” پاکستانیو! تمہارے ساتھ ٹھیک ہو رہا ہے“
06 فروری 2019 2019-02-06

مجھے ایک مقدمے کے سلسلے میں ایوان عدل پہنچنا تھا اورمیرے گھر سے راستہ یہی بنتا تھا کہ میں فیروز پورروڈپرمسلم ٹاو¿ن سے ہوتا ہوا لٹن روڈ اور پرانی انار کلی سے گزرتا سیکرٹریٹ پہنچ جاو¿ں، مجھے میرے وکیل کے ایس ایم ایس آ رہے تھے کہ وہ متعلقہ جج صاحبہ کی عدالت میں موجود ہیں اور میں فون پر انہیں بتا رہا تھا کہ میںپانچ سے دس منٹوں میں عدالت میں حاضر ہوں گا۔ میں نے محسوس کیا کہ میری گاڑی آگے بڑھنے کے بجائے مسلسل کھڑی ہے، میں نے واٹس ایپ، فیس بک، ٹوئیٹر کے درمیان سفر کرتی ہوئی نظرکو اٹھا اور توجہ کو ہٹا کے دیکھا تو یہ جنازگاہ کا علاقہ تھا، گاڑی کے آگے پیچھے اتنا رش تھا کہ موٹرسائیکل سواروں کے لئے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ناممکن تھا۔ لٹن روڈ ایک تنگ سڑک ہے جبکہ اس پر پہلے رکشہ ڈیلروں اور اس کے بعد موٹرسائیکل کے سپیر پارٹس والوں کی بھی ایسی دکانیں ہیں جن کا بہت سارا کام سڑک پر ہی ہوتا ہے۔ یہ سڑک سیدھی جین مندر تک جاتی ہے اور اس سے پہلے ایک ٹریفک سگنل کے ذریعے سٹیٹ لائف اور ہمدرد کے مشہور زمانہ دفاتر کے بیچ سے اندرون مزنگ، ہائی کورٹ اورمال کی طرف بھی لے جاتی ہے ۔یہاں عمومی طور پر رش ہی ہوتا ہے مگر اس وقت ٹریفک کی بندش غیر معمولی تھی، میں نے پیچھے دیکھا تو بہت دور ایک دو ایمبولینسوں کی آوازیں بھی آ رہی تھیں، اس غیر معمولی رکاوٹ کے بارے میں آگے سے اُڑتی اُڑتی اطلاع پیچھے تک یہ پہنچی کہ کوئی مظاہرہ ہو رہا ہے۔

میری صحافیانہ حس جاگی، نیچے اترا اور گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے درمیان پیدل راستہ بناتا ہوا وہا ں پہنچا جہاں ایک سو کے قریب لوگوں نے چوک بند کر رکھا تھا، کچھ کاٹھ کباڑ جمع کر کے اسے آگ بھی لگائی گئی تھی جبکہ شکل وصورت سے اتھرے نظر آنے والے دس، بیس افراد نے سعدی پارک اور جین مندر سے آنے والی ٹریفک روک رکھی تھی۔ وہاں ہماری روایتی پولیس کے علاوہ ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی موجود تھے جو گاڑیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے میںمظاہرین کی مدد کر رہے تھے۔ میں نے مظاہرین سے پوچھا کہ آپ لوگوں نے سڑک کیوں بلاک کر رکھی ہے تو جواب ملا کہ ہم سب سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ملازم ہیں اور کارپوریشن ہم پر بڑا ظلم کر رہی ہے۔میں نے جواب دیا کہ اگر کارپوریشن کے ذمہ داران آپ پر ظلم کر رہے ہیں توہمت ہے تو جائیں ذمہ داران کا گریبان پکڑیں، ان کے دفاتر کی تالہ بندی کریں، یہ سڑک کیوں بند کر رکھی ہے کہ چند درجن افراد کی وجہ سے ہزاروں افراد مشکل اور تکلیف کا شکار ہیں۔ یہ بات سننا ہی تھی کہ ہجوم کے ماجھے گامے آپے سے باہر ہو گئے اور دھکے دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ مجھے مزا چکھاتے ہیں۔ مجھے سچی بات کرنے پر مزا چکھنے میں کوئی عار نہیں تھی کہ اسی وقت میرے ہم پیشہ الیکٹرانک میڈیا کے کیمرہ مین اور ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی پہنچ گئے، ہاتھا پائی شروع ہی ہونے لگی تھی کہ انہوں نے بیچ بچاو¿ کروانا شروع کر دیا۔ میرا مطالبہ صرف یہ تھا کہ کچھ درجن افراد کو اس طرح ٹریفک بند کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ مظاہرین نے بھی مجھے بطور صحافی پہچانا مگر ٹریفک بلاک کرنے والے بظاہر پڑھے لکھے ان پڑھ قابو میں نہیںآ رہے تھے۔

میں ظلم اور زیادتی کے ہمیشہ سے خلاف ہوں ، چاہے وہ ظلم اور زیادتی مظلوم کہلانے والوں کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو رہی ہو ۔ ہمارے حکمرانوں کا المیہ ہے کہ وہ ڈنگ ٹپاو ¿پالیسیاں بناتے ہیں اور ان کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے ہیں جو ان پر دباو¿ بڑھانے میں کامیاب ہوجائیں۔ حکومت پیپلزپارٹی کی ہو ، مسلم لیگ نون کی ہو یا تحریک انصاف کی ہوانصاف اور اصول کی بات کہیں بھی نہیں کی جاتی۔ ایک یونیورسٹی کے طالب علم ہمیشہ کینال روڈ بلاک کرتے ہیں حالانکہ ان کے ساتھ اگر ہائیر ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ زیادتی کر رہا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ ایچ ای سی کے سربراہ کے گھر اور دفتر کے راستے روکیں،ان بے چاروں کے راستے کیوں روکے جاتے ہیں جو دفاتر، گھروں اورہسپتالوں سمیت اپنی ضرورت کی جگہوں پر جا رہے ہوتے ہیں۔ حکومتیں عمومی طور پر استہ روکنے والوں کے خلاف مقدمات بھی درج کرتی ہیں مگر جب معاملات طے ہوتے ہیں تو ان میں ان مقدما ت کی واپسی بھی ہوجاتی ہے حالانکہ راستہ روک کے انہوں نے سرکار سے کہیں زیادہ عوام کو نقصان پہنچایا ہوتا ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ سٹیٹ لائف انشورنس کی پالیسیاں بنانے میںا ن لوگوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا جن کا راستہ لٹن روڈ پر جین مندر، سعدی پارک اور جنازگاہ کے علاقے میں مبینہ طور پر زیادتی کا شکار لوگوں کی طرف سے روکا جا رہا تھا۔

میں نے مظاہرین کے سامنے اپنی فطرت اور طبیعت کے عین مطابق حق کی آواز اٹھائی تھی جس کے جواب میںمظلوموں کا گروہ میرا سر پھاڑنے اوردانت توڑنے پر آمادہ تھا اوریہیں میں نے ایک اورمشاہدہ بھی کیا کہ وہ تمام لوگ جو اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھے دبی دبی الفاظ میں مظاہرین کو گالیاں دے رہے تھے ان میں سے کسی ایک نے بھی نیچے اتر کے میرا ساتھ نہیں دیا کہ غالباً ان کی ہمت اور بہادری صرف دبے الفاظ میں چوں چاں کرناہی تھا۔ یہ تما م لوگ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر خاموش تھے اور میرے آواز بلند کرنے پر بھی میرے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا کہ کیا مجھے یہ ” پنگا“ لیناچاہئے مگر مجھے خود سے شرم آئی کہ اگر میں اس موقعے پر ڈر کے پیچھے ہو گیا تومیں خود کو کبھی زندگی بھر معاف نہیں کر سکوں گا۔ میں نے ان تمام لوگوں کی طرف دیکھا اور دوبارہ پورے زور وشور سے اپنا موقف دہرایا کہ تم لوگ زیادتی کر رہے ہو اور جس کا خیال یہ ہے کہ وہ مجھے اس مار کے خاموش کروا سکتا ہے، وہ ضرور کوشش کر لے۔

پھر یوں ہوا کہ شائد ٹریفک پولیس والوں نے انہیں سمجھایا جو مجھ سے میرے سی ٹی او کے ساتھ کئے گئے پروگرام کا بھی ذکر کر رہے تھے کہ انہوں نے اس طرف ایک لین کو گاڑیاں نکالنے کی اجازت دے دی جس میں میری گاڑی بھی پھنسی ہوئی تھی۔ وہ تمام ڈرپوک جو بات تک نہیں کر پا رہے تھے راستہ ملتے ہی گاڑیاں کھسکانے لگے۔ مظاہرین کو سمجھ آ گئی تھی کہ اس مصیبت سے جان چھڑا کے وہ دوبارہ روڈ بلاک رکھ سکتے ہیں۔میری گاڑی بلاک ٹریفک سے باہر نکلی تو ٹریفک وارڈنوں اور میرے میڈیا کے دوستوں نے مجھے دھکے دے کر گاڑی میں دھکیلا اور میں نے دیکھا کہ سڑک دوبارہ بلاک کر دی گئی۔ میرا بلڈ پریشر کچھ ہائی ہو رہا تھا اور کہتے ہیں کہ بلند فشار خون میں دماغ کی طرف سے خون زیادہ جاتا ہے اور اس کے بند نیورون بھی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے دماغ نے مجھے بتایا کہ جو لوگ ٹریفک میںپھنسے ہوئے ہیں وہ ایک سو کے لگ بھگ مظاہرین کے مقابلے میں تعداد میں کئی گنا ہیں مگر وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی اور ظلم پر متحد ہو کے آواز اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ مظاہرین ان کو پھینٹی لگا سکتے ہیں مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر وہ اپنے حقوق کے لئے متحد ہوجائیں گے تو پھر ان سب کو راستہ مل جائے گا۔

تواے میرے پیارے پاکستانیو ! سوموار کی صبح ساڑھے گیارہ بجے کے قریب لاہور کی لٹن روڈ پر اس واقعے نے مجھے بتایا کہ جب میرے شہریوں کو گیس کے بے محابا بل آتے ہیں، جب حکمران ان پر طاقت کے ذریعے مہنگائی مسلط کرتے ہیں،جب بے روزگاری ان کامقدر بنا دی جاتی ہے تو پھر ان کی خاموشی ظلم کرنے والوں کو ان کے راستے بند کرنے کی ہمت دیتی ہے۔جان لو کہ بزدلوں کے راستے بدمعاش روک لیتے ہیں حالانکہ بدمعاش کے صرف دو ہاتھ اور دو پاو¿ں ہوتے ہیں اور جن پر بدمعاشی کی جا رہی ہوتی ہے ان کے پاس سینکڑوں ۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وہاں ٹریفک میں پھنسے ہوئے سینکڑوں اورہزاروں لاہوری میرے ساتھ کھڑے ہوجاتے تو ان کا راستہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر بند کرنے والوں کوبھاگتے ہوئے اپنی شلواریں تک نہ ملتیں مگر راستے اور آسانیاں بزدلوں اور نامردوں کا حق نہیں ہوتے، میںنے لٹن روڈ پر ظلم برداشت کرتے ہوئے تمہیں دیکھا تو جانا کہ اے پاکستانیو ! ماڈل ٹاو¿ن سے ساہی وال تک تمہارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے بالکل ٹھیک ہو رہا ہے۔


ای پیپر