پہلے کشمیر
06 فروری 2019 2019-02-06

پانچ فروری اب ایک قومی دن ہے۔ ابھی زیادہ پرانی بات نہیں حریت فکر کے ان تھک اور بے لوث سپاہی قاضی حسین احمد کی اپیل پر یوم یکجہتی منا نے کا آغاز ہوا۔ ایک عشرے سے زائد عرصہ بیت گیا۔ تحریک آزادی کشمیر قربانیوں کی کانٹوں بھری شاہراہ پر چلتے چلتے اب ایسے مقام پر پہنچ گئی۔ جہاں کامیابی اب زیادہ دور نہیں۔ کامیابی کی شکل کیا ہو گی۔ طالب علم نہیں جانتا۔ لیکن مظلوم و مقہور کشمیریوں کو اب زیادہ دیر غلام نہیں رکھا جا سکتا۔ زنجیریں ٹوٹ جانے کا وقت قریب آچکا۔ پانچ فروری نے ایک بات تو ثابت کردی۔ دنیا بھر کے حریت پسند کشمیر کاز کے ساتھ ہیں۔ یونان سے لیکر فلپائن تک وہ کون سا گوشہ ہے۔ جہاں سے تحریک آزادی کے حق میں آواز نہ اٹھی ہو۔ہوسکتا ہے حاکمان وقت کی آنکھوں پر پڑی مفادات کی چربی نے ان کو دیکھنے سے عارضی طور پر محروم کردیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مظلوم کشمیری مرد و زن کی درد میں ڈوبی آوازیں ان کے کانوں تک نہ پہنچ رہی ہوں۔ لیکن گلوبل ویلج کی بین الاقوامی برادری سب کچھ جان چکی ہے۔ اگر کوئی بے خبر تھا بھی تو پانچ فروری کے عالمی دن نے مسئلہ کشمیر کو گھر کی چار دیواری کے اندر پہنچا دیا۔ ایتھنز سے کابل تک سری نگر سے برسلز تک تمام اہل پاکستان یک زبان ہو کر اہل کشمیر کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ یہ بتانے کیلئے کہ وہ سب ایک ہیں۔ یک زبان و یک آواز ہیں۔ سب ایک پیج پر ہیں۔ سفارتکار بہت گھاگ اور ٹھنڈے مزاج کے مالک ہوتے ہیں۔ اس روز سارک تنظیم کے ایک ملک کا قومی دن تھا۔ بڑے چھوٹے سب ملکوں کے سفارتکار درجہ بدرجہ پانچ ستارہ ہوٹل میں موجود تھے۔ بھارتی سفارتکار بھی ہجوم میں چکر اتے پھرتے تھے۔ خبروں اور اطلاع کی تلاش میں تھے۔ سوال ایک ہی تھا۔ پانچ فروری کو کیا ہوگا۔ ریسپانس کیسا رہے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس کیوں ہوئی۔ کیا مقصد تھا۔ ایک اپنے تئین تیز طرار نو وارد سفارت کار نے تیسری دفعہ پوچھا تو اس کو کہا کشمیر پر کوئی اپوزیشن ہے نہ حکومت۔ سب ایک پیج پر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ کیا جناب نے نوٹ نہیں کیا کہ کیسے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنتی ہے۔

آج فیصلہ ہوجائے۔ کل تک دلی کی شہر پناہ تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر بھارت کو مفلوج کیا جاسکتا ہے۔سو راستہ ایک ہی ہے۔ اپنی سرکار کو بتائیے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس کی پہلی اور آخری ترجیح کشمیر کی آزادی ہے۔ اپوزیشن ہو یا حکومت سب ایک ہیں۔ اگر ایک نہ ہوتے تو سرما کی ٹھٹھرتی صبح سویرے صدر مملکت اٹھ کر مظفر آباد کیوں جاتے۔ میر پور سے چکوٹھی تک برفیلے موسم میں عوام سڑکوں پر کیوں ہوتے۔ وہ ڈی چوک جو کبھی صرف احتجاج کیلئے مختص تھا۔ بچوں بوڑھوں جوانوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے۔ اپوزیشن سیاسی مصروفیت کو چھوڑ کیوں جمع ہوتے اور تحریک آزادی کشمیر کیلئے فارمولہ پیش کرتے۔ کاش حکومتی جماعت کے نمائندے بھی اس کانفرنس میں شرکت کرتے تو اپوزیشن کی آواز مزید توانا ہوتی۔ اپوزیشن کا مطالبہ بہت جاندار ہے۔ بھارتی افواج فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے نکل جاے۔ جیسے افغانستان سے امریکی تھک ہار کر شکست کو سامنے دیکھ پسپائی کا سوچ رہے ہیں۔ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب بھارت اپنی افواج کو مقبوضہ کشمیر سے نکلنے کا پلان بنا رہا ہوگا۔ دوسرا مطالبہ بہت عملی اور جاندار ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بربریت کی تحقیقات کیلئے غیر جانبدار کمیشن قائم کیا جائے۔ یہ کمیشن وادی کشمیر کا دورہ کرے اور اپنی رپورٹ مرتب کرے۔گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جانب سے ایسی ہی ایک رپورٹ جاری کی جاچکی ہے۔ اس رپورٹ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھارت کا چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد ناروے کے سابق وزیر اعظم نے بھارت کا دورہ کیا۔ اسی دورہ کے تسلسل میں ناروے کی موجودہ وزیراعظم بھی نئی دہلی گئیں۔اور بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے زور دیا۔ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا پانچ روزہ دورہ پر پاکستان آئیں اور مسئلہ کشمیر پرپاکستان کا نکتہ نظر جانا۔ ان کے دورہ پر پیش رفت جلد نظر آئے گی۔پانچ فروری کو مظفر آباد میں منتخب اسمبلی سے خطاب کیا۔ یہ کوئی روایتی خطاب نہ تھا۔ صدر مملکت کا خطاب آٹھ ٹھوس نکات پر مشتمل تھا۔صدر مملکت کی تجویز تھی کہ بھارت تمام حریت لیڈروں کو فوری طور پر رہا کرے۔آزادی اظہار پر عائد تمام پا بندیوں کا خاتمہ کرے۔ مقبوضہ وادی میں آتشیں اسلحہ بشمول پیلٹ گن کا استعمال بند کیا جائے۔تمام کالے قوانین فوری طور ختم کیے جائیں۔ انسانی حقوق کے عالمی مبصرین کیلئے مقبوضہ کشمیر کو کھو دیا جائے۔ عالمی اور مقامی میڈیا سے پابندیاں ختم کی جائیں۔

پانچ فروری ہی نہیں سال کے تین سو پینسٹھ دن اہل پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہر پلیٹ فارم پر۔ ہر مقام پر۔ پاکستان ان گنت مرتبہ دوستی کا پیغام دے چکا۔ شرط صرف مسئلہ کشمیر پر مذاکرات ہیں۔ صدر مملکت کے آٹھ نکات اہم ترین ہیں۔ بھارت آگے بڑھنا چاہتا ہے تو فوری طور پر یہ اقدامات کرے تاکہ مذاکرات کا راستہ ہموار ہو اور قضیہ کشمیر کا حل نکلے۔


ای پیپر