آسمانی فیصلوں کا دور پھر لوٹ آیا؟
06 فروری 2019 2019-02-06

پچھلی حکومت کے دور میں جو سول ملٹری تناؤ پایا جاتا تھا اور وہ بالآخر اتنی شدت اختیار کر گیا کہ اس کا تذکرہ زبان زد عام ہو گیا۔۔۔ میڈیا میں یہ بات گونجتی رہی اور عوامی حلقوں میں بھی یہ راز راز نہ رہا کہ پاکستان کی مقتدر قوتیں سول اور منتخب انتظامیہ سے بالا کچھ فیصلے کرتی ہیں اور ملک کے اندر دو متوازی نظام چل رہے ہیں۔۔۔ ایک جس کی طنابیں فیصلہ کن طاقتوں کے ہاتھوں میں ہیں اور دوسری سامنے نظر آنے والی حکومت تھی جو اپنے بارے میں آئینی اور عوام کے منتخب ہونے کا دعویٰ کرتی تھی لیکن بالائی طبقے عملاً اس کی اس حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔۔۔ اس کی وجہ سے ریاستی نظام کے اندر کھچاؤ بلکہ زبردست قسم کا تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔۔۔ باخبر حلقے اور ملک کے فہمیدہ عناصر بار بار اس جانب اشارہ کرتے اور کہتے تھے کہ سول ملٹری تناؤ کی یہ صورت حال جاری رہی تو ریاست کے رہے سہے نظام کو کھوکھلا کر کے رکھ دے گی۔۔۔ اس تناظر میں جولائی 2017ء کو تین بار منتخب ہونے والے وزیراعظم نواز شریف کی عدالتی برطرفی سامنے آئی۔۔۔ پھر عدالت عظمیٰ کی جانب سے انہیں نا اہل قرار دے دیا گیا اور کسی قسم کا سیاسی عہدہ اپنے پاس رکھنے کے ناقابل ٹھہرایا گیا۔۔۔ اس کے بعد 2018ء کے انتخابات منعقد ہوئے۔۔۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی مخلوط حکومت قائم ہوئی۔۔۔ ایک دم ایسی فضاء قائم ہوئی جس کے اندر تاثر قائم ہوا کہ مقتدر حلقے عمران خان کے وزیر اعظم بننے پر مطمئن اور اسے ریاستی و جمہوری تقاضوں کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں۔۔۔ ان حلقوں کی جانب سے نئے وزیراعظم کا دلی خیر مقدم کیا گیا ۔۔۔ جمہوریت لوٹ آنے کی نوید تک سنائی گئی۔۔۔ جی ایچ کیو آمد پر جناب عمران خان اور ان کی ٹیم کو جو پذیرائی ملی اور بعد میں آرمی چیف نے بھی ان کے ساتھ ایسی پے در پے ملاقاتیں کیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ سول اور ملٹری حلقوں کے درمیان نئے اعتماد اور باہمی مفاہمت کی فضا پروان چڑھ گئی ہے۔۔۔ تناؤ کی پہلی کی سی کیفیت برقرار نہیں رہی۔۔۔ اب ریاستی اور حکومتی معاملات زیادہ ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔۔۔ تحریک انصاف اس پر بڑی مطمئن اور مسرور تھی کہ ان کی حکومت کے راستے میں کوئی داخلی رکاوٹ نہیں رہی۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا تھا اور یہ خیال زور پکڑنے لگا اب ریاستی اور حکومتی نظام میں دوئی باقی نہیں رہی۔۔۔ یہاں تک کے بعض حلقوں کے نزدیک تعلقات مثالی صورت اختیار کرنے کی راہ پر چل پڑے تھے۔۔۔

لیکن موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے بمشکل 6 ماہ گزرے ہیں کہ یہ تاثر زائل ہونا شروع ہو گیا ہے۔۔۔ میڈیا اور دیگر عناصر کیا خود تحریک انصاف کے اعلیٰ حلقوں میں سوال اٹھ رہا ہے اور اگر شیخ رشید کے بیانات کو دیکھا جائے تو حکومت میں شامل لوگوں کے اندر کھلبلی مچی ہوئی ہے، سوال اٹھ رہے ہیں کہ بعض فیصلوں کا جنہیں عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی سر عام نا پسندیدہ قرار دے چکے ہیں صدور کہاں سے اور کیسے ہو رہا ہے اور کیا ان کے بارے میں وزیراعظم سے مشاورت بھی ہوتی ہے یا انہیں اعتماد میں بھی لیا جاتا ہے کہ نہیں۔۔۔ ایسے کسی تاثر کو دور کرنے کے لیے وزراء کی جانب سے ایک کے بعد دوسرا بیان بھی جاری ہونا شروع ہو گیا ہے لیکن بات بن نہیں پا رہی۔۔۔ اس بارے میں ابہام کہیے یا الجھاؤ کا نام دیجیے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔۔۔ ساری بات کا آغاز مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کے مسئلے پر ہوا جو ملک کے اندر قائم مسلمہ جمہوری روایت کے تحت قائد حزب اختلاف کا استحقاق سمجھا جاتا

ہے۔۔۔ پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن کے دیگر پارلیمانی جماعتوں نے بھی شہباز شریف کو یہ عہدہ دینے کی کھلی حمایت کر دی لیکن وزیراعظم عمران خان اور موصوف کے تتبّع میں ان کے وزراء نے بلند آہنگ لہجے میں اعلانات کیے کہ شہباز شریف نیب کے عائد کردہ الزامات کے تحت زیر حراست ہیں۔۔۔ اس لیے انہیں یہ اہم عہدہ نہیں دیا جا سکتا۔۔۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ شہباز اپنے بھائی نواز کے دور حکومت کے حسابات کا آڈٹ کیسے کریں گے۔۔۔ اس لیے عمران خان کی حکومت انہیں کسی طور بھی PAC کا چیئرمین بنانے پر آمادہ نہ ہو گی لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سمیت پوری کی پوری پارلیمانی اپوزیشن متحد ہو کر اس مؤقف پر ڈٹ گئی کہ نیب نے ابھی تک الزامات لگائے ہیں کسی کا ثبوت پیش نہیں کر سکی۔۔۔ شہباز کے خلاف کوئی مقدمہ قائم نہیں ہوا کوئی جرم ثابت نہیں ہو پایا لہٰذا مسلمہ پارلیمانی روایات کے تحت انہیں PAC کا چیئرمین بنایا جائے گا۔۔۔ اس کے ساتھ شہبا زشریف کی جانب سے بھی یہ وضاحت سامنے آئی کہ وہ اپنے بھائی کے زمانے کے حسابات کا آڈٹ نہیں کریں گے بلکہ یہ معاملات کمیٹی کے کسی دوسرے رکن کے اور وہ تحریک انصاف کا نمائندہ بھی ہو سکتا ہے سپرد کر دیں گے لیکن وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھی ان تمام باتوں کو خاطر میں لائے بغیر اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہے کہ ایک نیب زدہ آدمی کو PAC کا چیئرمین مقرر نہیں کیا جا سکتا نہ وہ ایسا ہونے دیں گے پھر اچانک سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا بیان سامنے آیا کہ انہوں نے وزیراعظم سے مشاورت کر لی ہے اور انہی کے ایماء پر میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا جا رہا ہے۔۔۔ یہ پڑھ اور سن کر تحریک انصاف کے اعلیٰ حلقے اور کارکن ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے کہ سپیکر صاحب نے حقیقتاً کس کے حکم کی تعمیل کی ہے۔۔۔ وزیراعظم عمران خان یا کسی اور کی۔۔۔ جناب وزیراعظم اس پر خاموش ہیں۔۔۔ بقیہ جات کو یہ پیشرفت ہضم نہیں ہو رہی ان کی جانب سے سوال پر سوال اٹھ رہا ہے کہ اصل حکم کہاں سے صادر ہوا۔۔۔ جبکہ حکومتی اتحادی وزیر شیخ رشید اپنی عادت کے مطابق صبح شام ٹی وی سکرین پر نمودار ہو کر فیصلے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہیں ۔۔۔ کبھی سپریم کورٹ جانے کی دھمکی دیتے ہیں۔۔۔ کبھی وزیراعظم سے بات کرنے کی اور کبھی ان سے سرعام مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں بھی کمیٹی کا رکن بنایا جائے۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی ایک نہیں چل رہی۔۔۔ گلی بازاروں میں اتر کر دیکھیں تو تحریک انصاف کا ہر کارکن اپنے ہم راز سے پوچھتا ہے کہ اصل فیصلہ کس نے کیا ہے۔۔۔ کسی کے منہ سے ہلکے سے خوف کے ساتھ ’ان‘ کی جانب اشارہ کرنے کے علاوہ بات نہیں نکل رہی۔۔۔ جبکہ شہباز شریف نیب کا قیدی ہونے کے ساتھ پورے طنطنے کے ساتھ سپیکر کے پراڈکشن آرڈر پر نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر سینہ تان کر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں بلکہ PAC کے اجلاسوں کی سربراہی کر کے حکومت والوں سے حساب کتاب بھی پوچھ رہے ہیں۔۔۔ ایک قیدی ہے جو حکم چلا رہا ہے۔۔۔ یہ صورت حال تحریک انصاف کے حکمرانوں کے لیے سخت پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔۔۔ نوبت بایں جا رسید کہ اپنے آپ کو مقتدر قوتوں کے قریبی سمجھنے والے شیخ رشید کو ایک کے بعد دوسری حیرانی یا پریشانی کا سامنا ہے۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ PAC میں شہباز شریف کا مقابلہ کرنے کے لیے عمران خان نے میر ا نام تجویز کیا تھا لیکن سپیکر اسد قیصر اس کی منظوری سے بھی احتراز سے کام لے رہے ہیں۔۔۔ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ سپیکر صاحب اتنے آزاد کیسے ہو گئے یا انہیں کہاں سے اشارہ مل رہا ہے۔۔۔

دوسری جانب حکومت کے سب سے بڑے مخالف اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت اور اس کے بعد علاج کے لیے بیرون ملک چلے جانے کے امکان کا سوال قومی افق پر چھا گیا ہے۔۔۔ اس کے بارے میں بھی پوچھا جا رہا ہے کہ سابق اور مقید وزیراعظم کی ضمانت ملنے کا امکان کیوں قوی نظر آ رہا ہے ۔۔۔ اور عمران حکومت کی مرضی کے بغیر ان کے بیرون ملک چلے جانے کی باتیں اس قدر عام کیوں ہو گئی ہیں۔۔۔ اس کا فیصلہ کہاں سے نازل ہونے والا ہے۔۔۔ اگر نواز شریف نے ڈیل کر لی ہے جو ظاہر ہے عمران خان کے ساتھ نہیں ہو گی نہ ان کے بس کی بات ہے۔۔۔ تو پھر کس قوت کے ساتھ سمجھوتہ ہوا ہے۔۔۔ اگر انہیں ڈھیل دی جا رہی ہے تو کس کے ایما پر ۔۔۔اس سارے کام میں جناب وزیراعظم عمران خان کہیں نظر نہیں آتے۔۔۔ ان کے قریب ترین ساتھی اور اہم وزراء سوال کا جواب دینے سے عاری ہیں۔۔۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس پردۂ زنگاری میں کونسا معشوق ہے۔۔۔ کیا پہلے والا دور پھر اچانک لوٹ آیا ہے۔۔۔ کیا ریاست کے آسمان سے فیصلے دوبارہ نازل ہونا شروع ہو گئے ہیں اور کار ہائے مملکت کی اصل طنابیں اب بھی ’’والیان ریاست‘‘ کے ہاتھوں میں ہیں عمران حکومت جن کی پسندیدہ ہونے کے باوجود حتمی اختیارات کی مالک نہیں۔۔۔ اس کے ساتھ ہی کسی خفیہ گوشے سے پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام لانے کی بحثیں اٹھائی جا رہی ہیں۔۔۔ 18 ویں ترمیم کو مشکوک بنایا جا رہا ہے۔۔۔ عمران خان سے ان کے حامی سوال کر رہے ہیں کہ جب تم بن کوئی موجود نہیں تو پھر ماجرا کیا ہے۔۔۔ نئے وزیراعظم سے ابھی تک کوئی جواب بن نہیں پا رہا۔۔۔


ای پیپر