اس تاثر کو گہرا کر دیا کہ تحریک انصاف کی مرکزی حکومت اور صوبائی گورنر ہارس ٹریڈنگ اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے پیپلزپارٹی کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

مگر موجودہ حالات اور صورت حال میں سندھ میں سیاسی تبدیلی ہرگز آسان نہیں ہو گی۔ پیپلزپارٹی کو سندھ اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہے۔ تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود پارلیمانی پارٹی پر قیادت کا مکمل کنٹرول برقرار ہے۔ پیپلزپارٹی کی اکثریت کا خاتمہ اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے جس طرح کی سیاسی چالیں تحریک انصاف اس وقت سندھ میں چلنے کی کوشش کر رہی ہے، ایسا انتخابات سے پہلے اور فوری بعد کیا جاتاہے۔

حکومت بننے کے بعد اسے گرانا خاصا مشکل کام ہوتا ہے اور جب اس قسم کی کوششوں کے پیچھے مقتدر قوتوں کا ہاتھ نہ ہو یہ کام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف کو پتا نہیں کس نے اس زعم میں مبتلا کر دیا کہ وہ مقتدر قوتوں کی مدد اور تائید کے بغیر بھی سندھ حکومت کا خاتمہ کر سکتی ہے اور اپنی حکومت قائم کر سکتی ہے۔ جام صادق نے اگر 1990ء میں ایسا کیا تھا تو اس کی تیاری انتخابات سے پہلے کی گئی تھی اور اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی سندھ میں حکومت نہ بنا سکے۔ جام صادق علی نے ریاستی، جبر، دباؤ اور وسائل کا استعمال کر کے ایم کیو ایم کی مدد سے حکومت بنائی تھی ۔ اس مقصد کے لیے پیپلزپارٹی کے اندر توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ اس طرح 2002ء میں بھی پیپلزپارٹی کو اقتدار سے باہر رکھنے کا کام عام انتخابات سے پہلے کیا گیا اور انتخابات کے فوراً بعد پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنا کر جنرل مشرف کے حامیوں کی حکومت بنائی گئی۔

اس وقت مشکل یہ ہے کہ دو چار ارکان اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کروانے سے یہ کام نہیں ہو گا۔ تحریک انصاف کو پیپلزپارٹی کے کم از کم 20 ارکان کی حمایت درکار ہے اس سطح کی سیاسی توڑ پھوڑ مقتدر قوتوں کی براہ راست مداخلت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اگرچہ تحریک انصاف کی حکومت میں تبدیلی کی کوششیں ابتداء میں ہی دم توڑ گئی ہیں مگر ان کوششوں نے تحریک انصاف کی پالیسی اور سوچ کو واضح کر دیا ہے کہ وہ سندھ میں سیاسی تبدیلی کی خواہاں ہے۔ سندھ میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے تحریک انصاف کو بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ اور ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کرنا ہو گی۔ اگر ایسی کوشش کی گئی تو قطع نظر اس کے کہ یہ کامیاب ہوتی ہے یا پھر ناکام اس کے سیاسی مضمرات دیر پا ہوں گے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کی کوششیں1990ء کی دہائی کی مار دھاڑ سے بھرپور سیاست کو واپس لے آئیں گی۔ یہ پاکستانی سیاست اور جمہوری عمل کے لیے نیک شگون نہیں ہو گا۔ تحریک انصاف کو خود بھی اس قسم کی سیاست کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں مرکز اور پنجاب کی تحریک انصاف کی حکومتوں کے خلاف اسی قسم کے جوابی اقدامات اٹھائیں گی جس سے سیاسی کثافت اور کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔ اس قسم کی سیاست سے سیاسی جماعتیں اور جمہوری عمل مزید کمزور ہو گا۔

ہمیں جے آئی ٹی رپورٹ پر عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کہ بلکہ تحقیقاتی رپورٹ ہے جس میں پیپلزپارتی کی قیادت پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ احتساب اور تحقیقات کا عمل مزید متنازع ہوتا جائے گا۔ اگر اس کا استعمال ہوا یا ٹرائل اور سیاسی مقاصد کے لیے جاری رہا۔

تاریخ ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ انتظامی اور عدالتی فیصلوں اور اقدامات کے ذریعے سیاسی قوتوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان فیصلوں اور اقدامات کے نتیجے میں وقتی طور پر سیاسی قوتوں کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ پسپائی پر بھی مجبور ہو جاتی ہیں مگر وہ ختم نہیں ہوتیں۔ مثلاً جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے پیپلزپارٹی کو تباہ کرنے اور ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ پہلے منتخب وزیراعظم کو پھانسی دی گئی۔ پیپلزپارٹی اور بائیں بازو کے ہزاروں کارکنوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا۔ ریاستی طاقت اور تشدد کے ذریعے سیاسی قوتوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ دائیں بازو کی قوتوں نے مقتدر قوتوں کے ساتھ مل کر پیپلزپارٹی کو ختم کرنے کی کوشش کی ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف بھی ان کوششوں میں مقتدر قوتوں کے ساتھ تھے۔ مگرپیپلزپارٹی نے ان سب قوتوں کا مقابلہ کیا اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر موجود رہی۔

مگر بینظیر بھٹو شہید کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کی سیاسی حمایت میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کمی واقع ہوئی اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اس سیاسی زوال کی وجوہات زیادہ تر سیاسی ہیں اور اس عمل میں پارٹی قیادت کی غلطیوں کا بھی دخل ہے۔ ماضی میں پیپلزپارٹی کو وقتی طور پر انتخابی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا مگر پارٹی جلد ہی سنبھل گئی۔ آصف زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے مخالف جاگیردار اور بااثر سیاسی وڈیرے بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے ہیں اور پارٹی کا انحصار جاگیرداروں اور گدی نشین با اثر پیروں پر ہے مگر یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ پیپلزپارٹی کی عوامی مقبولیت بالکل ختم ہو گئی ہے۔ اس عوامی مقبولیت میں کمی ضرور آئی ہے مگر اسے اب بھی اچھی خاصی عوامی حمایت حاصل ہے۔

اس وقت سندھ پیپلزپارٹی کے مقابل کوئی ایسی سیاسی قوت موجود نہیں ہے جو کہ انتخابی سیاست میں اس کا مقابلہ کر سکے۔ GDA کے پلیٹ فارم پر مختلف پیپلزپارٹی مخالف جماعتوں کو جمع کیا گیا مگر وہ متاثر کن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہیں۔ ایم کیو ایم پہلے ہی داخلی سیاسی اور تنظیمی بحران سے دو چار ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا تنظیمی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ تحریک انصاف کا زیادہ تر انحصار اور دارو مدار قبائلی سرداروں اور جاگیرداروں پر ہے۔ محض جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت گرانے کی کوشش کا سیاسی فائدہ پیپلزپارٹی کو ہو گا جبکہ نقصان احتساب کے عمل اور تحریک انصاف کے تبدیلی کے نعروں کا ہو گا۔


ای پیپر