قرض کی مے
06 فروری 2019 2019-02-06

تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم میں نہایت زور شور سے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ معیشت کی بحالی اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے ملک میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کاروبار دوست اور عادلانہ ٹیکس کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ جس نظام میں ایک مقرر آمدنی سے زائد پر ٹیکس وصول کرنا ، دستاویزی معیشت بنانا ودہولڈنگ ٹیکس میں نان فائلر کے تصور کو ختم کرنا شامل تھا۔ 23 جنوری 2019 کو وفاقی وزیر خزانہ نے منی بجٹ اور اصلاحاتی پیکج کے نام پر صنعت کاروں، تاجروں، کارپوریٹ سیکٹر، اسٹاک مارکیٹ ، ٹیکس نیٹ ورک سے گریز اختیار کرنے والے نان فائلز کے لیے مراعاتی پیکج پیش کیا ہے۔ اسی طرح ایک خبر کے مطابق حکومت نے کاروباری طبقے پر نافذ 47 ٹیکسوں کی تعداد میں کمی کرکے 16 کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا یہ کہنا کہ پاکستان کاروبار دوست ممالک کی فہرست میں 136 نمبرپر ہے اس شرح کو حکومت 100سے نیچے لانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔

حکومت کی جانب سے مراعات کا اعلان اپنی جگہ لیکن یہ اقدام قابل پذیرائی تب ہوتا جب یہ مراعات دوست ممالک اور مالیاتی اداروں سے قرض کی بجائے ٹیکس کی چوری اور کالے دھن کو بازیاب کروا کر یا دیگر ذرائع دی جاتیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ حکومت معیشت کا پہیہ تیز کرنا چاہتی ہے لیکن قابلِ افسوس بات یہ کہ معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے محنت کش

کے لیے کوئی مراعاتی پیکج نہیں دیا گیا ہے۔ حکومت غریب آمدنی والے افراد کے لیے بجلی، گیس اور ٹیلیفون کے بلوں میں شامل ٹیکس اول تو ختم کرتی نہیں تو کم ضرور کرنے چاہیے تھے۔ ان مراعات کے اعلان کے بعد یہ کاروباری طبقے کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو بھی اس پر نظر رکھنی چاہیئے کہ مراعات حاصل کرنے والے صنعتی اور تجاری شعبے کی مصنوعات کی قیمت میں کمی بھی اسی شرح سے نظر آنی چایئے۔ ایسا نہ ہو کہ ٹیکسوں میں ملنے والی سہولت سرمایہ داروں کی جیبوں میں جانے لگے جیسا کہ ماضی میں ہوتا چلا آیا ہے۔

مسلم لیگ نواز حکومت نے اپریل 2018 میں جب ایمینسٹی اسیکم متعارف کروائی تو عمران خان نے اسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا وہ اقتدار میں آکر ان سے بھی پوچھ گچھ کریں گے۔لیکن جب خود اقتدار میں آئے تو پچھلے ماہ ہی ایف بی آر کو یہ ہدایت کی گئی کہ ایمینسٹی اسکیم کو نہ چھیڑا جائے۔

ایمینسٹی اسکیم سے درگذر کرنے کے بعد حکومت آئیندہ تین سال میں دس ٹریلین کے قرض پبلک ڈیبٹ کی مد میں لینے کا شیڈول بنا چکی ہے۔ بانڈز کے اجراء کے ذریعے چین، یورپ اور گلف کے بنکوں سے قرض لینا حکومت کا ایک اور مؤثر ہتھیار طے پا چکا ہے۔ قرض کی مے پینے کی لت کے سبب قرض کا حجم2021 تک قومی پیداوار کا تقریباََ ستر فیصد ہوجائے گا۔ یہ حکومت کے’’ معاشی ویژن‘‘ کی صرف ایک ہلکی سی جھلک ہے۔ لیکن وزیراعظم سے لے کر کسی وزیر نے کبھی سنجیدہ حکمتِ عملی پر بات نہیں کی ہے۔ اس تمام عرصے میں جس چیز کا حکومت نے سب سے زیادہ مظاہرہ کیا ہے وہ لااُبالی پن ہے۔فواد چوہدری، فیاض الحسن چوہان، نعیم الحق اور شیخ رشید کی گفتگو سن لیں تو یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ:

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا

بجائے اس کے کہ حکومت مسائل کی سنگینی کو محسوس کرتی اس نے ہر اس مسئلے کو ہوا دی ہے جس سے اصل اور سنگین مسائل کی طرف لوگ توجہ نہ دے سکیں۔ اس نوعیت کی تازہ حرکت حکومت کی حج سبسڈی کو ختم کرنا ہے۔ کیا تحریک انصاف کے ’’اہلِ دانش‘‘ اتنے ہی سادہ ہیں کہ انھیں یہ احساس نہ ہو کہ اس فیصلے پر کیا ردِ عمل ہوگا ؟ وفاقی بجٹ 2018-19 کا مجموعی حجم پانچ ہزار دو سو چھیالس ارب روپے تھا۔ حج سبسڈی میں دی جانے والی رقم فقط آٹھ ارب روپے ہے۔ یہ ترمیم ان ’’محباّن وطن ‘‘ نے منظور کی ہے جنھوں نے کروڑوں روپے اپنی انتخابی مہموں پر خرچ کیے اور تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں اربوں روپے اپنی جیبوں میں ڈال لیتے ہیں ۔ وطن کے ایک منصف اعلیٰ اور وزیراعظم کی بصیرت کا یہ عالم ہے کہ ڈیم فنڈ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی جبری کٹوتی سے چودہ سو ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے ڈیم کے لیے سات ارب روپے جمع کیے اور تیرہ ارب کے اشتہارات نشر کیے ہیں۔ نہ جانے تحریک انصاف کی اس حکومت میں نیا کیا ہے ؟


ای پیپر