فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سنا دیا
06 فروری 2019 (11:53) 2019-02-06

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس میں بدامنی کے فتوے دینے والوں سے سختی سے نمٹنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران سڑکیں بند اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کیخلاف کارروائی لازمی ہونی چاہیے، الیکشن کمیشن متعلقہ قوانین پر عملددرآمد نہ کرنے والی سیاسی جماعت کیخلاف ایکشن لے اور کارروائی رسمی نہیں ہونی چاہیے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے 43 صفحات پر مشتمل فیصلے سے قائد اعظم کے تین فرمان پڑھ کرسنائے۔ جس میں کہا گیا کہ سیاسی جماعت بنانا اور احتجاج آئینی حق ہے۔ لیکن اس سے دوسرے کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہیے۔ ہر سیاسی جماعت فنڈنگ کے ذرائع بتانے کی پابند ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق سانحہ 12 مئی کے ذمہ دار حکومتی عہدیداروں کو سزا نہ ملنے سے غلط روایت پڑی، ریاست کی ناکامی نے دیگر لوگوں کو اپنے مقصد کیلئے تشدد کی راہ دکھائی۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشتگردی، انتہا پسندی اور نفرت پھیلانے والے افراد کی مانیٹر نگ کریں۔ عدالت نے فیصلے کی کاپی حکومت پاکستان، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ اور حسا س اداروں کے سربراہ کو بجھوانے کی ہدایت کی۔


ای پیپر