’’مجھ جیسے ادبی فنکار کے نفسیاتی مسائل‘‘
06 جنوری 2019 2019-01-06

اُس کے سر پر ٹوپی دیکھی ۔۔۔ تو میں نے سمجھا ۔۔۔؟!

"It's matter of routine" ۔۔۔ اگلے دن پھر اُس نے سر پر ٹوپی سجا رکھی تھی ۔۔۔ میں نے مصروفیت کے باعث توجہ نہ دی، غور بھی نہیں کیا ۔۔۔ کبھی کبھی بندہ بہت سے کام مصروفیت کے باعث بھول جاتا ہے سوائے ’’خارش‘‘ کرنے کے ۔۔۔ خارش انسان ہر حال میں کر کے چھوڑتا ہے ۔۔۔

لڑکیاں جن کے سر پر وافر مقدار میں یا زیادہ تعداد میں ’’جوئیں‘‘ گری پڑی ہوں اُن کو بظاہر آپ فٹ فاٹ دیکھیں گے لیکن ’’جوؤں‘‘ کا کیا کریں ۔۔۔؟! میرا مشورہ ہے کہ بیوٹی پارلر کی مالکان سے کہ ہر پارلر میں ایک عدد بزرگ عورت ’’ہائیر‘‘ کریں کہ جو دلہن تیار کرنے سے پہلے اُن کے سر میں موجود ’’جوؤں‘‘ کا قلع قمع کریں ۔۔۔ مبادا وہ وافر مقدار میں ۔۔۔ بڑی مقدار میں موجود ’’جوئیں‘‘ دلہا کو بھی نقصان پہنچائیں ۔۔۔ اور ’’خارش‘‘ تینوں خارش مینوں‘‘ والا کام شروع ہو جائے ۔۔۔ جیسے ’’جمائی‘‘ محمد حسین کو آئے تو ساتھ ہی بشیر قدیر، مظفر، بشیراں، حمیداں بی بی مولوی صاحب ۔۔۔ سب کو ’’جمائی‘‘ آنے لگتی ہے اُس کو پنجابی میں ’’نحوست‘‘ کہتے ہیں ۔۔۔

ہمارے ایک دوست جانِ جگر کا نام اظہر منہاس ہے ہم نے محبت سے اظہر منحوس کہنا شروع کر دیا ۔۔۔ اب کسی کو یاد نہیں کہ ’’اظہر‘‘ کون ہے ۔۔۔

منحوس بولیں تو سب سمجھ جاتے ہیں ۔۔۔ آپ اپنے اپنے حلقہءِ احباب میں پلیز کسی کا Nik Name نہ ڈالیں اس سے چھیڑ پڑ جاتی ہے اور پھر لوگ اصلی نام بھول جاتے ہیں ۔۔۔ ویسے آپ کی محلے میں یا حلقہءِ احباب میں کیا چھیڑ تھی ۔۔۔ یعنی آپ کو لوگ ’’محبت‘‘ سے کیا کہتے ہیں؟! ہمیں تو لوگ محبت سے ’’ڈاکٹر‘‘ کہتے ہیں حالانکہ ہم نے بھی FSc میں Passing Marks لئے تھے (اللہ جیسے چاہے عزت دے دے بنا ڈاکٹری کے ڈاکٹر اور وہ بھی ۔۔۔ ہم جیسا ’’نالائق‘‘۔۔۔؟)

بات شروع ہوئی تھی اُس کی ٹوپی سے اور چل نکلی ہماری مصروفیت کی طرف ۔۔۔ ’’جناب جبار مفتی آف ملتان شریف کہتے ہیں مظفر کالم ’’باندر سے شروع کرتا ہے دس بیس جاننے والوں کی صفات بیان کرتا ہے اپنے قصے سناتا ہے اور پھر بات باندر پہ ہی لا کے ختم کر دیتا ہے‘‘ ۔۔۔؟!

جناب جبار مفتی بڑے ہیں دوست ہیں اور مسکراتے رہنے والے خوش مزاج صحافی ہیں میں ان کی ہر بات کو انجوائے کرتا ہوں اور خوش ہوتا ہوں ۔۔۔ کہ وہ شخص مسکراتے رہنے کا عادی ہے خوشیاں بکھیرتا ہے ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ عورتیں جب سر پر خارش کرنا چاہیں تو بیچاری پہلے تو ادھر اُدھر دیکھتی ہیں ۔۔۔ کہ جی بھر کے ، کھل کے سر پر خارش کر لیں ۔۔۔

لیکن جب انھیں ارد گرد کا ماحول ’’سازگار‘‘ نہ ملے تو پھر وہ حیلے بہانے سے اپنے تیز دھار ’’آلے‘‘ یعنی نوکیلے ناخنوں سے ایسے سر کو کھجاتی ہیں جیسے بال سیٹ کر رہی ہوں ۔۔۔ حالانکہ وہ درپردہ کسی ’’جوں‘‘ پر تشدد کر رہی ہوتی ہیں ۔۔۔ تو میں کہہ رہا تھا ۔۔۔ کہ

اُس کے سر پر ٹوپی دیکھی ۔۔۔ تو میں نے سمجھا۔۔۔؟!

تیسرے دن پھر سے مجھے کچھ فراغت ملی تو میری اُس کے سر پر چپکی ہوئی ٹوپی پر نظر پڑی ’’یہ رات کے وقت ٹوپی کا استعمال کیوں‘‘ ۔۔۔ اس کا کیا تُک ہے ؟۔۔۔

میں نے خود کلامی کی ۔۔۔ بندہ دوپہر کو جب سورج ’’سوا نیزے‘‘ پر ہوتا ہے سر سے ٹوپی نہ اتارے ۔۔۔ ہے نہ تشویش کی بات ؟۔۔۔ ویسے تو ایسی الٹی سیدھی باتیں ہم سارا دن اپنے ارد گرد دیکھتے رہتے ہیں لیکن کچھ جگہوں پر ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی سوالیہ نشان لگائیں ۔۔۔ میں نے سوچا آج ہمت کر کے پوچھ ہی لوں ۔۔۔ پھر میں نے اپنے گریبان میں جھانکا ۔۔۔ ’’اگر جواب میں اُس نے پوچھ لیا تم کتنے دن بعد نہاتے ہو ؟‘‘ ۔۔۔ تو میں کیا جواب دوں گا کیونکہ میں اس عقیدے پر سختی سے کاربند ہوں کہ جمعہ والے دن انسان کو جھوٹ نہیں بولنا چاہئے اور جمعہ کے جمعہ ہی نہانا چاہئے ۔۔۔ (کیونکہ پانی پہلے ہی ہمارے ملک میں کم ہوتا جا رہا ہے) ۔۔۔

باقی دنوں میں غلطی کوتاہی ہو جائے تو انسان ہوں ۔۔۔ ’’آخر مجھے بھی حق حاصل ہے ؟ ۔۔۔ ویسے جمعہ کو بھی سخت مجبوری کی حالت میں ۔۔۔ ؟ ! خیر ’’جھوٹ‘‘ پر گفتگو میرا آج کا موضوع نہیں ہے لہٰذا تھوڑے کہے کو زیادہ جان کر خود ہی ’’فیصلہ‘‘ کریں ۔۔۔

اگلے دن میں دفتر پہنچا تو اِک ڈرا دینے والا ’’سر‘‘ ایک کرسی پر پڑا دکھائی دیا ؟ (آپ سمجھ رہے ہیں نہ میری بات، میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں، میں آپ کو کیا سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں؟) ۔۔۔ ’’یا اللہ خیر ۔۔۔ ارے لقمان بھائی‘‘ ۔۔۔ میری جب کرسی کے سامنے والے حصے پر نظر پڑی تو ’’سر‘‘ کی جگہ پھر سے ٹوپی سر پر چڑھائے لقمان بھائی دکھائی دےئے ۔۔۔ کمال سرعت سے میرے کرسی کے گرد گھومنے کی دوران اُنھوں نے ’’سادہ‘‘ سر پر ٹوپی چڑھا لی اور ہم دونوں نہایت سنجیدگی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔۔؟!

حالانکہ میں خود پر جبر کر کے اپنی ہنسی بڑی مشکل سے کنٹرول کیے کھڑا تھا ؟ ۔۔۔ اس بات کا احساس شاید لقمان بھائی کو بھی ہو چکا تھا ۔۔۔ میرا آج کا تازہ شعر ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔

ہم اُن کو سوچتے ہوئے کل رات رو دئیے

وہ ’’خبر نامہ‘‘ دیکھنے سے پہلے ہی سو دئیے


ای پیپر