غریب کے شب و رو ز
06 دسمبر 2018 2018-12-06

ا پنے پچھلے کا لم میں بھی میں عر ض کر چکا ہو ں کہ میں اچھا ،میں اچھا، کہہ کر ملک کے مسا ئل حل نہیں کئے جا سکتے۔ مگر نہیں صا حب نہیں، یہا ں تو طے کر لیا گیا ہے کہ کچھ نہیں کیا جا ئے گا ، ما سو ا ئے باتوں کے ، پریس کانفرنسوں کے ، اور یا لمبے چو ڑے بیا نا ت دا غنے کے ۔ صو رتِ حا ل تو اِس درجہ المنا ک ہے کہ یہ سب مذا ق بن کے رہ گیا ہے۔ ا لبتہ اس و قت سرِ دست مسلۂ ہے وہ مہنگا ئی اور غر بت کا ہے۔ یہ دو نو ں ایک دوسر ے سے یو ں متصل ہیں کہ یہ ایک ہی المیے کے دو پہلو ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے جو غریب تھے انہیں بھی غریب کر رکھا ہے۔ کیا یہ غلط ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے 100 ایام میں غریب مزید غریب ہوگیا ہے؟ کیا یہ غلط ہے کہ غریب بھکاری بننے کو ہیں اور جو خود کو غربت کی لکیر سے اوپر سمجھتے تھے، وہ اب اس لکیر سے نیچے گر چکے ہیں۔ ان سوالوں کے جواب حکومتی عمائدین اور چند ہزار رؤسا کے علاوہ ہر پاکستانی جانتا ہے۔ غربت میں ہوشرباشدت آئی ہے اور غریبوں کی تعداد میں چند ہفتوں کے دوران بہت بڑا اضافہ ہوا ہے۔ قارئین نے سن رکھا ہوگا کہ غربت کی لکیر یومیہ آمد کو سامنے رکھ کر مقرر کی جاتی ہے۔ کسی وجہ سے یہ آمدن ڈالر میں شمار کی جاتی ہے اور جب روپے کے مقابلے میں ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان میں رہنے والوں کو اس مہنگائی کا سامنا کرنے کے لیے یا دوسرے لفظوں میں غربت کی لکیر پر اپنا مقام برقرار رکھنے کے لیے ڈالر کے عوض زیادہ روپے چاہیے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ انہیں میسر نہیں ہوتے کیونکہ ڈالر مہنگا ہونے کے ساتھ ان کی آمدنی میں اضافہ تو نہیں ہوتا؛ چنانچہ ایک غریب آدمی ڈالر مہنگا ہونے کے ساتھ زیادہ غریب ہوجاتا ہے۔ ڈالر کی قیمتوں میں اچانک اور حیران کن ردّ و بدل سے پہلے کئی خاندان غربت کی لکیر سے اوپر شمار ہوتے تھے،لیکن وہ ایک دن کے اندر ہی ڈالر کی قدر بڑھنے سے غربت کے گڑھے میں جا گرتے ہیں۔ سیانوں کے پاس تو ہر سوال کا جواب ہوتا ہے، اس المیے پر روشنی ڈالنے کے لیے بھی بہت سے ماہرین اقتصادیات اسلام آباد میں بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کی باتیں غریبوں کی سمجھ سے باہر ہیں اور نہ ہی ان کے دلاسوں سے غربت میں کوئی کمی ہوتی ہے۔ اس لیے ایک عام آدمی

کے لیے ان بنے سنورے، پڑھے لکھے لوگوں کی دلکش گفتگو بے معنی ہے، کیونکہ عملی طور پر یہ غریبوں کے حق میں کہیں موثر ثابت ہوتی نظر نہیں آتی۔ ہر حکومت اپنے دور میں سٹیج اور اس پر رکھے ساؤنڈ سسٹم پر قابض ہوتے ہی فیصلہ کرتی ہے کہ آج کا موضوع سخن کیا ہوگا۔ ہماری حکومت کی سوئی دو باتوں پر اٹکی ہوئی ہے، ایک اپنے سے پہلی حکومتوں کی چوریاں اور ان سے جڑے دو موضوعات، یعنی کڑا اور بے لاگ احتساب اور لوٹی ہوئی دولت، جس کا تخمینہ کھربوں میں، کی واپسی پر۔ حکومتِ وقت کا دوسرا پسندیدہ موضوع موجودہ اقتصادی بحران کے لیے سابقہ حکومتوں کو ذمہ دار ثابت کرنا ہے۔ اگرچہ یہ بتانے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ ماضی میں کتنی دور تک جانا ہوگا، لیکن ذکر صرف نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا ہی ہوتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ہماری معیشت، معاشرت اور سیاست کے تانے بانے ایک اَن دیکھے تار کے ذریعے ماضی میں بہت دور تک تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ اگر اس بحث میں پڑ گئے تو ذمہ داری کے تعین کے لیے انگریزوں، سکھوں، مغلوں، سلاطینِ دہلی اور اس سے بھی پہلے کے ادوار میں جا پہنچیں گے۔ چنانچہ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اس بے مقصد اور بے معنی بحث میں نہ تو حکومت خود پڑے اور نہ ہی اس بحث میں پریشان حال قوم کو الجھا کر مزید پریشان کرے۔ کون نہیں جانتا کہ ہمارا حال ہمارے ماضی سے جنم لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمارے حال سے ہمارا مستقبل جنم لے گا۔ پچھلے 100 ایام کے دوران جو کچھ ہوا ہے اس کی ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ کوئی ذی ہوش شخص ان حالات کے لیے نون لیگ، پیپلز پارٹی یا مشرف وغیرہ کو ذمہ در نہیں ٹھہرائے گا۔ میری التجا ہے کہ عوام کی اولین پریشانی پر توجہ دیں، عوام کی اولین پریشانی پر بات کریں اور عوام کی اولین پریشانی کا علاج کریں۔ آپ کے تمام منصوبے، پروگرام، ارادے، دعوے، وعدے بہت اچھے ہیں، ان سب کا فائدہ ان کو ہوگا جو جیتے بچیں گے۔ اس وقت غریب کے لیے عالم نزع ہے۔ ہما رے صدرِمملکت اور اعلیٰ عہد ید ا ر عقل و دانش کے موتی ٹویٹر پر بکھیر رہے ہیں۔ فرمارہے ہیں کہ ملکی اشیا خریدیں، یعنی بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، چینی، سبزیاں، دالیں وغیرہ اپنے ملک کی استعمال کریں، کیونکہ یہ سستی ہیں! صدرِ مملکت وہی آنجناب ہیں جنہوں نے کسی مجبوری کے بغیر از خود یہ فرمانا مناسب سمجھا تھا کہ صدر منتخب ہونے کے بعد وہ پارلیمنٹری لاجز ہی میں قیام رکھیں گے۔ اللہ اللہ! ہمارے اکابرین خود کو اور ہمیں کیا سمجھتے ہیں؟ 20 کروڑ عوام کس عذاب میں مبتلا ہیں اور یہاں بحث کیا ہے؟ گورنر ہاؤس کی دیواریں گرائی جائیں گی، یہ الگ با ت کے کر و ڑو ں رو پے کی لا گت سے لو ہے کا جنگلہ تعمیر کیا جا ئے گا۔کیا مجھے کو ئی حکو متی سیا نا سمجھا ئے گا کہ اس عمل سے عوا م اور حکو مت کو کیا فا ئد ہ پہنچے گا؟ اوپر سے وہی پرا نا چکر کہ ہا ئی کو رٹ نے دیوا ر گر ا نے کے عمل کا بیچ میں ٹھپ کر دیا ہے۔ چلیئے صا حب میڈ یا کو چٹپٹی خبروں کیلیئے ایک نیا مو ضو ع مل گیا۔ یعنی عوا م کی تو جہ اصل مسا ئل سے ہٹا کر اس طر ف جھو نک دی جا ئے۔ صا ف کہتا ہو ں کہ عو ا م کو بہلا نے کا یہ شر منا ک تر ین طریقہ ہے۔ دو سری طرف وفا قی وز یرِ خز انہ اسد عمر کا ان کے عہد ے سے فا ر غ کر دینے کی سچی یا جھو ٹی خبر اڑادی گئی ہے۔ لیکن اسد عمر کے رہنے یا نہ رہنے میں عوام کی کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ کو ن سا مسئلہ ان صا حب نے اس ملک کا حل کر دیا ہے۔ یہ صا حب عمر ان خا ن کی نظروں میں جچنے سے پہلے پرا ئیو یٹ کمپنی اینگر و لمیٹیڈ میں کا م کر تے رہے ہیں۔ مگر یہ یہ نہیں جا ن سکے کہ ایک کمپنی کے حسا ب کتا ب کو دیکھنا ایک با ت ہے اور ملک کی معیشت کو سنبھا لنا دوسری بات۔

دوسر ی جا نب خبر ہے کہ جنو بی پنجا ب میں ذ یلی سیکٹر یٹ بنے گا ۔اس ذیلی سیکرٹریٹ میں کس کس کو کابینہ میں شامل کیا جا ئے گا؟جوا ب ند ارد! آئندہ احتساب کی پکڑ میں کون آنے والا ہے؟ کس کا عدالتی ریمانڈ ہوگا، کس کا جسمانی؟ 20 کروڑ عوام کس عذاب میں مبتلا ہیں او راعلیٰ حکومتی سطح پر ترجیحات اور زیر بحث موضوع ملاحظہ فرمائیں۔ ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات۔ جنابِ عمران خان جتنی جلد اس کا احساس فرمالیں گے یہ ان کے لیے، ان کی حکومت کے لیے اور پاکستان کے 20 کروڑ عوام کے لیے باعث راحت اور حوصلہ ہوگا۔ آپ کی حکومت کے پہلے 100 دن میں اور کچھ ہوا یا نہ ہوا، مگر غربت میں بے حد اضافہ ضرور ہوا۔ جو غریب تھے ان کی غربت مزید تکلیف دہ ہوگئی ہے۔ جو اقتصادیات کی معروف اصطلاح میں پہلے غریب نہ تھے وہ بھی اب خطِ افلاس سے نیچے لڑھک چکے ہیں۔


ای پیپر