مخموراکھیں
06 فروری 2019 2019-02-06

میں نے قول وفعل کے تضاد کی اس دنیا میں دو شخص ایسے دیکھے ہیں، جو اپنی شناخت کی پروا کیے بغیر حضورﷺ سے منسوب کسی بابے کو والہانہ پن سے ملنے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ان کے دردولت پہ بے چین ہوکر پہنچ جاتے ہیں ، ان میں ایک صرف سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بابا اشفاق احمد اور عوام کے خصوصاً سیاہ پوش بابا یحییٰ خان کے مرشد بابا اشفاق ہیں۔ میں نے زندگی کے بے شمار اسرار ورموز ”شتوبھائی“ سے سیکھے اور دوسرے جسٹس میاں نذیراختر صاحب ہیں ان کی ایک منفرد خوبی یہ تھی کہ کبھی کبھار ہم کسی مستند بابے سے اکٹھے ملنے بھی چلے جایا کرتے تھے، ایک دفعہ میں انہیں ایک مستند بابے اللہ رکھا فیصل آباد والے کے پاس لے گیا تھا، اور پھر میں انہیں کوٹ لکھپت کے مشہور بابا خدابخش ؒ کے پاس بھی لے گیا تھا، انہیں دو بزرگوں نے ایک ہی بات کی تھی، کہ فلاں شب فلاں وقت پہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ آپ کو عطا کرنے لگے ، تو آپ ڈر کیوں گئے تھے؟ اشفاق احمد صاحب نے یہ بات سن کر قدرے جھینپ کر واقعے کی تصدیق کی درویشوں نے انہیں آئندہ ایسا نہ کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ اب اگر ایسا کیا، تو تمہاری بیوی بانو قدسیہ آپا، آپ کو پیچھے چھوڑ دیں گی، اس کے باوجود انہوں نے ملنگوں کے ڈیرے، درویشوں کی جھونپڑیوں پہ آنا جانا ترک نہیں کیا اُن کی ایک عجیب وغریب خواہش ، جو کبھی کبھار مجھے سوچنے پہ مجبور کردیتی ہے کہ انہوں نے یہ کیوں کہا تھا، کہ میرے مرجانے کے بعد میری قبر پہ ڈھول بجا کر بھنگڑا کرایا جائے، اور درویشوں سے رقص کرایا جائے۔ رقص میں ہے ، سارا جہاں سے بات شروع کی جائے، تو عشق حجازی، اور عشق مجازی کو آپ کیسے اور کیوں الگ کر پائیں گے؟ کیونکہ مطالب وفہم دونوں کے ایک جیسے ہیں، محبوب مجازی کو دیکھ کر تو آپ دنیا جہان سے لاپرواہو جائیں، لفظ ”محمدﷺ“ دنیا بھر میں سب سے زیادہ بولا جاتا ہے، اور محمد ﷺکی جان پہ نچھاور ہونے کے لیے لاکھوں نہیں اربوں مسلمان ہمہ وقت دنیا بھر میں موجود رہتے ہیں، بابا اشفاق احمد کی باتوں کو ڈھول کی تھاپ پہ اور رقص درویشاں کو آپ گومگو کی کیفیت میں اپنے آپ کو مبتلا کر بیٹھتے ہیں، مگر یہی رقص جب حضرت علامہ اقبالؒ کے مرشد رومیؒ کے مزار استنبول میں ہوتا ہے، تو پھروہاں دنیا بھر کے معززین نہ صرف شریک ہوجاتے ہیں، بلکہ رقص درویش کرتے ہوئے، یعنی ذات،اور صرف اور صرف شاہِ لولاک کی تعلیمات کے تابع بہ فرمان بن جاتے ہیں۔

اللہ رب العزت بانیِ تخلیق کائنات، اور محمد مصطفیٰﷺ وجہ تخلیق کائنات میں ذرہ سوچئے، جس محبوب ترین ہستی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے چرند، پرند ہوادات ونباتات وجمادات تخلیق کر ڈالے ، کیا اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ان کے تعلق کو الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے، شفیع کائنات ، فخر موجودات ، شافع الامراض اور خاص طورپر قصیدہ بُردہ شریف کے واقعات ابھی تک کیوں وقوع پذیر ہوجاتے ہیں؟ قارئین کرام آپ درود پاک کو خواہ عبادت وریاضت کا رنگ دے دیں، خواہ درود شریف کو وظائف میں شمار کرلیں، آپ کو تو پتہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے، کہ اے مسلمانو ، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے حضورﷺ پہ درود پاک پڑھتے ہیں، لہٰذا آپ بھی ان پہ درود وسلام پیش کیا کرو، کہا یہ جاتا ہے ، کہ جمعے کے دن عصر سے مغرب کے درمیان حضورﷺ درودپاک پڑھنے والوں کے درود خود وصول کرتے ہیں، باقی دنوں میں درود پاک پڑھنے والوں کے والدین کے نام کے ساتھ انہیں درود وسلام پیش کیا جاتا ہے۔

میں نے اس حوالے سے اپنے طورپر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضورﷺ کے معبوث ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ قوموں کی بداعمالیوں کے سبب مثلاً کم تولنے پر قوموں کو غرق فرما دیتا تھا، مگر رحمت اللعالمین کے صدقے، یہ چیزیں بند ہوگئیں، اور اللہ تعالیٰ نے فوری انتقامی سلسلہ بند کردیا ہے، اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوبﷺسے جس قدر پیار ہے اس کا اندازہ ہم جیسے دنیاوی انسان کرہی نہیں سکتے، اس کی ایک چھوٹی سی مثال حج یا عمرے پہ جانے والے زائرین حرم کعبہ، یا حرم نبوی شریف میں اکثر دیکھا کرتے ہیں، یہ وہ سلسلہ رحمت ومغفرت ہے کہ کبھی بند نہیں ہوا، اور نہ ہی کبھی کم ہوا ہے، اب اس حوالے سے میری دانست میں ضروری بات یہ ہے کہ جیسے ہمارے نبی آخرالزمان کا دیدار کبھی کسی کو نصیب ہوتا ہے، کبھی خواب میں یا کبھی ظاہری اور بالمشافہ تو زیارت کرنے والے کو نجانے کتنے پردوں میں دیدار پیش کیا جاتا ہے یعنی انسانی ظرف کے مطابق ان کی زیارت کرائی جاتی ہے، ایسی ہستی، کہ جن میں لاکھوں پیغمبروں کی خوبیوں اور اوصاف کو یکجا کردیا ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ کردیا ہو، تو پھر کیوں کر ممکن ہے، حضرت اویس قرنیؒ، حضرت عثمان علی ہجویری ؒ، حضرت معین الدین چشتی ؒ ، جن کو اپنے آقا و مالک محمد مصطفیٰﷺ کی فہرست اتنی طویل ہوگئی ہو کہ جس کی فہرست کو مکمل کرنا بھی اب ناممکن دکھائی دیتا ہو، قارئین کرام میں اپنے پچھلے کالموں میں دل پر پتھر رکھ کر لکھتا رہا اور ہرموضوع پر لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا تھا، ایک دن رات کو اچانک وطن کی محبت کچھ اس طرح سے جاگی کہ دل کا درد سنبھالا نہ گیا، بچے فوراً لاہور کے مہنگے ترین ہسپتال میں لے گئے، جن کے مالک میرے پرانے دوست ہیں، مگر ہم نے کبھی ان سے مراعات لینے سے اجتناب کیا، ہسپتال والوں نے تھوڑی دیر بعد فارغ کردیا، گھر پہنچنے کے بعد دل کے درد میں شدت آتی گئی، تو فوراً ڈیفنس کے ہسپتال پہنچے، بچوں نے پی آئی سی کے سی ای او ڈاکٹر ندیم حیات ملک صاحب کو فون کردیا، تو انہوں نے بتایا کہ آپ فوراً نیشنل ہسپتال پہنچیں، وہاں کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر محمد طیب آپ کے پہنچنے تک آپ کا انتظار کریں گے۔ بہرحال کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر محمد طیب، اور سرجن ڈاکٹر محمد طیب پاشا دونوں اکٹھے موجود تھے، ڈاکٹر طیب پاشا نے مجھے کان میں آکر کہا کہ میرانی صاحب آپ اپنا کام کریں، اور میں اپنا کام کرتا ہوں، یعنی آپ بھی درودشریف پڑھیں میں بھی درود پڑھتا ہوں، قارئین کرام یہ کالم لکھنے کا مقصد میرا مثبت ہے، منفی نہیں کہ حضورﷺ سے درودشریف کی بدولت اتنا تعلق بڑھائیں کہ آپ تعلقات دیگرسے بالاتر ہوجائیں، مختصر یہ کہ ڈاکٹروں کا محمد طیب نام ہونا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ڈاکٹر محمد طیب پاشا صاحب نے آخری دن ہسپتال سے خود ڈسچارج کرا کے آپریشن کے لاکھوں روپے معاف کردیئے، بے شک دنیا ان جیسے دل والوں کی وجہ سے قائم ہے، اللہ اور اس کے محبوبﷺ کا اتنا کرم جب قدم قدم پہ یاد آتا ہے، تو بے اختیار دامن دعا اللہ کے حضور ان کے لیے پھیل جاتا ہے۔ تو پھر مرشدمہرعلی گولڑوی یہ کہتے ہوئے سامنے آجاتے ہیں

اج سک متراں دی ودھیری اے

کیوں دلڑی اداس گھنیری اے

کالی زلف تے اکھ مستانی اے

مخموراکھیں کتھے جا لڑیاں

پھرحضورﷺکا حلیہ مبارک سامنے آتے ہی ساون کی رت آنکھوں میں بے تحاشہ ٹپک کر بے خود کردیتی ہے۔


ای پیپر