سیاسی بیل آؤٹ پیکیج کا مطالبہ
06 دسمبر 2018 2018-12-06

وزیراعظم عمران خان کے دو ارشادات نے صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اول: قبل از وقت انتخابات ہو سکتے ہیں۔ دوئم : حکمران جماعت اپنا ایجنڈا صدارتی آرڈیننسوں کے ذریعے آگے بڑھائے گی۔ عمران خان نے قبل از وقت انتخابات کا اشارہ دیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے حکومت چلائی نہیں جارہی۔ بلکہ انہیں پارلیمنٹ میں قانون سازی میں مشکل پیش آرہی۔

وزیراعظم عمران خان یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ضروری دستور سازی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے تعاون کے بغیر آرڈیننسوں کے ذریعے کی جائے گی۔ آرڈیننس کے تحت قانون کے ذریعے مقدمات جلد نمٹائے جانے کے علاوہ خواتین اور بیواؤں کو ان کے حقوق وراثت مل سکیں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان تحریک انصاف کے قانون سازی اور اصلاحات کے ایجنڈا پر عمل کے لئے صدارتی آرڈیننسوں کے ذریعے کریں گے۔ آرڈیننس اگرچہ قانونی طریقہ ہے لیکن اس کا بار بار استعمال پارلیمنٹ کی نفی اور اس کے اختیارات میں مداخلت ے۔ قومی اسمبلی میں حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں کواتنی اکثریت حاصل نہیں کہ آئین میں ترامیم کر سکیں تاہم اتنی اکثریت حاصل ضرور ہے کہ وہ قانون سازی کرسکیں۔ لیکن کوئی بھی ایکٹ تب قانون بن سکتا ہے جب اسکو سینیٹ بھی منظور کرے۔ جہاں پر حکمران اتحادیوں کو اکثریت حاصل نہیں۔ ایوان بالا میں حکمران جماعت کے حق میں عددی اکثریت سینیٹ کے انتخابات میں مل سکتی ہے۔ لیکن سینیٹ کے انتخابات میں اڑھائی سال چاہئیں یعنی 2021میں ہونگے۔ تب تک تحریک انصاف حکومت اپنی نصف آئنی مدت پوری کر چکی ہوگی۔

صرف ایگزیکیوٹو کے زور پر جمہوریت نہیں چل سکتی۔ سینیٹ میں اپوزیشن کی بالادستی ہونے کے باعث آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی حقیقت پسندانہ نہیں۔ عمران خان صدارتی آرڈیننسوں کے ذریعے ضروری قانون سازی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سینیٹ میں حکمراں اتحاد کو اکثریت حاصل نہیں۔نامور قانون دان اور ایوان بالا کے سابق چیئرمین وسیم سجاد کے مطابق اگر اپوزیشن کسی جاری آرڈیننس کی منظوری نہیں دیتی تو وہ قرارداد کے ذریعے اسے نامنظور کر دیتی ہے تو وہ اپنی 120 روزہ معیاد کی تکمیل سے پہلے ہی غیر موثر ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے مختلف فیصلوں میں حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے آرڈیننس کے ذریعے دستور سازی کو رد کر چکی ہے کیونکہ یہ پارلیمنٹ کا دائرہ اختیار ہے۔ اسمبلی ہی کو اس میں مزید اتنی ہی مدت کے لئے توسیع کا اختیار ہے۔ تمام دیگر آرڈیننس جن میں آرٹیکل (2)73 کے حوالے سے معاملات کی دفعات نہ ہوں تو وہ 120 دن گزر جانے کے بعد منسوخ تصور ہوگا۔ تاہم ایوان بالا یا زیریں میں قرارداد کے ذریعے نافذ آرڈیننس میں مزید 120 دنوں کی توسیع ممکن ہے۔

یہ کوئی جواز نہیں کہ تحریک انصاف صدرتی آرڈیننسوں کا راستہ اختیار کرکے پارلیمنٹ کو نظر انداز کر ے ۔ آرڈیننسوں کے ذریعے کوئی مستقل قانون سازی نہیں کی جاسکتی۔پارلیمنٹ کو نظر انداز کر کے صدارتی

آرڈیننس سے معاملات چلانے اٹھارہویں ترمیم کے بعد ممکن نہیں رہا۔ کیونکہ آرڈیننس کی عمر اب 120 روز ہوگی اور اس میں مزید 210 روز کی توسیع دونوں ایوانوں میں سے کسی ایک کی منظوری ضروری ہوگی۔

آرڈیننس کتنے اچھے ہوتے؟ ایک الگ سوال ہے۔ پارلیمنٹ چل نہیں پارہی۔ کیونکہ حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا تنازع ہے۔ حکومت کسی طور پر بھی یہ عہدہ اپوزیشن کو دینا نہیں چاہتی۔ ماضی میں یہ عہدہ بطور روایت اپوزیشن کے پاس رہا ہے۔ اگر وزیراعظم آرڈیننسوں کے ذریعے قانون لانا چاہ ر ہے ہیں تو اس کے بعد خود حکومت اور اپویشن کے درمیان ایک اور خلیج پیدا ہوگی۔ تحریک انصاف کو اپنی پارلیمانی قوت کا احساس ہونا چاہئے اور پارلیمنٹ کے ساتھ جھگڑا کرنے کے بجائے اپنے اصلاحات کے ایجنڈا کو آگے بڑھانے کے ئے کام کرنا چاہئے۔

معاملہ صرف قانون سازی کا نہیں۔ بعض آئینی ترامیم کا بھی ہے ۔ جن میں این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی اور جنوبی پنجاب صوبے کا قیام جیسے معاملات شامل ہیں۔ آئین میں ترمیم کے لئے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ نیا صوبہ بنانے کیلئے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔خسرو بختیاروفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے میں وقت لگے گا۔ ممکن ہے کہ تب تک نئے انتخابات ہو جائیں۔ نئے صوبے کا دارالحکومت ملتان ہو یا بہاولپور، بات ہورہی ہے، خسرو بختیار نے کہا ہے کہ 30جون سے پہلے ایسے انتظامات کر دیں گے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے صرف آئینی ترمیم اور ایک لکیر کھینچنا ہوگی،نیا صوبہ بنتا ہے تو موجودہ اسمبلی ارکان کی تقسیم ہوجائے گی یا نیا الیکشن ہوگا،ن لیگ ہمیشہ بہاولپور صوبہ کا مطالبہ کر کے جنوبی پنجاب صوبہ کو متنازع بنادیتی ہے۔

پنجاب میں نئے صوبے سے متعلق کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی جنوبی پنجاب صوبہ بناتی ہے تو اصل پنجاب ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ نیا صوبہ بنتا ہے تو نیا این ایف سی ایوارڈ اور جنوبی پنجاب اور سینیٹ کے نئے الیکشن ہوں گے۔پیپلز پارٹی کا ماننا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ پر وزیراعظم عمران خان کا ایک اور یوٹرن نظر آرہا ہے۔حکومت ون یونٹ بنانے جارہی ہے جس کی پیپلز پارٹی مزاحمت کرے گی۔خسرو بختیار کہتے ہیں جنوبی پنجاب کو پچھلے چھ سال سے آبادی کے مطابق طے شدہ حصے میں سے آدھا ملتارہا، جنوبی پنجاب کیلئے ترقیاتی پیکیج لے کر آئیں گے اور سیکرٹریٹ بھی وہیں بنے گا۔تجزیہ گاروں کا خیال ہے کہ فوری طور پر صوبے کے قیام کا اعلان کے بجائے فی الحال حکومت نئے صوبے کا سیکریٹریٹ اور مجوزہ صوبے کے دارلحکومت کا انفرا اسٹرکچر بنائے۔تحریک انصاف کے سامنے یہ سوال ہے کہ بہاولپور صوبہ بنے یا جنوبی پنجاب۔نئے صوبے کا دارالحکومت ملتان ہو یا بہاولپور۔ اس پر بھی خود تحریک انصاف میں اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔خسرو بختیار کہتے ہیں کہ جلد فیصلہ کرلیں گے کس شہر میں نئے صوبے کی بنیاد کا ڈھانچہ بنائیں۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ نواز لیگ بہاولپور صوبہ کا مطالبہ کر کے جنوبی پنجاب صوبہ کو متنازع بنادیتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی واحد پارٹی ہے جو عوامی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سندھ کے مختلف اضلاع کا دورہ کر چکے ہیں۔پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ ایک یہ کہ پارٹی کی قیادت کے خلاف کوئی ایکشن ہونے والا ہے، دوسرا یہ کہ ملک کے انتظامی و اختیاراتی ڈھانچے میں بھی کچھ ردوبدل ہونے جارہا ہے۔ آصف زرداری کا کہنا ہے کہ شقوں میں تبدیلی کر کے آئین میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں جو ہم نہیں ہونے دیں گے، آصف زرداری کے مطابق اٹھارویں ترمیم کی کچھ شقوں کا بہانا بنا کر وہ 1973کا آئین منسوخ کرنا چاہتے ہیں، شقوں کا بہانہ بناکر دوبارہ ون یونٹ کی سیاست شروع کرنا چاہتے ہیں، ہم دوبارہ ون یونٹ کی سیاست نہیں ہونے دیں گے۔

وزیراعظم چاہتے ہیں کہ انہیں وہ سب کچھ کرنے دیا جائے جو وہ چاہتے ہیں ۔ نہیں تو قبل از وقت انتخابات کراکے دیں۔ اس صور تحال میں نئے انتخابات کا مطالبہ بیل پیکیج کے برابر لگتا ہے۔ قبل از وقت انتخابات کی پیپلزپارٹی، نواز لیگ، اے این پی مخالف ہیں۔اپوزیشن کا خیال ہے کہ حکومت خود اپنے بوجھ تلے غیر مقبول ہو۔ عمران خان نئے انتخابات سے پہلے نواز شریف، آصف علی زرداری اور بعض مذہبی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ اور اس امر کا جب انہیں یقین ہو جائے گا تب انتخابات کرائیں گے۔ بصورت دیگرے وہ اپوزیشن پارٹیوں میں فارورڈ بلاک بنائیں گے۔


ای پیپر