شیر شاہ .... Sorry
06 دسمبر 2019 2019-12-06

دو مصری قاضی مرنے کے بعدالگ الگ جگہوں پر پہنچے، ایک روز جنت میں پہنچنے والے قاضی کی ملاقات دوزخ میں جانے والے قاضی سے ہوئی تو دونوں اپنی اپنی مصروفیات کا حال سنانے لگے۔

دوزخی قاضی بولا: ”بہت اچھی گزر رہی ہے صبح گیارہ بجے تک منصفی کا سارا کام پورا ہو جاتا ہے، ہرشخص کے مقدمے کا فیصلہ ایک ہی دن ہو جاتا ہے، آدھے گھنٹے سے زیادہ ہم لوگوں کو کام نہیں کرنا پڑتا، تمہارے ہاں کیا صورتحال ہے؟ جنتی قاضی نے جواب دیا: ”صبح آٹھ بجے عدالت کا کام شروع ہوتا ہے تو ختم ہوتے ہوتے رات کے دس گیارہ بج جاتے ہیں، ایک ایک مقدمے کا فیصلہ ہونے میں دس بیس سال لگ جاتے ہیں“۔

دوزخی قاضی نے پوچھا : ”تعجب ہے تمہیں اتنا کام کرنا پڑتا ہے؟“

جتنی قاضی نے جواب دیا : ”اصل میں ہمارے ہاں قاضیوں کی بہت کمی ہے ناں، سبھی تو آپ کی طرف ہوتے ہیں“

یہ لطیفہ ہمیں واپڈا کے ایک میٹر ریڈر نے سنایا جو اگلے روز ہمارے ساتھ کار واشنگ سٹینڈ پر اپنی مہران کی سروس کرانے آیا ہوا تھا، میں نے اسے کہا منصفوں کے بارے میں ذرا دھیان سے گفتگو کرنی چاہیئے چاہے وہ مصری ہی کیوں نہ ہوں، اور پھر کسے خبر کون رب ذوالجلال کے ہاں کتنا پسندیدہ ہے؟

وہ بولا بزرگو؟ میں واپڈا میں ہوں مجھے پتہ ہے میں نوکری کیسے کر رہا ہوں، ہمیں بھی پتہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں کچھ خبر نہیں کون اچھا یا برا ہے مگر یہ لطیفے، کہانی، تمثیلیں اور کسی بھی شعبے کے بارے میں تاثر یونہی نہیں بن جاتا، اب دیکھیئے ناں میں نے اپنا شعبہ بتا دیا ہے آپ ایمانداری سے بتائیں کہ میٹر ریڈرز کے بارے میں عوام کا تاثر کیا ہے؟ لوگ میٹر ریڈر کو عموماً راشی سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے ایک دھیلے کی رشوت کبھی نہیں لی مگر لوگ مجھے بھی اس کیٹیگری میں شمار کرتے ہیں، میں تو یونہی کارخشک کرنے والے شیدے کو لطیفہ سنا رہا تھا اصل میں وہ میرا محلے دار بھی ہے، کار خشک کرنے والا لڑکا بھی ہنس رہا تھا اور اس کی تائید کر رہا تھا۔

پھر وہ بولا ویسے میں ذاتی طور پر نظام پر کڑھتا ہوں، سچی بات یہ ہے کہ اب ایمانداری سے زندگی بسر کرنا مشکل ہو چکا ہے لوگ دو دو جگہوں پر ملازمتیں کرتے ہیں تب بھی گزربسر دشوار ہو گئی ہے، میں سوچتا ہوں کہ لوگ جب حالات سے تنگ آتے ہیں تو منفی راستوں پرچل نکلتے ہیں، میں عالم دین تو نہیں لیکن ایم اے اسلامیات کر رکھا ہے کچھ نہ کچھ مجھے بھی دین کا علم ضرور ہے، بیشتر چوری کرنے والے، ڈکیتی کرنے والے، بے روزگاری سے تنگ آ کر جرم کی راہ پر جا نکلتے ہیں، ہماری حکومت میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ جرائم پر قابو پا سکے، ہماری عدالتوں میں بھی کئی کئی برس مقدمات کے فیصلے نہیں ہوتے، ججز کی تعداد کم ہو سکتی ہے مگر پولیس والے کیس ہی ایسا بناتے ہیں کہ مجرم بری ہو جاتے ہیں، ابھی چند روز قبل آپ نے اخبار میں پڑھا ہوگا سیالکوٹ کی ایک ماں نے اپنے بیٹے کے قاتل کو ہلاک کر کے بیٹے کا بدلہ لیا ہے، کیونکہ قاتل سزا ملنے کے باوجود بڑی عدالت سے بری ہوگیا تھا، اس طرح کے فیصلوں پر عام آدمی دلبرداشتہ ہوتا ہے، کہیں نہ کہیں نظام میں خامیاں ہیں تو مجرم بری ہوتے ہیں۔ اس میں عدالت کا قصور شاید نہ ہو کہ قانون تو ثبوت مانگتا ہے اگر کیس ہی ایسا بنایا گیا ہو تو وہاں وکیل یا جج کیا کرے۔ ساہیوال میں بے گناہ مارے جانے والوں کی ویڈیو دنیا بھر نے دیکھی، قاتل بری ہوئے کیوں؟

حکمرانوں کو غور کرنا چاہیئے صرف آئی جی بدلنے سے کیا ہو گا، کتنے افسران بدل چکے ہماری پولیس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی.... ایک بار اوپر سے بھی تبدیلی کر کے دیکھیں، اب تو وسیم اکرم پلس نام بھی مذاق کی علامت بن گیا ہے۔

شخصیت ظاہری باطنی سے ایک تاثر بنتا ہے شخصیت بھی ایک کرنسی ہے اگر کرنسی کی قدروقیمت نہ ہو تو فائدہ....؟

اب ہمارے وزیر اطلاعات فیاض صاحب وزیراعلیٰ کی شیرشاہ سوری جیسی تعریف چاہتے ہیں۔

سوری سر! شیر شاہ سوری کی شخصیت ایسی تھی کہ اس کے دور میں چڑیا پر نہیں مار سکتی تھی، اس وقت پنجاب میں کرائم کتنا بڑھ گیا ہے اوپر ذرا سخت اور بارعب حکمران ہو تو بیورو کریسی بھی چوکس رہتی ہے کہ کہیں ”بے عزتی“ سرعام نہ ہو جائے.... ہمارے وزیراعلیٰ تو معصوم اور شریف النفس انسان ہیں یہ چاہیں بھی اور غصہ دکھائیں بھی تو لوگ انہیں ”بی با“ انسان ہی سمجھیں گے“۔ کیا خیال ہے آپکا؟ میںنے کہا آپ کی باتوں سے اتفاق ہے مگر ہمیں کچھ وقت تو عمران خان کو دینا ہو گا۔

وہ بولا :ضرور وقت لے مگر جہاں اتنے یوٹرن لئے ہیں بزداری یوٹرن کا کڑوا گھونٹ بھی بھر لیں شاید پنجاب میں کچھ بہتری آ جائے۔ پھر اٹھتے ہوئے بولا:

”میری گاڑی تیار ہے چلتے چلتے یہ لطیفہ بھی سن لیں بغیر مائنڈ کئے۔

ایک ماں اپنے شوہر سے بچے کی عادتوں کے بارے میں بتا رہی تھی۔

”ہمارا بچہ بہت ذہین ہے جب یہ چلتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ کوئی بڑا افسر چل رہا ہے، مطمئن اتنا ہے جیسے ملک کا وزیراعظم ہو، باخبر اتنا ہے جیسے وزیر اطلاعات و نشریات ہو، سمجھدار اتنا جیسے قائد حزب اختلاف ہو، شوہر نے کہا:

اندازہ لگا کر یہ بھی بتا دو کہ جیل میں کتنا عرصہ رہے گا۔


ای پیپر