فوٹو بشکریہ فیس بک

پنجاب میں نااہلی اور نکما پن اپنی انتہا کو پہنچ چکا: چیف جسٹس
06 جنوری 2019 (15:50) 2019-01-06

لاہور: سپریم کورٹ نے پاکستان کڈنی اینڈ ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کی قانون سازی اور جگر کی پیوندکاری سے متعلق تسلی بخش جواب نہ دینے پر وزیر صحت پنجاب پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پی کے ایل آئی ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پنجاب حکومت اور صوبائی وزیر صحت پر برس پڑے۔ حکومت نے 22 ارب لگا دیا، پی کے ایل آئی سے متعلق قانون سازی کا کیا بنا؟ چیف جسٹس کے استفسار پر وزیر صحت یاسمین راشد نے بتایا قانون سازی کیلئے مسودہ محکمہ قانون کو بهجوا دیا۔

جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار برہم ہوگئے، بولے بی بی آپ کچھ نہیں کر رہیں، گزشتہ سماعت پر بھی یہی موقف اپنایا، اب بھی بہانے بنا رہی ہیں، ہر سماعت پر آپ اور پنجاب حکومت زبانی جمع خرچ کر کے آجاتی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے صوبائی حکومت کی کار کردگی پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ، ریمارکس دیئے پنجاب میں نااہلی اور نکما پن اپنی انتہا کو پہنچ چکا، وزیر صحت پی کے ایل آئی ٹرسٹ ہی ختم نہیں کیا، جس کا جو دل کرتا ہے کرے اور چلائے اس کڈنی انسٹی ٹیوٹ کو۔ پنجاب حکومت کی نااہلی کو بھی تحریری حکم کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ازخود نوٹس کیس کی مزید سماعت فروری کے آخری ہفتے ہوگی۔


ای پیپر