دیہی معیشت
06 دسمبر 2018 2018-12-06

حکومت میں 100دن مکمل کرنے کے بعد وفاقی سرکارنے اسلام آباد میں خصو صی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔اس تقریب کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کی (100)سوروزہ کارکردگی پر عوام کو اعتماد میں لیناتھا۔مطلب آئندہ پانچ بر سوں کے لئے مختلف شعبوں میں اصلاحات اور منصوبہ بندی کے بارے میں قوم کو آگاہ کرنا تھا۔تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے وہی پرانی باتیں دہرائی،جو وہ گز شتہ کئی بر سوں سے کر رہے ہیں۔یوں سمجھ لیں کہ ان کے تقریر میں سب کچھ تھا،مگر معاشی استحکام کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل نہیں تھا۔وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کارکردگی صرف معمول کے دوروں تک محدود رہی۔انھوں نے پڑوسی ممالک ،اسلامی دنیا اور اقوام عالم کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے اور تجارتی روابط بڑھانے کے لئے کوئی لائحہ عمل نہیں دیا۔وفاقی وزیر برائے تر قی و منصوبہ بندی خسرو بختیار کو اس تقریب میں کارکردگی بیان کرنے اور آئندہ کے لئے پالیسی بیان کرنے کا مو قع ہی نہیں دیا گیا۔شاید وہ کچھ زیادہ ہی مصروف تھے۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار بھی تقریب میں شریک تھے لیکن ان کو بھی سٹیج پر نہیں بلا یا گیا۔حالانکہ اس کو بات کرنے کا موقع دینا چاہئے تھا،تاکہ وہ(100) سو دنوں کی کہانی بیان کرتے۔عثمان بزدار اگر کچھ بول لیتے تو اس سے مخالفین کے منہ بند ہو جاتے ،مگر افسوس کہ یہ موقع ضائع کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ افسوس اس بات پر کہ وزیر اعظم عمران خان نے ان کی کارکردگی چند الفاظ میں بیان کی۔ان کے (100)سو دنوں کو صرف تجاوزات گرانے تک محدود رکھا گیا۔خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی محمود خان بھی تقریب میں مو جود تھے ،لیکن ان کو بھی(100) سو روزہ کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کو عوام کے سامنے رکھنے سے محروم رکھا گیا۔

اس تقریب میں کلیدی خطاب وزیر اعظم عمران خان کا تھا۔احتساب کے بارے میں انھوں نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ نیب ہمارے دائر ہ اختیار سے باہر ہے۔پولیس اور ایف آئی اے سے کام چلا رہے ہیں۔اس لئے مجھے یقین ہے کہ جب تک عمران خان وزیراعظم ہونگے،احتساب کا ورد پوری قوم کرے گی،لیکن بے لاگ اور سب کا احتساب ہو گا نہیں۔اس تقریب کی سب سے اہم بات وزیراعظم عمران خان کی دیہی معیشت کے بارے میں اظہار خیال تھا۔مخالفین وزیر اعظم عمران خان کا اس پر مذاق بھی اڑا

رہے ہیں،مگر حقیقت یہی ہے کہ دیہاتی معیشت ملک کے معاشی استحکام میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے۔اگر وزیر اعظم عمران خان دیہی معیشت کو سہارا دینے میں کامیاب ہو ئے ،تو خیبر پختون خوا، پنجاب، سندھ اور بلو چستان کے دیہاتی ان کوووٹ بھی دیں گے اور دعائیں بھی۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ دیہی معیشت کو پروان چڑھانے کے لئے مکمل منصوبہ بندی کی جائے۔اگر جامع منصوبہ بندی کے بغیر اس پروگرام کو شروع کیا گیا تو یہ منصوبہ معاشی استحکام کی بجائے تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

دیہات میں مر غیاں پالنا۔ گھروں میں بکریاں پالنا۔گھرکے باہر خالی پلاٹ میں گائے اور بھینس رکھنا،اور ان سے اپنی ضروت کے لئے دودھ ،دہی،انڈے ،دیسی گھی اور گوشت کا حصول ایک عام معمول ہے۔گھروں میں خواتین دستکاری کرتی ہیں۔دیہاتوں میں تقریبا یہ ہر گھر کی کہانی ہے۔مگر افسوس کہ انڈے دینے کے لئے نہ ان کو اعلی نسل کی مر غیاں فراہم کی جاتی ہے، نہ بکرے اور نہ ہی گائے یا بھینس۔اس وجہ سے دیہات میں لوگ محنت تو زیادہ کرتے ہیں ،لیکن صلہ ان کو کم ملتا ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ سال بھر مرغیاں پالتے ہیں ،لیکن وہ پورا سال اس میں سے صرف گھریلوضرورت ہی مشکل سے پورا کرتے ہیں۔اگر حکومت دیہا توں میں لوگوں کے ساتھ مر غیاں پالنے کے لئے صرف اس حد تک مدد کریں کہ ان کو اعلی نسل کی مر غیاں فراہم کریں۔جو روزانہ انڈے دیتی ہوں۔ساتھ ہی ان کو چند دنوں کی تربیت بھی دیں کہ مر غیوں کے دانہ پانی یعنی خوراک ،ویکسین اور موسم کی مناسبت سے ان کی دیکھ بھال کے لئے معلومات فراہم کریں تو ممکن ہے کہ اس ایک شعبے سے لاکھوں لوگوں کو روزگار مل جائے گا۔

اسی طرح دیہات میں ہر دوسرے گھر میں بکری،گائے یا بھینس مو جود تو ضرورہے،لیکن وہ اس سے روزانہ کی بنیاد پر صرف اپنی ضرورت ہی پوری کرتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت متعلقہ محکموں کے تعاون سے لوگوں کو اعلی نسل کی بکریاں ،گائے اور بھینس مہیا کریں۔ساتھ میں ان کی تربیت بھی کریں ۔دودھ اور دہی آج ہر کسی کی ضرورت ہے۔گوشت کا لوگ کثرت سے استعمال کررہے ہیں۔پڑوسی ملک افغانستان کو بھی گو شت کے لئے مر غیوں ،بکری ،گائے اور بھینس کی ضرورت ہے۔اگر خیبر پختون خوا اور بلو چستان میں دیہاتی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے تو اس سے نہ صرف یہاں کے با سیوں کو فائدہ ہو گا بلکہ افغانستان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

اسی طرح دیہا توں میں خواتین کی اکثریت دستکاری کرتی ہیں۔لیکن تربیت کے لئے باقاعدہ سکول نہ ہونے کی وجہ سے یہ فن اب دیہاتوں میں دم توڑ رہا ہے۔اگر حکومت دیہا توں میں دستکاری کے سنٹر قائم کرکے وہاں سے تربیت حاصل کرنے والوں کو سلائی اور کڑھائی کی مشینیں مہیا کریں تو اس سے دیہات میں بے روزگار ی میں نہ صرف کمی ہو گی بلکہ ملکی معیشت کو سہارا بھی مل جائے گا۔اسی طرح دیہا توں میں مختلف پیشے بھی دم توڑتے ہو ئے نظر آرہے ہیں۔ترکھان،مو چی،کمہار،مستری ،لوہاراور دیگر پیشے ختم ہوتے جارہے ہیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ نہ تر بیتی مراکز ہیں اور نہ ہی لوگوں میں اوزار خریدنے کی استطاعت ۔اگر حکومت دیہاتوں میں فنی تربیت کے مر اکز قائم کرکے وہاں لوگوں کو تربیت دیں۔کاروبار شروع کرنے کے لئے ان کو بلا سود قرضے دیں یا تربیت مکمل کرنے کے بعد ان کو کاروبار شروع کرنے کے لئے اوزار مہیا کریں تو اس سے دیہا توں میں بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

دیہی معیشت کو مستحکم کرنے کا ایک فائدہ پورے ملک کو یہ ہوجائے گا کہ شہروں کی طرف لو گوں کی نقل مکانی کا سلسلہ رک جا ئے۔مو جودہ حالات میں دیہات کے تعلیم یا فتہ اور ہنر مند نو جوان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں کہ وہ شہر کا رخ کریں۔وہاں نو کری کریں یا کسی فیکٹری میں ملا زمت ۔اگر دیہی معیشت کو مستحکم کیا گیا تو پھر تعلیم یافتہ اور ہنر مند نو جوان شہر نہیں بلکہ اپنے ہی گاوں میں کاروبار اور ملازمت کو ترجیح دے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت دیہی معیشت کو استحکام دینے کے لئے جامع منصوبہ بندی کرے۔ بلدیاتی نظام کے تحت سب سے چھوٹے یونٹ سے اس کا آغاز کرے۔اگر حکومت نے اس پر سنجیدگی سے کام کیا تو پانچ سالوں میں کروڑوں دیہاتی نوجوان بے روزگاری اور غربت کی زنجیروں سے آزاد ہو جائیں گے۔سالانہ لاکھوں کی تعداد میں شہروں کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ رک جائے گا۔اس لئے دیہی معیشت کو استحکام دینے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کو مذاق کی بجائے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے،کیونکہ غربت ،بے روزگاری کے خاتمے اورملک کے معاشی استحکام کا اصلی اور گھریلو ٹوٹکا یہی ہے۔


ای پیپر