عوام کو منی لانڈرنگ سے کیا سروکار؟
06 جنوری 2019 2019-01-06

ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا۔ طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے۔۔۔ پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے ۔۔۔جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے۔۔۔پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا ۔۔۔موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے ۔۔۔اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے۔۔۔ اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ

پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے ۔۔۔استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کرو کہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا۔۔۔جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں۔ ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں۔۔۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے ۔۔۔اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئی الگ موضوع دے کے دیکھتے۔۔۔استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا ۔۔۔کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے۔ جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں ۔۔۔جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراؤں میں جو بدو رہتے ہیں۔۔۔ ان کو تو کمپیوٹر کی الف ب کا پتا نہیں۔ لہٰذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔پرنسپل نے یہ سنکر کہا کہ پھر تو آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ بہیں بیٹھ کر ایک مضمون لکھو جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ۔۔۔طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے۔۔۔ایک دفعہ میں ریاض سے مکہ جا رہا تھا۔ میرے پاس ٹویوٹا کرسیڈا گاڑی تھی جو بڑی مست تھی۔ میں جناب ہائی وے ہے پر بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھا۔۔۔میں ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جہاں پر اونٹ روڈ کراس کرتے ہیں۔ اور اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔۔۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھی ۔۔۔جناب عالی!۔۔۔میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ، میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ، ۔۔۔جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویہ پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ستانے پر صبر کرتا ہے۔ مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔۔۔ اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے ۔۔۔اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کے کام بھی آتا ہے۔۔۔

ملکی آبادی کا ایک تہائی حصہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے اور ایک حصہ جس کو ملازم پیشہ یا متوسط کاروباری لوگ کہہ سکتے ہیں، درمیانے درجے کی زندگی کے ساتھ نبرد آزما ہونے میں بر سر پیکار ہے۔ بقیہ حصہ اشرافیہ ، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں پر مشتمل ہے۔ وہ بھر پور سہولیات کے ساتھ زندگی گزارنے کی تگ و دو میں ہیں۔ لہٰذا ان چاروں اقسام پر مبنی افراد کو منی لانڈرنگ ، ملکی افراتفری، سماجی و عمرانی اور معاشرتی کرداروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلے طبقے کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ دوسرے طبقے کو معیار زندگی بلند کرنے کی فکر ہے۔ تیسرے طبقے کو مطلق العنان حکم و احکام کی پڑی ہے۔ چوتھے طبقے کو اپنی سیاست چمکانے اور کرسی بچانے کی فکر رہتی ہے۔ ملک میں جس قدر بھی منی لانڈرنگ ہوئی۔ خواہ اس کا جدِ امجد آصف علی زرداری کو گردانا جائے یا اس کی طلسماتی ٹوپی ایان علی کے سر ہو، غریب عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ کرپشن میں احد چیمہ نمبر ون سمجھا جائے یا ڈاکٹر عاصم کو پیر مغاں کا درجہ دیا جائے۔ عوام اس سے بے بہرہ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جس قدر ہو سکے شور غووغا کرے۔ عوام کو اس بات سے کچھ نہیں لینا دینا۔ نیب جس قدر مرضی فائلیں کھنگال لے۔ عوام کے پیٹ میں نوالہ نہیں جائے گا۔ عوام کا معیار زندگی بلند نہیں ہو گا ۔ عثمان بزدار صاحب اپنی کابینہ کو بہاولپور چھوڑ کر تونسہ بیراج بلا لیں جنوبی پنجاب کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ آج نئی حکومت کو چار مہینے ہو گئے ہیں۔ انہیں عوام کے مسائل کا ادراک ہی نہیں ہو سکا۔ عوام کے مسائل سے آگاہی، آگہی ہی نہیں ہو سکی۔ انہیں زمینی حقائق کا اندازہ ہی نہیں ہو سکا۔ ان کی گفتگو، ان کے ایجنڈے میں کرپشن یعنی کرپٹ حکمرانوں اور منی لانڈرنگ کے علاوہ تیسرا کوئی لفظ ہی نہیں ہے۔ میں اس بات سے بھی سرِ مو انحراف نہیں کرتا کہ سابق حکومتوں نے ملکی خزانے کو بے دریغ استعمال نہیں کیا ۔ منی لانڈرنگ بھی ہوئی۔اقربا پروری بھی ہوئی۔ لوٹ کھسوٹ بھی ہوئی۔ مگر ہوا کیا ۔۔۔؟ عوام کا نقصان ہوا۔ عوام مہنگائی کی دلدل میں پھنسے۔ وہ وعدے اور سبز باغ جو عوام کو دکھائے گئے انکا وجود تک نظر نہ آیا اور عوام ایک بار پھر سیاسی بے راہ وری کا شکار ہو گئے۔ روشنی کی جو کرن عوام کو دکھائی وہ موہوم ہوتی ہوئی نظر آنے لگی۔ ایمان ، یقین،امید کا سورج یاس کے بادلوں میں چھپتا ہوا دکھائی دینے لگا۔ رجائیت، قنوطیت کے پہلو میں چھپتی ہوئی نظر آنے لگی۔۔۔ رنگ ، کرپشن ، سابق حکومتوں کی خامیاں نظر انداز کر کے اپنی گراؤنڈ بنانا ہو گی۔ نیب ایک ادارہ ہے۔ ایسے کیسز کو ان کے سپرد کر دینا چاہیے۔ خود عوام کے مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ عوام کی تعلیمی ، اخلاقی ، مذہبی، معاشی اور سماجی ترقی کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ معاشرے میں پائی جانے والی بربریت، نا انصافی ، عدم رواداری ، بے روزگاری جیسی بیماریوں کو ختم کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ عوام میں احساس ذمہ داری، قومی حریت، قومی جذبہ اور حب الوطنی جیسے جذبات کو ابھارنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ اداروں کی مضبوطی کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ اگر موجودہ حکومت اپنے ہر بیان اپنی ہر تقریر میں منی لانڈرنگ جیسے ثقیل مضمون کو پیش کرتی رہے گی اور احساس ذمہ داری میں ڈھیل برتتی رہے گی تو مجبوراً انہیں فیل ہونا پڑے گا یا پھر فیل کر دیا جائے گا اور عوام کو منی لانڈرنگ سے کوئی سروکار نہ ہو گا۔


ای پیپر