اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں !
06 فروری 2020 2020-02-06

(ساتویں قسط، گزشتہ سے پیوستہ)!

میں اپنے گزشتہ کالم میں عرض کررہا تھا گرمیوں کی چھٹیوں میں عموماً جون کے پہلے ہفتے میں اپنی فیملی کو لے کر کینیڈا چلے جاتا ہوں، وہاں میرا سسرال ہے۔ 2018ءکے عام انتخابات جولائی میں ہورہے تھے، لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا اِس برس ہم کینیڈا نہیں جائیں گے، ہم اس یقین میں مبتلا تھے اِس بار ہمارے ”ووٹ کی طاقت“ سے عمران خان ضرور اقتدار میں آجائے گا، حالانکہ الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے اس ملک کی اصل قوتوں نے جو ماحول بنادیا تھا، جوکہ ہربار ہی الیکشن سے پہلے وہ بنا دیتی ہیں، اُس سے ہم اِس احساس میں بھی مبتلا تھے ہم ووٹ نہیں بھی دیں گے کوئی فرق نہیں پڑے گا، خان صاحب کا وزیراعظم بننا یقینی ہے۔ خان صاحب ”تبدیلی“ کا جو نعرہ لگارہے تھے، پاکستان کو ”نیا پاکستان“ یعنی”صاف ستھرا پاکستان“ بنانے کے جو بلند وبانگ دعوے کررہے تھے، ہم آٹے میں نمک کے برابر ہی سہی اُس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے تھے، میں تو اپنا حصہ اُن کے ساتھ چوبیس برسوں کی جدوجہد کرکے کافی حدتک ڈال چکا تھا، پر میری فیملی خصوصاً میرے بچے لازماً ووٹ کاسٹ کرنا چاہتے تھے، وہ چاہتے تھے خان صاحب کے دعوﺅں کے مطابق اور ان کے دکھائے ہوئے سہانے سپنوں کے مطابق پاکستان اگر واقعی ” نیا پاکستان“ بن گیا وہ بڑے فخر سے اپنے بچوں کو کہہ سکیں گے اِس میں اُن کا ووٹ بھی شامل ہے .... لہٰذاہم نے اپنے طورپر یہ فیصلہ کرلیا ، ہم اس بار کینیڈا نہیں جائیں گے، اور اگر جانا ہی ہوا الیکشن کرواکر، خان صاحب کو وزیراعظم بنواکر چلے جائیں گے،....ہماری قسمت میں مگر جانا لکھا تھا، سسرالی عزیزوں میں دوشادیاں تھیں اور وہ ہم پر مسلسل دباﺅ ڈال رہے تھے ہم لازمی اُن میں شریک ہوں، اُن کا کہنا تھا اِس بارعمران خان نے اقتدار میں تو آہی جانا ہے لہٰذا آپ آجائیں آپ کے دوچارووٹوں سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے، بیگم اور بچوں سے میں نے کہا آپ چلے جائیں میں بعد میں آجاﺅں گا، پر وہ میرے بغیر جانے پر راضی نہ تھے۔ میرے لیے یہ بڑا کٹھن مرحلہ تھا، الیکشن کے حوالے سے خان صاحب نے کچھ ذمہ داریاں سونپ رکھی تھیں، خصوصاً میڈیا کے حوالے سے کچھ ذمہ داریاں ایسی تھیں جووہ سمجھتے تھے صرف میں ہی پوری کرسکتا ہوں، میں ایک عجیب امتحان میں پھنس گیا تھا، بیگم کو تو میں نے راضی کرلیا، پر بچے خصوصاً بیٹی بالکل بھی میرے بغیر جانے کے لیے تیار نہ تھی، اُوپر سے میری ساس اور سسر جوکہ خاصے بزرگ ہیں کا دباﺅ مسلسل بڑھتا جارہا تھا آپ شادیوں میں لازمی شریک ہوں، سو میں نے خان صاحب سے ایک میٹنگ کی ، اُن سے کہا جو ذمہ داریاں مجھے سونپی گئی ہیں وہ میں کینیڈا جاکر بھی پوری کرسکتا ہوں، اُنہوں نے مجھے اجازت دے دی، .... ہم جب کینیڈا (ٹورنٹو) پہنچے دوچار دن آرام کے بعد وہاں مقیم پاکستانیوں سے ملے ہماری طرح وہ بھی اِس بات پر خوشی سے پُھولے نہیں سمارہے تھے کہ اس بار خان صاحب کو اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا، بلکہ کچھ پاکستانی تو اس قدر جذباتی تھے وہ سمجھتے تھے اللہ بھی نہیں روک سکتا، وہ تھوک کے حساب سے پیسے پاکستان بھجوارہے تھے۔ تحریک انصاف کی مالی مدد کررہے تھے، اِس کے علاوہ سینکڑوں پاکستانی صرف اپنا ووٹ کاسٹ کرنے پاکستان جارہے تھے۔ ایک شخص رمضان شاہ نے مجھ سے کہا ” میں اپنی ماں کی وفات پر پاکستان نہیں گیا تھا پر الیکشن میں خان صاحب کو ووٹ دینے ضرور جاﺅں گا“ .... میں نے اُس سے کہا” لخ دی لعنت تم پر اگر ماں کے جنازے پر تم نہیں گئے اور اب ووٹ کاسٹ کرنے جارہے ہو “ .... کہنے کا مطلب یہ ہے لوگ خان صاحب کو اقتدار میں لانے کے لیے اس قدر جذباتی تھے، بے شمار اوورسیزپاکستانی پوری دنیا سے صرف ووٹ ڈالنے پاکستان آرہے تھے ۔اُن دنوں کینیڈا اور مختلف ممالک سے پاکستان آنے والی فلائٹوں پر ٹکٹ یا سیٹ ملنا ناممکن ہوچکا تھا، تب میں یہ سوچ رہا تھا اِس ملک کی اصل قوتیں عمران خان کو اقتدار میں لانے سے پہلے ایک روایتی خاص ماحول نہ بھی بناتی اُنہوں نے لازمی اقتدار میں آجانا تھا، کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کے گھروں میں بڑے بڑے سیاسی اجتماع ہورہے تھے، ہرکوئی خان صاحب کے گن گارہا تھا، اُن کی جماعت کے لیے لکھے گئے ترانے کینیڈا میں بھی ہرجگہ ایسے گونچ رہے تھے جیسے پاکستان میں گونج رہے تھے، .... کینیڈا کے مختلف شہروں میں مقیم پاکستانیوں کو جب پتہ چلا میں ان دنوں کینیڈا میں ہوں انہوں نے پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کے ضمن میں منعقدہ اجلاسوں اور تقریبات میں مجھے بھی مدعو کرنا شروع کردیا، وہاں مقیم خان صاحب کے

دیرینہ مخلص دوست اور پی ٹی آئی کے بانی رکن بھائی جان حفیظ خان اس سلسلے میں بہت فعال کردار ادا کررہے تھے، اُن کے اس فعال کردار کی وجہ سے بے شمار لوگ اس یقین میں مبتلا ہوگئے تھے خان صاحب کے وزیراعظم بننے کی صورت میں حفیظ خان کو کینیڈا میں پاکستان کا سفیر بنادیا جائے گا، یا کسی اور اہم عہدے سے نوازا جائے گا، حفیظ خان صاحب ان سب باتوں یا لالچوں سے بے نیاز ہوکر صرف اور صرف پاکستان کی محبت میں عمران خان کا ساتھ دے رہے تھے ،وہ مجھے بھی کئی مقامات پر اپنے ساتھ لے جاتے جہاں ہم مل کر خان صاحب کے گن گاتے، ان کے حق میں کینیڈا کے مختلف چینلز پر بیٹھ کر لمبی لمبی چھوڑتے، اُنہیں فرشتہ بناکر پیش کرتے، لوگوں کے اس اطمینان کو مزید تقویت دینے کی کوشش کرتے ” پاکستان میں خان صاحب کی حکومت قائم ہوتے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی“ .... میں تو اس قدر جذباتی اور پاگل ہوگیا تھا کئی مقامات پر تقریر کرتے ہوئے یہ بھی بک گیا ”آپ دیکھ لیجئے گا خان صاحب اقتدار میں آکر فوری طورپر سب سے پہلا کام یہ کریں گے بنی گالہ کا محل بیچ کر رقم ” خالی قومی خزانے“ میں جمع کروادیں گے، اور ہمارے ایک سابق وزیراعظم ملک معراج خالد مرحوم کی طرح اڑھائی مرلے کے گھر میں رہنا شروع کردیں گے، علاوہ ازیں وہ سائیکل پر دفتر جایا کریں گے، دیسی مرغی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ کر مونگی کی دال پر گزارا کریں گے، بلکہ ملک میں پانی کا جو بحران ہے اُس کو پیش نظر رکھتے ہوئے دن میں اگر وہ بارہ گلاس پانی پیتے ہیں، کم کرکے دو گلاس پیا کریں گے“۔ .... اس قسم کی ”چولیں“ میں اس لیے مار رہا تھا میرے ساتھ ون ٹو ون کئی ملاقاتوں میں خان صاحب اِسی طرح کی یقین دہانیاں مجھے کروا چکے تھے، ان دنوں ہم نے بڑے ٹکا کر جھوٹ بولے۔ اتنے جھوٹ کہ اب سچ بولتے ہوئے شرم آتی ہے .... ہم جانتے تھے تکبر میں خان صاحب کا کوئی ثانی نہیں ہے، ہمیں معلوم تھا وہ پرلے درجے کے بے دید انسان ہیں، مطلب نکل جانے کے بعد کسی کو منہ نہیں لگاتے چاہے وہ کوئی خاتون ہی کیوں نہ ہو ، خونی رشتوں کی کوئی اہمیت ان کے ہاں نہیں ہے، سیاست میں آنے کے بعد جھوٹ بھی وہ ڈٹ کر بولتے ہیں، کہہ مکرنی ان کی فطرت میں شامل ہے۔ مگر ہم محض مال وزر کے حوالے سے ان کی ایمانداری کو مذکورہ بالا ساری خامیوں اور خرابیوں کو رتی بھر اہمیت نہیں دیتے تھے۔ بلکہ سچ پوچھیں تو ان کے محض مالی لحاظ سے کرپٹ نہ ہونے کی خوبی کے مقابلے میں ان کی مذکورہ بالا ساری خرابیاں ہمیں ان کی ”خوبیاں“ ہی لگتی تھیں۔ ....(جاری ہے)


ای پیپر