فوٹو بشکریہ فیس بک

کھوکھر برادران کیس، سپریم کورٹ کا اینٹی کرپشن کو کارروائی کا حکم
06 جنوری 2019 (14:36) 2019-01-06

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کهوکهر برادران کی طرف سے شہریوں کی جائیدادوں پر قبضوں کیخلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قبضے کا کلچر کھوکھر برادران نے متعارف کرایا ہے۔ یہ جو نظریں جھکا کر میرے سامنے کھڑے ہیں ان لوگوں نے میرے ساتھ جو کرنا ہے مجھے پتہ ہے۔ لیکن میں بتا دوں، میں جہاد پر نکلا ہوں، میرے ساتھ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ یہ لوگ میری ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک اور لوگوں کو لوٹنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ان لوگوں نے علاقے میں خوف کی صورتحال بنا رکھی ہے، لوگ اپنی عزتیں اور جانیں بچانے کے لیے ان کیخلاف نہیں بولتے۔

سپریم کورٹ کا اینٹی کرپشن کو اپنی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کا حکم۔ انٹی کرپشن سفارشات کے مطابق کھوکھر پیلس میں سرکاری اراضی سمیت لوگوں کی اراضی بھی شامل کی گئی۔ جوہر ٹاؤن میں سیف مارکیٹ خلاف قانون بنائی گئی، ملتان روڈ پر کھوکھر مارکیٹ و دیگر غیر قانونی تعمیرات کی گئیں۔ ایل ڈی اے، ریونیو اور ٹی ایم اے افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔ ڈی جی اینٹی کرپشن نے کہا کہ کھوکھر برادران نے ضمانتیں بھی 17 جنوری تک کرا رکھی ہیں۔

ایف آئی اے کی سابق ڈپٹی ڈائریکٹر عاصمہ قاضی اپنے پلاٹ پر قبضے کے خلاف پیش ہوگئیں۔ افضل کھوکھر نے خاتون کے پیش ہونے پر ماتھا پکڑ لیا۔ خاتون نے کہا کہ میرے پلاٹ پر کھوکھر برادران نے قبضہ کرار کھا ہے۔ ایف آئی اے افسر ہونے کے باوجود قبضہ نہیں چھڑا سکی۔


ای پیپر