پاکستان کے ’’رابن ہڈ‘‘ کی حکمرانی
06 دسمبر 2018 2018-12-06

رابن ہڈ ایک ایسا افسانوی کردار ہے جو تاریخ میں ایک بے غرض ہیرو کی طرز پر زندہ ہے جس کا نظریہ تھا امراء یا سیاست دان جن کے پاس بے پناہ دولت تھی وہ غریبوں کا خون چوس کر اور حرام یا لوٹ مار کا نتیجہ ہے جس سے ایک طبقہ تو بہت دولت مند اور دوسرا غریب ہوتا جا رہا ہے۔ رابن ہڈ جو ڈاکو نہیں بے غرض ہیرو تھا جس کی زندگی اور لوٹ مار اپنے لیے نہیں تھی اور نہ اس نے سیکڑوں کینال کا محل تعمیر کرنا تھا۔ اس کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے پرنس آف تھیوز کا اس کا اس کا اردو نام ’’چوروں کا شہزادہ‘‘ قرار دیا گیا۔ بچوں کے رابن ہڈ کا کردار کارٹون فلم میں اسے ایک چالاک لومڑی کے طور پر پیش کیا گیا۔ پھر اس کے بدلتے ہوئے رومانس بھی رابن ہڈ کردار کو مزید اجاگر کرنے کے لیے اس کی ’’بونگیوں‘‘ بے تکی باتوں اور بغیر منطق کے کی جانے والی باتوں اور فیصلے اس کو زیرو کر دیتے ۔ اس کا 1952ء میں برطانیہ کے شہر نوٹنگھم سے ذرا ہٹ کر جو مجسمہ نصب کیا ہے اس میں اسے بیورو کریسی کا مخالف پیش کیا ہے۔ کئی عشروں سے اسے سماجی انصاف کی علامت کے طور پر تسلیم کیا جاتا۔ اس لیجنڈی کردار کے نام پر کئی امدادی تنظیمیں اور ادارے کام کر رہے ہیں۔ 2010ء میں جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مظاہرین نے غربت میں کمی لانے کے لیے ’’ رابن ہڈ ‘‘ کے نظریہ کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ہمارے رابن ہڈ کی جانب سے غربت سے عوام کو نکالنے کے لیے ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن کی سربراہی میں ایک پورا ادارہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ پھر ہو گا کیا۔ اس ادارے کا سربراہ بنے گا۔ اس کا ایک دفتر بنے گا اس میں بیورو کریٹس اور ان کے ماتحت آئیں گے ۔ ان کے لیے گاڑیوں کا بندوبست ہو گا۔ چاروں صوبوں میں اس کے دفاتر قائم ہوں گے۔ اس میں رپورتاژ پارٹی کا ادھم مچے گا۔ عوام کو خط غربت سے نکالنے کے لیے 5 مرغیوں اور ایک مرغے کا نظریہ 100 دن کی حکمرانی مکمل ہونے کے موقع پر پیش کیا تھا وہ کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔ 2018ء کے انتخاب میں حکمران جماعت نے جو منشور پیش کیا اس میں معیشت کو اوپر اٹھانے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ کب تک جانے والی حکومت کا ماتم ہوتا رہے گا۔ چار ماہ ختم ہونے کو آگئے ہیں کسی ایک سمت پر بھی ملک آگے بڑھتا دکھائی نہیں دیتا، خود وزیر اعظم عمران خان نے قوم کو اپنی کارکردگی بتاتے ہوئے خوش خبری سنائی کہ ’’بیلنس آف پیمنٹ‘‘ کا بحران ختم ہو گیا۔ جبکہ یہ بحران ختم نہیں ہوا، آئی ایم ایف کے پاس آپ کو ہر صورت میں جانا ہے۔ سٹیٹ بینک نے روپے کی قدر میں کمی کر دی۔ جس سے غریبوں پر مہنگائی کا ڈرون حملہ ہو چکا۔ اب معاملہ غریبوں کے بس سے باہر ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں ایسی نہیں کرتیں آخر خزانہ خالی کی کہانی سنا کر کب تک غریبوں کے چولہے ٹھنڈے کرتے رہو گے۔ جب عمران خان اقتدار میں آئے وہ آئے یا لائے گئے اس کا

فیصلہ ہونا ہے پارلیمنٹ میں یہ سوال اُٹھ رہا ہے۔ عوام پوچھ رہے ہیں یہاں تو خزانہ خالی کی بات کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہوئی تو اس وقت دنیا کے زر مبادلہ کے ذخائر کی ترتیب ایسے تھی۔ چین 3200 بلین ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر ، جاپان 1264 کے ساتھ دوسرے ، بھارت 409بلین ڈالرز کے ساتھ آٹھویں پاکستان 18.4بلین ڈالر کے ساتھ 62 ویں نمبر پر تھا۔ اب وزیر خزانہ اسد عمر صاحب نے نئے پاکستان کی اقتصادی پالیسی اور فلاحی ریاست بناتے مگر وژن ہی نہیں تھا۔ اناڑی پن اور نا اہلی وہ کورے نکلے، تیزی سے نمایاں ہو گئی۔ نواز شریف حکومت کے جمع کیے ہوئے 10 بلین ڈالر اڑا دیئے۔ پاکستان سے غیر سنجیدگی کا کھلواڑ نہیں ہو سکتا۔ زور ہے تو سارا اس بات پر کہ نیب کے ذریعے اپوزیشن کو قید کر دیا جائے۔ وزیر اور مشیر روزانہ کرپشن کی رام کہانی کے قصے اس لیے سناتے ہیں حکمرانوں کا حق نمک بھی ادا کرنا ہے۔ نیب کا ادارہ ایسے نہیں چل رہا ہے۔ یہ ہٹلر کی ’’گسٹاپو‘‘ بن گئی ہے۔ بنائی تو مشرف نے گسٹاپو ہی تھی جب 18 ویں ترمیم کے ذریعے اس کی شفافیت لانے کے لیے چیئرمین کے چناؤ کو قائد ایوان وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے درمیان اتفاق ضروری قرار پایا۔ نیب کے موجودہ چیئرمین نے جب سے وزیراعظم سے ملاقات کی اور ایک ایسے وزیراعظم سے ملاقات کی جس کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر ملزموں کے کٹہرے میں کر رکھا ہے۔ اب چیئرمین نیب فرما رہے ہیں ’’نیب کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں داغا ہے جب ان کے ایک پراسیکیوٹر عمران شفیق کو زلفی بخاری سے بگاڑ کرنا اتنا مہنگا پڑ گیا کہ ان کے لیے نیب کی ملازمت جاری رکھنا مشکل ہو گیا اور استعفیٰ دے دیا۔ زلفی بخاری برطانوی بزنس مین اور عمران خان کے گہرے دوست ان کی ضروریات کا خیال رکھنے نصف درجن آف شور کمپنیاں کے مالک ریحام خان کے کپتان کے جھگڑے میں برطانیہ کو ہینڈل کرنے والے بشریٰ بی بی سے عمران خان کی شادی کے موقع پر کپتان کی طرف سے زلفی بخاری موجود تھے۔ پھر الیکشن مہم چلائی۔ عمرہ کے موقع پر زلفی بخاری کا سکینڈل آیا۔ کافی قانون شکنی اور ہٹ دھرمی ہوئی۔ استعفیٰ دینے والے عمران شفقی کو سزا ملی ہے۔ کپتان تو زلفی بخاری کے معاملے میں چیف جسٹس سے بھی ناراض ہیں ان کی نا اہلی کا معاملہ سپریم کورٹ میں موجود ہے۔ اقربا پروری کا مطلب یہ نہیں ہوتا آپ اپنے خاندان کو نوازیں جو لوگ خاندان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں ان کو بھی نوازنا اقربا پروری ہے۔ عمران خان کا بھائی تو کوئی نہیں اور بہنوں کا سیاست سے تعلق نہیں۔ بیٹے برطانوی شہری ہیں۔ ان کا ہماری تہذیب سے تعلق تک نہیں۔ عون چوہدری ، نعیم الحق جیسے لوگ انتخاب میں جیت سکتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو ان کو انتخاب میں اتارا جاتا۔ چیف جسٹس صاحب ایک بار پھر برسے ہیں انہوں نے ریمارکس میں پیغام دے دیا ہے ’’اقربا پروری کی بات 20 بار کروں گا ۔ زلفی بخاری کیس میں چیف جسٹس صاحب کو دیکھنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جو تقرری کی ہے قانون کے مطابق ہے یا نہیں دیکھنا یہ ہے وزیراعظم کس حد تک جا سکتے ہیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے زلفی بخاری جو پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں وہ برطانوی شہریت ترک کرنے کے لیے تیار ہیں مگر اس موقع پر یہ فارمولا کامیاب نہیں ہو گا ان کی تقرری کے وقت کی پوزیشن کو جا نچا جائے گا۔ مسلم لیگ کے دو سینئرز کی اسی وجہ سے رکنیت چلی گئی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر اعظم سواتی کے خلاف سپریم کورٹ نے نا اہلی کا کیس چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ کے جانے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ طرز حکمرانی پر کافی گہرے سوال ہیں۔ پنجاب حکو مت کو کس طرح چلایا جارہا ہے۔ گورنر ایک آئینی عہدہ ہے مگر اقتدار کی کھینچا تانی میں ان کا نام سب سے اوپر ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور وزیراعلیٰ ہیں وہ شہباز شریف کی حکمرانی کو فالو کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ عمران خان کے اشارے پر سنٹرل پنجاب کو اس لیے نظر انداز کر رہے ہیں تا کہ مسلم لیگ (ن) کو کمزور کیا جائے ۔ سیاست کھیل میں عوام کو ہی پسپا کیا جا رہا ہے۔


ای پیپر