ہوش کا سبق۔۔۔!
06 فروری 2019 2019-02-06

سیاست میں چھوٹے چھوٹے واقعات بہت بڑے بڑے نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں جن سے قومی قیادت کے عروج و زوال کی کہانیاں بنتی ہیں۔ 1970 ء کی دہائی میں ایک دفعہ ذوالفقار علی بھٹو بحرین ایئر پورٹ پر اترے تو اس وقت بحرین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ایک سر گرم سماجی کارکن حاجی محمد اشفاق نے اپنے ذاتی کیمرے سے بھٹو مرحوم کی تصویر بنائی یہ ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر تھی جس کی کوالٹی بھی اتنی شفاف نہ تھی مگر یہ ایک یاد گار تصویر تھی۔ وقت گزر گیا مگر تصویر ٹھہر گئی۔ غالباً 1995 میں جب بے نظیر بھٹو دوسری بار وزیر اعظم تھیں تو یہ بحرین کے سرکاری دورے پر تشریف لے گئیں۔ کمیونٹی سے خطاب کے موقع پر حاجی اشفاق نے انہیں بھٹو صاحب کی وہ تصویر تحفہ میں دیدی جسے محترمہ نے شکریہ کے ساتھ اپنے بیگ میں رکھ لیا ۔ انہوں نے واپس آ کر حاجی اشفاق کے جذبہ خیر سگالی سے متاثر ہو کر انہیں شکریہ کا خط لکھا اور ساتھ اپنی ایک تصویر حاجی اشفاق کو روانہ کی جس پر بے نظیر نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا Best wishes for haji ashfaq اور نیچے اپنے دستخط بھی کیے۔ محترمہ کے پاس چونکہ حاجی اشفاق کا ایڈریس نہیں تھا لہٰذا انہوں نے وہ تصویر بحرین میں پاکستانی سفارتخانہ کو ارسال کی کہ یہ حاجی اشفاق کو دیدیں ۔ میں ان دنوں بحرین کی وزارت داخلہ میں فرائض انجام دے رہا تھا اور اس دور کے بہت سے واقعات کا عینی شاہد ہوں اس وقت نصر میاں وہاں پاکستان کے سفیر تھے اور پاکستان سکول بحرین اور پاکستان کلب پر قبضے کی جنگ میں سفیر پاکستان اور کمیونٹی کے درمیان تعلقات نہایت کشیدہ تھے حاجی اشفاق کمیونٹی لیڈر تھے لہٰذا سفیر نے اپنی ذاتی رنجش کی بناء پر وہ تصویر انہیں نہ دی۔ وقت گزرتا گیا بے نظیر کی حکومت ختم ہوئی نصر میاں کو ڈاکٹر اے کیو خان کی مداخلت پر بحرین سے واپس بلا لیا گیا نئے سفیر نے کافی عرصہ بعد وہ تصویر دیکھی اور حاجی اشفاق کے حوالے کر دی گئی ۔ حاجی صاحب کی عمر اس وقت 80 سے تجاوز کر چکی ہے اور وہ تصویر ان کے پاس محفوظ ہے۔ بے نظیر بھٹو کی لیڈر شپ ی خوبی یہ تھی کہ پارٹی ورکر انہیں خط لکھتے تھے تو وہ خود ان کا جواب دیتی تھیں۔ سندھ کے ایک ورکر نے خط لکھا کہ میں بیمار ہوں اور اسپتال میں کینسر کے علاج کے لیے داخل ہوں۔ بے نظیر صاحبہ اس کے پیچھے اسپتال پہنچ

گئیں اور ذاتی طور پر اس کی مالی امداد بھی کی۔ یہ وجہ تھی کہ ان کے دور میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے بھی آگے بڑھ چکی تھیں ان کی وفات کے بعد پارٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کو پیپلز پارٹی کے انجام سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی پارٹیاں کیسے بنتی ہیں اور کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہر کر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کو اقتدار میں آنے تک 22 سال کا عرصہ لگا۔ 1996 ء سے 2011 ء تک پارٹی کا عرصہ خالصتاً نظریاتی دور تھا اور اس دور میں پارٹی میں شامل ہونے والے لوگ 5 سے 10 مرلے کے مکانوں میں رہنے والے لوگ تھے جو مڈل کلاس طبقہ تھا جو سیاست پر سرمایہ دار اور جاگیردار کے تسلط کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بے چین تھے۔ اس دور کی پارٹی میٹنگز کی تصاویر دیکھیں تو وہاں آپ کو AC نہیں بلکہ پیڈسٹل فین نظر آئیں گے ۔ 2011 ء میں مینار پاکستان پر جلسے کے بعد پارٹی ملک کی سیاسی منڈی میں داخل ہوتی ہے یہ تحریک انصاف کا دوسرا دور تھا ۔ سیاست کے سٹاک ایکسچینج میں تحریک انصاف کے شیئرز کی قیمت دن بدن اوپر جا رہی تھی یہ وہ دور تھا جب پارٹی میں انویسٹمنٹ کا آغاز ہوا۔ بڑے بڑے نام پارٹی میں آنا شروع ہوئے کیونکہ پارٹی پرواز کے لیے تیار تھی اور سیاست کے محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کر دی تھی کہ یہ پارٹی اب تنہا پرواز کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ جیسے جیسے عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے تھے اور دو پارٹی نظام مایوس کن تھا عوام کی توجہ تھرڈ آپشن پر مرکوز ہو جاتی تھی۔ قائد اعظم اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے ناموں کے ساتھ چلنے والی پارٹیوں کے سامنے عمران خان کا تحریک انصاف کو بطور ایک پارٹی کھڑا کر دینا ہی تاریخ کا بہت بڑا شعبدہ تھا۔ فیصلہ کن گھڑی میں پارٹی نے ان عناصر کو بھی گلے لگا لیا جن کے خلاف جدو جہد کی خاطر تحریک انصاف نے جنم لیا تھا ۔ اس میں ورکرز کو تاثر دیا گیا کہ طاقتور طبقوں کو ساتھ ملانا ایک مجبوری ہے انہیں یقین دلایا گیا کہ فیصلہ کن قوت اصل پارٹی قیادت کے پاس ہی رہے گی ۔ اعدادوشمار کے کھیل کے لیے ہمیں ریس کے گھوڑوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا موجودہ دور پارٹی کا تیسرا دور ہے اس وقت ملک پر ان کی حکومت قائم ہے یہ سب سے نازک دور ہے اس لیے کہ پارٹی کو عوام ی امنگوں پر پورا اترنا ہے۔ اقتصادی طور پر ملک بہت بڑے بحران سے دو چار ہے ملکی معیشت ICU میں ہے اور قرضوں کے ذریعے معیشت کو مصنوعی تنفس (Ventilator ) پر رکھا گیا ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ پارٹی اندرونی طور پر ایک سرد جنگ کی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ پارٹی کے اندر خاموش گروپ بندی موجود ہے۔ جس میں مختلف دھڑے کام کر رہے ہیں جہاں جس کو موقع ملتا ہے۔ وہاں ’’ اپنا بندہ‘‘ کلچر پروموٹ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پارٹی چیئر مین کے پاس پارٹی امور نپٹانے کا وقت نہیں ہے اور نہ ہی ورکرز کی آواز ان تک پہنچتی ہے۔ پارٹی میں Grass Roots سطح پر پارٹی سے بد دل ہو کر پارٹی کو خیر باد کہنے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ یہ نئی بات نہیں ہے ایسا لہر بر سر اقتدار پارٹی کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن پارٹیاں حکمت عملی کے تحت اس ٹوٹ پھوٹ پر اصلاح احوال کرتی ہیں اور روٹھنے والوں کو منایا جاتا ہے یہاں ایسا کوئی سسٹم نہیں ہے۔

پارٹی کا ایک گروپ وہ ہے جو Loyalist ہیں اور پرانے لوگ ہیں جن کا تعلق مڈل کلاس سے ہے جبکہ دوسرا گروپ جسے کارپوریٹ گروپ کہنا چاہیے جو آناً فاناً پارٹی جوائن کر کے پیسے کے زور پر انتخابات جیتتے ہیں اور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ان کو کوشش ہے کہ چیئر مین نے وفادار کارکنوں کو ایڈجسٹ کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس میں بھی اپنے بندے ہر جگہ پلانٹ کروائے جائیں اگر ایسا ہوا تو یہ بد قسمتی کی بات ہو گی ۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ساؤنڈ پروف ہے اسے نہ ورکرز کی شکایت پہنچتی ہے اور نہ ہی میڈیا میں شائع ہونے والی Feedback ان تک پہنچ پاتی ہے۔ مشیروں کی بھر مار ہے۔

اس وقت دو سطح پر لابنگ ہو رہی ہے ایک تو اعلیٰ سطح پر ہے جہاں سینیٹ کی رکنیت یا مشیر لگانے کی تگ ودو میں زور لگایا جا رہا ہے جبکہ دوسرا ڈسٹرکٹ لیول پر کمیٹیاں بنی ہیں کہ پرانے پارٹی ورکرز کو حکومتی عہدے دیئے جائیں دونوں سطح پر طاقتور طبقہ یعنی ایم پی اے، ایم این اے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ جیسے جیسے میرٹ کو روندا جائے گا اُسی رفتار سے پارٹی کے اندر cancercells کی تعداد بڑھے گی اور مرضی کا علاج نہ کیا گیا تو پارٹی کا انجام پیپلز پارٹی جیسا ہو گا ۔ یہ تاریخ کا سبق ہے۔


ای پیپر