حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے یوم وفات پر!
06 فروری 2021 2021-02-06

کل خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کا یوم وفات تھا۔ ابھی ایک روز پہلے میں اُن کی سخاوت کا ایک عظیم واقعہ کہیں پڑھ رہا تھا، اُن کے دورمیں ایک شخص شام(ملک) سے سفرکرتے ہوئے اُن کے پاس آیا اور عرض کیا ”آپؓ امیر بھی ہیں یعنی آپؓ مالدار بھی ہیں اور امیر یعنی مسلمانوں کے سربراہ بھی ہیں، میں بڑی دورسے بڑی آس اُمید لگاکر آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، میرے اُوپر بہت قرض چڑھ گیا ہے ،میری مدد فرمائیں “....”آپؓ نے اُس کی بات بڑے غورسے سُنی اور اُسے اپنے گھرلے گئے، اُس شخص نے دیکھا گھرکا دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھرکے اندر ایک چارپائی تک نہ تھی، صرف کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں۔ اور وہ بھی پھٹی پرانی تھیں، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اُس شخص کو ایک چٹائی پر بٹھا لیا۔ اُس سے کہنے لگے”میں تمہیں ایک عجیب بات بتاﺅں؟“، وہ شخص بولا ”جی بتائیے“، فرمانے لگے ”تین دن سے میں نے اناج کا ایک دانا نہیں کھایا، کھجور پر گزارا کرلیتا ہوں، اصل میں آج کل میرے حالات ٹھیک نہیں ہیں، “اُس شخص نے آپؓ کی بات سُنی اور آپؓ سے کہنے لگا”حضور میں پھر کیا کروں؟ میں تو اتنی دُورسے آپ سے بہت اُمید لگاکر آیا ہوں“.... اِس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا” تم عثمان غنیؓ کے پاس جاﺅ“، وہ شخص بولا ”پرحضرت مجھے تو بہت ساری رقم چاہیے“.... حضرت ابوبکرصدیقؓ نے فرمایا ”تیری سوچ وہاں ختم ہوتی ہے جہاں عثمان غنیؓ کی سخاوت شروع ہوتی ہے“.... وہ شخص کہنے لگا ”تو میں اُن کے پاس جاکر آپؓ کا نام لُوں کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپؓ کے پاس بھیجا ہے ، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا ” تمہیں اس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ اُنہیں صرف اتنا بتانا کہ میں مقروض ہوں اور رسول اللہ کا نوکرہوں، وہ شخص بولا ”اگر اُنہوں نے مجھ سے کوئی دلیل حوالہ مانگا تو میں کیا کروں گا ؟۔ آپؓ نے جواب دیا” حضرت عثمان غنیؓ اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے تفتیش نہیں کرتے، سخاوت کرتے ہوئے معاملات کو ٹٹولنا حضرت عثمان غنیؓ کی عادت نہیں“....وہ شخص آپؓ کی یہ بات سن کر حضرت عثمان غنیؓ کے پاس چلے گیا، دروازے پر دستک دی، حضرت عثمان غنی کے بولنے کی آوازیں اندر سے آرہی تھیں، وہ اپنے بچوں سے کہہ رہے تھے کہ تم دودھ کے اندر شہد ملا کر پیتے ہو خرچا تھوڑا کم کرو، دودھ میٹھا ہوتا ہے اُس میں میٹھا شہد ملانے کی کیا ضرورت ہے؟ تم کوئی بیمار تو نہیں ہو“....اُس شخص نے سوچا کہ حضرت ابوبکر صدیق تو بڑی باتیں کررہے تھے اور یہاں حضرت عثمان غنیؓ دودھ میں شہد ملانے پر اپنے بچوں کو ڈانٹ رہے ہیں۔ مجھے تو کئی ہزار دینار چاہئیں یہ مجھے کہاں سے دیں گے؟“....وہ شخص ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا دروازہ کھلنے کی آواز آئی ۔ اُس شخص نے حضرت عثمان غنیؓ کو سلام کیا،اُنہوں نے جواب دیا، وہ سمجھ گئے یہ مسلمان ہے، وہ اُس شخص سے مخاطب ہوئے، کہنے لگے”معاف کرنا بچوں کو ایک بات سمجھا رہا تھا دروازہ کھولنے میں ذرا دیر ہوگئی، اُس کے بعد وہ اُس شخص کو گھرکے اندر لے گئے۔ اُسے بڑی عزت آبرو سے بٹھایا پہلے اُسے دودھ میں شہد ڈال کر پیش کیا، پھر کھجور کا حلوہ لے آئے.... اُس شخص نے سوچا کتنے عجیب آدمی ہیں، بچوں کو ڈانٹ رہے ہیں کہ دودھ اور شہد میں سے ایک شے استعمال کیا کرو اور میرے لیے تین تین چیزیں آرہی ہیں، ابھی وہ شخص یہ سوچ ہی رہا تھا حضرت عثمان غنی ؓ نے اُس سے پوچھا ، کیسے آئے ہو؟، اُس شخص نے جواب دیا ”حضور میں مسلمان ہوں، ملک شام کے ایک گاﺅں سے آیا ہوں، کچھ کاروباری مشکلات کی وجہ سے بہت مقروض ہوگیا ہوں۔ مجھے آپؓ کی مدد کی حاجت ہے“.... حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے غلام کو بلاکر اُس کے کان میں کچھ کہا۔ کچھ ہی دیر بعد غلام اُونٹ پر سامان لاد کر حاضر ہوا، اُس شخص نے کہا ”حضورمجھے تو تین ہزار اشرفیاں چاہئیں“، عثمان غنی فرمانے لگے ”اِس اُونٹ پر میں نے تمہارے لیے اور تمہارے گھروالوں کے لیے کھانے پینے کے بہت سے سامان کے علاوہ چھ ہزار اشرفیاں بھی رکھوادی ہیں، اِس کے علاوہ تم پیدل آئے تھے اور اب ایک اُونٹ لے کر جارہے ہو“ ....وہ شخص بولا ”حضوریہ اُونٹ واپس کرنے کون آئے گا؟“.... آپؓ نے فرمایا ” یہ میں نے تمہیں واپس کرنے کے لیے دیا ہی نہیں، یہ میری طرف سے تحفہ ہے“.... اُس شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے، وہ کہنے لگا ”حضورآپ نے تو مجھے میری توقع سے بہت بڑھ کر نواز دیا ہے، میں تو آپ کے دروازے پر کھڑا سوچ رہا تھا کہ جو شخص اپنے بچوں کو دودھ میں شہد ڈال کر پینے سے منع کررہا ہے، وہ میری کیا مدد کرے گا؟“اُس شخص کی بات سُن کر حضرت عثمان غنیؓ فرمانے لگے “اللہ نے جو پیسے مجھے دیئے ہیں وہ اِس لیے نہیں دیئے کہ عثمانؓ کی اولاد عیش مستی کرتی پھرے، میرے مالک نے مجھے اِس لیے نوازا ہے کہ میں محمدعربی کے نوکروں کی نوکری کروں“.... وہ شخص دروازے پر گیا اور حضرت عثمان غنیؓ کا شکریہ ادا کیا تو وہ بولے ”شکریہ میرا نہیں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ادا کرنا“ ،.... وہ شخص بڑا حیران ہوا کہ میں نے تو حضرت عثمان غنیؓ کو بتایا ہی نہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھیجا ہے، اِنہیں کیسے پتہ چل گیا ؟۔اُس شخص نے حضرت عثمان غنیؓ سے پوچھا ” میں نے تو آپ کو بتایا ہی نہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھیجا ہے، آپ کو کیسے یہ بات معلوم ہوگئی؟، حضرت عثمان غنیؓ اُس شخص کی بات سُن کر مسکرائے اور فرمانے لگے ”آپ اِس بات کو چھوڑیں ،آپ کا کام ہوگیا۔ آپ اِس کی تفصیلات میں نہ پڑیں“.... یہ ہمارے پیغمبروں کی شان کا ایک واقعہ ہے ۔ایسے سینکڑوں واقعات ہیں جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہوسکتے ہیں، پر ہماری بدبختی اور بدقسمتی یہ ہے ہم ہدایت حاصل ہی نہیں کرنا چاہتے ،میں آج کشمیر ڈے پر کالم ابھی لکھنے ہی لگا تھا میری نظر سے چھوٹی سی ایک خبرگزری ”آج حضرت ابوبکر صدیقؓ کا یوم وفات ہے“۔سو مجھے وہ واقعہ یاد آگیا جو ابھی ایک روز پہلے میں نے پڑھا تھا۔ جو میں نے اُوپر تحریر کردیا، یہ واقعہ خصوصاً اُن لوگوں کے لیے ایک پیغام ،ایک سبق ہے جو اللہ کے بخشی ہوئی بے شمار نعمتوں اور مال وزر کو صرف اپنے اور اپنے بال بچوںتک محدودرکھتے ہیں، اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اُنہوں نے کون سا کسی مستحق کو پلے سے دینا ہے، اللہ کے دیئے ہوئے میں سے ہی دینا ہے۔ جیسا کہ ہمارے صوفی دانشور حضرت اشفاق احمد فرمایا کرتے تھے،.... دعا ہے اللہ ہم سب کو اپنی اپنی توفیق کے مطابق مستحقین کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 


ای پیپر