خوشحال مہاجرین
06 جنوری 2019 2019-01-06

عیسیٰ اور اس کے خاندان کو شام میں جنگ کے دوران مقامی لوگوں کے باعث کینڈا ہجرت میں مدد ملی اور کینیڈین حکومت نے سنٹرل لینگلی میں انھیں گھر میں رہائش دے دی۔ عیسیٰ کاروبار کرنے لگا، معاشی حالت بہتر ہوئی، بچے سکول جانے لگے، انگلش سیکھنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے عیسیٰ کا مہاجر خاندان مقامی لوگوں جیسی زندگی گزارنے لگا۔ عیسیٰ کے گھر بیٹی کی پیدائش متوقع ہے۔ یہ بیٹی پیدا ہوتے ہی کینیڈین شہری ہو گی۔عیسیٰ کے خاندان میں کینیڈین شہریت رکھنے والی یہ پہلی فرد ہو گی۔عیسیٰ جانتا ہے کہ6.3 ملین کی تعداد کے ساتھ شامی مہاجرین کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔عیسیٰ اور رقیہ جب بھی ان اعدادوشمار اور آبائی وطن کو یاد کرتے ہیں غمزدہ ہو جاتے ہیں لیکن یہ جان کر خوش ہو جاتے ہیں کہ کینیڈی حکومت ہمیں پہلے سے بہتر زندگی دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رہی۔

2.6 ملین کی تعداد کے ساتھ دنیا کی دوسری بڑی مہاجر کمیونٹی افغان مہاجرین کی ہے۔ افغانی مہاجر حاجی شریف افغانی نے مجھے بتایا کہ جب میں افغانستان کی جنگ سے بچ کرپاکستان آیا تو برباد ہو چکا تھا۔ افغانستان میں میرا گھر تباہ ہو چکا تھا، خاندان بکھر چکا تھا۔ کون زندہ ہے اور کون مر گیا کچھ پتہ نہیں تھا۔ چند سو روپے لے کر پاکستان پہنچا۔ ان چند سو روپوں سے کچرا اکٹھا کرنے اور بیچنے کا کام شروع کیا ۔آج میرے کاروبار کی مالیت کروڑوں میں ہے اور سینکڑوں پاکستانی اور افغانی لوگ میرے نیچے کام کرتے ہیں۔میں تو چھوٹا سا کاروبار کرتا ہوں لیکن ہزاروں افغان مہاجرین صرف کوڑے کے کام سے کروڑوں روپے ماہانہ کما رہے ہیں۔

حاجی صاحب نے کہا کہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ملک پاکستان کے تمام بڑے کاروباروں میں افغان مہاجرین حصہ دار ہیں۔ استعمال شدہ گاڑیاں ہوں، کپڑے کا کاروبار ہو، خشک میوہ جات ہوں، قسطوں پر سامان بیچنے کا کاروبار ہو، قالین کی درآمدات، برآمدات ہوں, کاسمیٹکس ہوں، کنسٹرکشن ہو، یہاں تک کہ کچرا اٹھانے کا کاروبار ہو۔ لاکھوں افغانی پاکستان کی اکانومی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

حاجی صاحب کا کہنا ہے کہ جو کچھ مجھے پاکستان نے دیا وہ آج تک میرا آبائی وطن افغانستان بھی نہیں دے سکا۔ میں پاکستان میں بہت خوش ہوں۔ میں اور میری آنے والی نسلیں دل سے پاکستانی ہیں کیونکہ اس ملک نے ہمیں رہنے کو چھت اور میرے بچوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور بہترین زندگی دی ہے۔ ہماری زندگی لاکھوں پاکستانیوں کی زندگی سے بہتر ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ کینیڈین اور پاکستانی حکومتوں نے مہاجرین کو اپنا کر اور بہترین زندگی دے کر اپنا فرض ادا کر دیا لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنطیمیں کیا کر رہی ہیں؟جو عالمی طاقتیں انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتی نہیں تھکتیں انھوں نے عام خوشحال شہری کو مہاجر بننے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ جبری مہاجر بننے کی سب سے بڑی وجہ عالمی طاقتیں ہی ہیں جن کے مفادات جنگ میں چھپے ہیں اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مجھے یہاں یہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہو رہی کہ جنگ کے شروع ہونے اور آج تک ختم نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ اقوام متحدہ کی عدم دلچسپی ہے۔ ان جنگوں نے نسلیں تباہ کر دیں، بچوں کو زندہ جلا دیا، عورتوں کو سرعام بے حرمت کر دیا لیکن اقوام متحدہ طاقتور ممالک کے سامنے بے بس رہی۔جنگ کے یہ مسائل کب حل ہوں گے یہ کوئی نہیں جانتا اس لیے جبری مہاجرین بننے کا یہ سلسلہ فی الحال رکتا دکھائی نہیں دیتا۔لیکن جو کام فوری کیا جا سکتا ہے وہ مہاجرین کی حالت کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت پرزور دینا ہے۔

جن ممالک میں مہاجرین کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اقوام متحدہ ان ممالک کی مدد کا انتظام کرے۔ اقوام متحدہ تمام ممبر ممالک کو جی ڈی پی کی مناسبت سے مہاجرین کے لیے فنڈ دینے کا پابند کرے۔ اقوام متحدہ اپنی نگرانی میں فنڈ کی تقسیم کرے اور فنڈ کے استعمال اور ان سے حاصل شدہ نتائج پر ہر ماہ ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرے۔ جو ممالک فنڈ کے استعمال سے مہاجرین کی زندگیاں بدلنے میں ناکام ہو جائیں وہاں تمام فنڈ اقوام متحدہ کے نمائندوں کے ذریعے خرچ کیا جائے۔ مہاجرین کے لیے سرکاری نوکریوں میں کوٹہ مقرر کیا جائے۔ جن ممالک میں مہاجریں کی تعداد زیادہ ہے وہاں بڑی پرائیوٹ کمپنیوں کو مہاجرین کی نوکریوں کے لیے مخصوص کوٹہ رکھنے کا کا پابند کیا جائے۔اس کے

علاوہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مہاجرین کے بچوں کی مفت تعلیم لازمی قرار دی جائے۔ ہسپتالوں میں ان کے علاج کے لیے خصوصی پیکج متعارف کروائے جائیں۔ان اقدامات سے آنے والی تبدیلیوں کو میڈیا پر لایا جائے۔ چند مہاجر خاندانوں کو رول ماڈل بنا کر پیش کیا جائے۔ ان کی زندگیوں پر مضامین لکھے جائیں۔ انھیں درپیش مسائل کو اجاگر کیا جائے اور ممکنہ حل کے لیے ان مہاجرین کی تجاویز کو اہمیت دی جائے۔

مہاجرین کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت تمام بڑی انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔ یہ غور صرف کارروائی کی حد تک نہیں ہونا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کرنے کی طرف خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ تا کہ عیسیٰ اور حاجی شریف افغانی جیسے لوگ مہاجر نہ بن سکیں اور اگر مہاجر بن جائیں تو ان کی زندگیاں بدلنے میں سب سے بڑا اور پہلا کرداراقوام متحدہ کا ہو نہ کہ کسی ہمسایہ ملک کا۔ یہی آپ کے وجود کا بنیادی مقصد ہے۔


ای پیپر