جنگیں ، ہتھیار اور نظریات
06 فروری 2019 2019-02-06

تقسیم ہند کے وقت حکومت برطانیہ کی طرف سے سرحد کمیشن کے چیئرمین اورخصوصی نمائندے ریڈکلف اور جواہر لال نہرو کی بددیانتی نے جلد ہی خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے لیا ۔ اس بددیانتی کے نتیجے میں نوزائیدہ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خاصی تشویش پائی جارہی تھی ۔ خاص کر مسئلہ کشمیر پر جو آنے والے دنوں میں اسلامی ریاست کی سلامتی کے لیئے کسی آتش فشاں سے کم نہیں تھا ۔ تب 1947کو غیور قبائلی پٹھانوں نے تکمیل پاکستان کی یلغاروں کا مظفر آباد سے آغاز کر دیا ۔ اور ڈوگرہ فوج کو مار مار کر سرینگر تک پہنچ گئے ۔ باقی ماندہ کشمیر کو بچانے کے لیئے مہاراجہ ہر ی سنگھ کی دعوت پر بھارت نے اپنی سب سے بہادر سکھ بٹالین کو طیاروں کے ذریعے سری نگر پہنچا دیا۔’’ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں میری‘‘ کے مصداق بھارتی سینا نے کشمیر کو کیا بچانا تھا وہ خود وہاں آکر کر پھنس گئیں ۔ تب بھارت ماؤنٹ بیٹن کے مشورے پر بھاگا بھاگا اقوام متحدہ پہنچا اور دہائی دینے لگا ۔ آخر کار اقوام متحدہ کی مداخلت اور عالمی طاقتوں کی پشت پناہی سے بھارت باقی ماندہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گیا ۔

اس تمام پس منظر میں جو پہلو اہل پاکستان اور خاص کر کشمیری حریت پسندوں اور ان کی عسکری قیادت کے لیئے انتہائی غوروفکر کا متقاضی ہے ، وہ پہلو ان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ تقسیم ہند کے وقت مسئلہ کشمیر پر ہونے والی پہلی جنگ کے دوران نوزائیدہ اسلامی ریاست کو گوناگوں مسائل کا سامنا تھا۔ مالی مشکلات کا یہ عالم تھا کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے لیئے خزانے میں پیسے نہیں تھے۔ اسی دوران بھارت نے پاکستان کے حصے میں آئے ہوئے 75 کروڑ روپے دباکر اسلامی مملکت کو مالی طور مفلوج کرنے کی گھناؤنی ساز ش کی تھی ۔ اوپر سے پاکستان میں لاکھوں مہاجرین کا امڈتا ہوا سیلاب اور ان کی خستہ خالی کسی بہت بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتا تھا ۔جبکہ متعصب بھارتی نیتا عوام میں الگ سے شور مچار رہے تھے کہ یہ نوزائیدہ مملکت جلد ہی ختم ہو جائے گئی اور دوبارہ ہماری گود میں آگرے گئی ۔

اس وقت بھارتی فوج کو ماؤنٹ بیٹن اور برطانوی فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی ۔ جدید ہتھیاروں کے علاوہ فضائیہ کی بھی مکمل سپورٹ حاصل تھی ۔اس کے برعکس پاکستان کے پاس کوئی باقاعدہ سرکاری دفتر حتیٰ کہ کوئی فوجی ہیڈکوارٹر اور نہ ہی کوئی باقاعدہ فوج تھی۔ واقفانِ حال کے مطابق ان نامساعد حالات کے وقت ان قبائلی پٹھانوں کے پاس ڈنڈوں ، تلواروں اور چند پرانے ہتھیاروں کے سوا کچھ نہیں تھا ۔خیال رہے کہ یہ جنگ ان نازک ترین حالات میں لڑی جارہی تھی کہ کسی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیئے پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے لیئے فوج نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان تمام تر مخدوش حالات کے باوجود بھارت کو پاکستان پر حملے کی جرآت نہیں ہوئی ۔ جبکہ دوسری جانب تمام تر رکاوٹوں اور بے سروسامانی کی حالت میں مجاہدین کشمیر دشمن کو شرمناک شکست دینے میں کامیاب ہوئے ، کیسے ؟

درحقیقت اس سارے پس منظر کا یہی وہ پہلو ہے جس کو میں اہل پاکستان اور خاص کر کشمیر حریت پسندوں کوباور کروانا چاہتا ہوں ۔ کہ کشمیری مجاہدین کی کامیابی کے پس منظر میں مضبوط فکری اور نظریاتی اساس تھا ، تکمیل پاکستان کا ایک پاکیزہ ہدف تھا ۔ جن کے بل بوتے پر وہ دشمن کو ڈھیر کرنے میں کامیاب اور فتح سے ہمکنار ہوئے۔ سات دہائیوں کے بعد آج ایک دفعہ پھر بھارتی برہمن بلین ڈالرز کے حساب سے ہر قسم کا جدید ترین اور مہلک اسلحے کا انبار لگا چکا ہے ۔ اس وقت بھارت کے جنگی اخراجات 55.9ارب ڈالرز تک جا پہنچے ہیں ، جنگی اخراجات کے حوالے سے بھارت دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے ۔ اس کے باوجود بھی میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کو پاکستان پر حملے کی جرآت نہیں ہو گئی ۔تا وقتیکہ وہ عالمی طاقتوں سے اس بات کی تحریری ضمانت حاصل نہیں کر لیتا کہ کسی غیر متوقع صورت حال کے پیش نظر وہ فوری طور پر بھارت کو بچا لیں گئے ۔اس کے باوجود عالمی طاقتیں اس زمینی حقیقت کا ادراک کر چکی ہیں کہ کشمیری حریت پسند کسی وقت بھی بھارت کے کسی بھی بڑے شہر پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

، ہمیں ایک حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ جو لڑائیاں ہیں جنگیں ہیں یہ اسلحے کی بنیاد پر نہیں لڑی جاتیں ۔ جنگوں کے لیئے اسلحہ ایک فیکٹر تو ضرور ہے لیکن بنیاد نہیں ، جنگیں ہمیشہ مثبت نظریات ،پختہ حوصلے ، بلند عزم اور غیر متزلزل یقین و ایمان کی بنیاد پر لڑی جاتی ہیں ۔ حالات کے جدید وقدیم بیانیے کو سامنے رکھتے ہوئے میں آج کے نام نہاد مفکروں ، دانشوروں ، تجزیہ نگاروں ، میڈیا مالکان اور مادہ پرستوں کو یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ جنگیں اگر اسلحے کی بنیاد پر لڑی جاتیں تو آج ہم مسلمان نہ ہوتے ۔

جی ہاں : حق وباطل کے پہلے معرکے غزوہ بدر کا اگر ہم دونوں لشکروں کا اسلحے کی بنیاد پر موازنہ کریں ۔ تو ا نسان ورطہ حیرت میں پڑ جاتا ہے ۔ اس جنگ میں دشمنان اسلام کی سپاہ ایک ہزار افراد پر مشتمل تھی ۔ جن کے پاس اس وقت کے جدید ترین ہتھیاریعنی چھ سو زر ہ پوش جنگجو ، سینکڑوں کی تعداد میں اونٹوں ،گھوڑوں کے علاوہ شمشیروں کی ایک بڑی تعداد بھی ان کے پاس موجود تھی ۔ جبکہ دشمنوں کے مقابلے میں اہل ایمان کے پاس دو گھوڑے ستر اونٹ ، اور محض تین سو تیرہ اہل ایمان پر مشتمل پیدل لشکر ، جن کی جنگ کی بھی کوئی خاص تیاری نہیں تھی۔

اس کے باوجود اہل ایمان کامیاب ہوئے کیونکہ ان کے پاس ایمانی قوت تھی ، ایک نظریہ تھا، توحید کا ، شہادت کا، ایک ہدف تھا اسلام کے غلبے کا، سچائی کا۔ جبکہ دوسری جانب بدترین شکست مشرکین مکہ کا مقدر بنی کیونکہ ان کے پاس کوئی مثبت نظریہ نہیں تھا ۔ وہ محض بغض ، حسد ، ریاکاری اور کینہ کی بنیاد پر جنگ کرنے آئے تھے ۔ زیادہ دور نہ جائیں ، افغانستان میں افغانیوں نے کس طرح کیمونزم کو ماضی کی تاریخ کا حصہ بنا دیا ۔ اور اب ساری دنیا افغانستان میں امریکی فورسز کا شرمناک انجام دیکھ رہی ہیں ۔ کہ کس طرح بے سروسامانی کی حالت میں افغانیوں نے امریکیوں کو نشان عبرت بنا دیا ہے کہ اب وہ مذاکرات کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ اور پوری دنیا میں امریکیوں کا ساتھ دینے کے لیئے کوئی بھی تیار نہیں ۔ لہذا جنگیں اسلحہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان اور مثبت نظریات کی بنیا د پر لڑی جاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شروع دن سے لیکر آج تک پاکستان دشمن طاقتوں کا ہدف ، صرف اور صرف نظریہ پاکستان ہی رہا ہے۔


ای پیپر