پارلیمنٹ مضبوط کریں
06 دسمبر 2018 2018-12-06

تحریک انصاف کی حکومت بھی اپنی پیش رو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے نقش قدم پر چل کر پارلیمنٹ کو اہمیت دینے کو تیار نظر نہیں آتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وزرائے اعظم اور وزراء جس ایوان سے طاقت حاصل کرتے ہیں اور ہر وقت جس ادارے کی بالادستی اور عظمت کے قصیدے پڑھتے ہیں مگر پالیسیاں بنانے اور ملک کے اہم ترین فیصلے کرتے وقت اسی ایوان کو نہ تو اعتماد میں لیتے ہیں اور نہ ہی فیصلہ سازی میں اس ایوان کو کوئی مؤثر اور متحرک کردار دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حکومت کے قیام کو 100 دن سے زیادہ ہو گئے ہیں مگر ابھی تک پارلیمنٹ کی کمیٹیاں تشکیل نہیں پا سکیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں ابھی تک غیر فعال ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف دونوں ایک دوسرے کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دے رہی ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان قومی اسمبلی میں ڈیڈ لاک کی سی کیفیت ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ جو کہ عوام کے جذبات، ترجیحات اور مسائل کو اجاگر کرنے کا سب سے مؤثر ایوان اور پلیٹ فارم ہے وہاں پر الزامات اور جوابی الزامات پر مبنی تقریریں ہو رہی ہیں۔ ڈاکو، چور، لٹیرے، لاڈلے اور نہ جانے اور کونسی صدائیں اور الزامات گونج رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے نشریاتی خطاب میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو اہمیت دیں گے۔ اسے مضبوط کریں گے اور تمام اہم فیصلے پارلیمنٹ میں ہوں گے۔ انہوں نے پہلے 100 دنوں میں ہی ہفتہ وار پارلیمنٹ میں سوالات کے خود جوابات دینے کے لیے (Question hour) ایک گھنٹہ مختص کرنے کا بھی اعلان کیا تھا مگر اب تو شاید ان کو اپنا یہ وعدہ بھی یاد نہ ہو۔ اس حکومت کے تمام اہم انتظامی، معاشی، خارجہ پالیسی اور سلامتی کے حوالے سے تمام اہم فیصلے اور پالیسی سازی پارلیمنٹ سے باہر ہو رہے ہیں۔ ابھی تک قومی اسمبلی میں تقریروں کے علاوہ نہ تو قانون سازی ہوئی ہے اور نہ ہی اہم ترین قومی اور عالمی مسائل اور ایشوز پر سنجیدہ بحث ہوئی ہے۔ ابھی تک حکومت نے سعودی عرب اور چین سے ہونے والے معاہدوں اور آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا اور نہ ہی کسی قسم کی بریفنگ دی گئی ہے۔ پچھلی حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی تمام اہم فیصلے پارلیمنٹ سے بالا ہی کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف پارلیمان کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے بلکہ وہ اسے نظر انداز کر رہی ہے۔ حکومتی رویے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان خود 24 میں سے محض 7 پارلیمانی سیشنز میں شریک ہوئے ہیں۔ اگر اس میں سے حلف اٹھانے اور وزیراعظم کے انتخاب کے دو سیشن نکال دیئے جائیں تو وہ محض 5 اجلاسوں میں شریک ہوئے ہیں۔ حکومتی وزراء بھی بادل نخواستہ ہی اجلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ تو متعدد بار حکومتی وزراء کے غیر سنجیدہ رویے کی شکایت کر چکے ہیں۔

اسی قسم کی صورت حال گزشتہ 5 برسوں میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں بھی تھی۔ حکومتی وزراء کے غیر سنجیدہ رویے سے تنگ آ کر اس وقت کے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے استعفیٰ دینے اور سینیٹ کی کارروائی معطل کرنے کی دھمکی دے دی تھی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف بھی پارلیمانی کارروائی اور پارلیمان کو مضبوط اور مؤثر بنانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ ان کے پاس بھی پارلیمنٹ میں آنے کا وقت نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے بھی پارلیمان کی توقیر، کردار اور اہمیت کو بڑھانے میں دلچسپی نہیں لی۔ اسی قسم کا رویہ موجودہ حکمرانوں کا ہے۔ وزیراعظم عمران خان دو بار قومی اسمبلی کے رکن رہے مگر انہوں نے کبھی بھی پارلیمان میں سرگرم کردار ادا نہیں کیا۔

حکمرانوں کو پارلیمان میں صرف اس حد تک دلچسپی ہوتی ہے کہ سال کے بعد سالانہ بجٹ پاس کروانا ہوتا ہے۔ قانون سازی کا عمل جاری رکھنا ہوتاہے ۔ وزیراعظم بننے کے لے قومی اسمبلی میں اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان تین کاموں کے علاوہ حکمرانوں کو پارلیمان یاد نہیں آتی۔

گزشتہ 100 دنوں میں پارلیمان کی کارکردگی اور اس میں کی گئی تقاریر کا معیار مایوس کن اور بہت نچلی سطح کا ہے۔ موچی دروازے کے جلسوں اور کنٹینروں پر ہونے والی تقاریر اب قومی اسمبلی کے فلور پر ہو رہی ہیں۔ ابھی تک حکومت کی طرف سے قانون سازی کا کوئی عندیہ سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر کہا ہے کہ وہ قانون سازی کے لیے آرڈیننس کا سہارا لیں گے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت اب قانون سازی بھی پارلیمان سے باہر ہی کرنا چاہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت قومی اسمبلی میں بڑی حزب اختلاف کی موجودگی اور سینیٹ میں حزب اختلاف کی واضح اکثریت کے موجود ہونے کے باعث مسلسل دباؤ میں ہے اور ایسی مؤثر حکمت عملی طے کرنے میں ناکام نظر آتی ہے جو موجودہ حالات میں حکومتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں حزب اختلاف سے تعاون حاصل کر سکے۔

حکومت نے اب تک مختلف شعبوں اور مسائل پر درجنوں ٹاسک فورسز اور کمیٹیاں قائم کی ہیں جو کہ پالیسی سازی کے لیے کام کر رہی ہیں۔ حکومت یہ ساری مشق پارلیمانی کمیٹیوں سے باہر کر رہی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت سازی کے فوراً بعد حزب اختلاف کے ساتھ مل کر پارلیمانی کمیٹیاں تشکیل دی جاتیں اور حکومت پالیسی سازی کی ساری مشق ان پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے کرتی۔ اگر ضرور ت محسوس ہوتی تو حکومت رولز آف بزنس میں ترامیم کر کے مختلف شعبوں کے ماہرین کو ان کمیٹیوں میں شامل کر لیتی۔ پارلیمانی کمیٹیوں کی استعداد ، صلاحیت اور کارکردگی کو بڑھانے کا اہم موقع ضائع کر دیا گیا اسی طرح ارکان پارلیمان کی استعداد اور قابلیت کو بڑھانے کا موقع بھی ضائع ہو گیا۔

پارلیمان کو اہمیت نہ دینے اور اسے پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کا مرکز نہ بنانے کی بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اپنے کردار، سوچ اور عمل کے حوالے سے پارلیمانی نہیں ہیں۔ وہ فیصلہ سازی میں اجتماعیت کی قائل نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہے جو مکمل طور پر پارلیمانی اور جمہوری روح رکھتی ہے۔ پیپلزپارٹی پارلیمانی جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعت ہے یہی وجہ ہے کہ وہ پارلیمان کو اہمیت دیتی ہے اور پوری تیاری کے ساتھ پارلیمان کی کارروائی میں حصہ لیتی ہے۔

پارلیمان کو جمہوری احتساب اور نگرانی کا بھرپور اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے مگر اس کے لیے ارکان اسمبلی کی قابلیت، استعداد اور اہلیت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت اور جمہوری رویوں کا عکس پارلیمان میں بھی نظر آئے گا۔ جاگیرداروں، قبائلی سرداروں، سرمایہ داروں اور بالا طبقات سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کی واضح اکثریت اور غلبے کی بدولت پارلیمان عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ تمام تر کمزوریوں ، خامیوں اور نقائص کے باوجود پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اسے حکمرانوں اور افسر شاہی کے احتساب اور نگرانی کا سب سے مؤثر اور متحرک ادارہ ہونا چاہیے۔ پارلیمان کی مضبوطی کے بغیر پارلیمانی جمہوریت مضبوط نہیں ہو گی۔ پارلیمان کو عوامی جذبات ، مسائل اور سوچ کا ترجمان ہونا چاہیے۔


ای پیپر