راستوں میں خار نہیں پھول اُگائیے!
06 دسمبر 2018 2018-12-06

احتسابی عمل آگے بڑھنے سے ’’متاثرین‘‘ کے شور میں اضافہ ہونے لگا ہے ان کی شدید خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ حکومت گھر چلی جائے اور ان کی جان چھوٹ جائے؟

وزیراعظم عمران خان کئی بار کہہ چکے ہیں کہ باز پرس کرنے والے ادارے (نیب) پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں وہ آزاد ہے جسے چاہے تفتیش کے لیے بلا لے اور جسے نظر انداز کرنا چاہیے کر دے مگر تفتیش کے دائرے میں آنے والے، اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں اور حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں جبکہ ریاستی ادارے از خود ایسا کر رہے ہیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں کہ اس وقت ملک کی معاشی حالت انتہائی خراب ہے جس کی کئی وجوہات ہیں مگر اہم وجہ بدعنوانی ہے۔۔۔ جو کئی برس سے بھرپور انداز سے جاری تھی جس کے نتیجے میں ملکی خزانہ بری طرح سے متاثر ہوا اور اس کے اثرات براہ راست عوام پر مرتب ہونے لگے۔ غربت ، بیماری اور جہالت کی آکاس بیل تیزی سے پھیلنے لگی۔ جرائم کی شرح میں اضافہ ہونے لگا۔ سماجی ڈھانچہ تڑخ تڑخ جانے لگا اجتماعی مفاد کا تصور دھندلانے لگا انسانی خدمت کا جذبہ مفقود ہو گیا۔ احساس محرومی و بیگانگی نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور قانون کا احترام فضول و غیر ضروری سمجھا جانے لگا۔ اس صورت میں ذمہ داران نے محسوس کیا کہ اگر یہی حالت برقرار رہتی ہے تو ملک کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے لہٰذا بدعنوانی اور بدعنوان عناصر کا محاسبہ بے حد ضروری ہے جب یہ فیصلہ ہو جاتا ہے تو ریاستی ادارے ایک نئے جذبے اور جوش کے ساتھ خود کو منظم کرتے ہیں اور عوام و ملک کے پیسے کو ذاتی تجوریوں میں ٹھونسنے والوں کے گرد حصار قائم کرنے کا ارادہ کر لیا جاتا ہے پھر اس پر عمل درآمد کا آغاز ہو جاتا ہے جس میں بلا تفریق و امتیاز تمام لوگ خواہ ان کا تعلق حکمرانوں اور ان کے مخالفین سے ہوتا ہے دھر لیے جاتے ہیں۔۔۔!

اب جو حضرات جن کو شکوہ ہے موجودہ حکومت سے کہ اس نے ہی یہ کھیل شروع کیا ہے سے پوچھا جانا چاہیے کہ کوئی ایک آدھ کیس کے سوا باقی تو پچھلے دور میں تیار کیے گئے لہٰذا انہیں اس پہلو کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور یہ بھی سامنے رہے کہ اب کوئی دہائی دے یا خاموش رہے احتساب کی گاڑی کو رکنا بالکل نہیں کیونکہ ملک کو بے حد و حساب نقصان پہنچ چکا ہے۔۔۔ جس سرکاری و غیر سرکاری شعبہ کو دیکھو اربوں کھربوں کے خسارے میں جا رہا ہے۔۔۔ اس قدر بے دردی اور سفاکی سے اداروں کو برباد کیا کہ اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔۔۔ معذرت کے ساتھ اس سے یہ تاثر نہیں پیدا ہوا کہ ہمارے حکمران طبقوں کو عوام و ملک سے کوئی ہمدردی نہیں وہ فقط دولت ہی سے پیار کرتے ہیں جس کے حصول کے لیے انہوں نے جائز ناجائز ذرائع استعمال کیے اب جب ان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے تو تڑپ اٹھے ہیں واویلا کر رہے ہیں کہ حکومت انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔۔۔؟ اپنے جذبات سے مغلوب ہوکر آصف علی زرداری نے تو یہ پیشین گوئی بھی کر ڈالی کہ حکومت چند ماہ سے زیادہ نہیں چل سکتی یہ اس قابل ہی نہیں ۔۔۔؟ سچ کہتے ہیں وہ حکومت تو ان کو چلانا آتی ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مختص فنڈز کو اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ذات پر خرچ کر لیا جائے سرکاری زمینوں کو عزیز و اقارب میں معمولی رقم لے کر بانٹ دیا جائے؟ یہ کہ ملکوں میں کھربوں لے جا کر جائیدادیں خریدی جائیں ۔ بھوکے، ننگے، مفلس اور بے بس لوگوں کو خوف کے سایے میں رکھا جائے اور انہیں ووٹ دینے کا حکماً کہا جائے فرض کیا یہ حکومت چلی بھی جاتی ہے تو کیا وہ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھیں گے ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ سیانے کہتے ہیں کہ گیا وقت دوبارہ نہیں آتا۔۔۔ پانی، پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے چڑیاں کھیت چگ چکی ہیں۔۔۔ ایک نئی سیاست اور ایک نئے تقاضے، درکار ہیں جو اکہتر برس سے سسکتے بلکتے عوام کو زندگی کی مسرتوں سے ہمکنار کر سکیں یہاں سفاک جاگیرداروں، وڈیروں اور سائیوں کی کوئی گنجائش نہیں انہوں نے بے رحمانہ انداز سے حکمرانی کی اور غریب عوام کی جمع پونجیوں پر ہاتھ صاف کیے لہٰذا ’’جاگتے موسم‘‘ میں ان سے عوام فاصلے پر رہنا چاہتے ہیں سو اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت میں ان کے حامی ’’بقلم خود‘‘ موجود ہیں مگر امید واثق ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں یہ ناپید ہوں گے۔۔۔!

یہی وہ نکتہ ہے اور خدشہ ہے ان سب کو کہ اگر ان کی پکڑ دھکڑ اور ان سے برآمدگی ہوتی ہے تو وہ سیاسی اعتبار سے اپاہج ہو جائیں گے۔۔۔ لہٰذا کیوں نہ حکومت کی کارکردگی پر طنز و تنقید کے تیروں کی بارش کی جائے اور کذب بیانی اس قدر کی جائے کہ لوگ دھیرے دھیرے اثر قبول کرنے لگیں اس مقصد کے لیے انہوں نے ذرائع ابلاغ میں اپنے کچھ لوگ داخل کر رکھے ہیں جو صرف ان ہی کے مؤقف کو واضح کرتے ہیں حکومتی خدمات و سمت کو مبہم انداز سے پیش کرتے ہیں یر سبیل تذکرہ حکمرانوں کے بعض کاموں کی تعریف کرنے والوں کو باقاعدہ روکا جا رہا ہے۔۔۔ مگر بھولے بادشاہ ہیں ایک در بند ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے۔۔۔!

خیر حکومت کے خلاف جتنی بھی آوازیں اٹھیں گے بے سود ہوں گی کیونکہ وہ خلوص نیت سے کام کر رہی ہے ۔۔۔ وزیراعظم عمران خان پوری دلجمعی اور دیانت داری سے وطن عزیز کی خدمت کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا ان پر انگلیاں نہیں اتھائی جا سکتیں کیونکہ وہ بدعنوان نہیں ، اقربا پروری کے خلاف ہیں میرٹ پالیسی پر سختی سے عمل کرنا چاہتے ہیں مگر ان سے بھی کوئی غلطی و کوتاہی ہو سکتی ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ مجموعی طور سے ایسے ہیں انہیں جہاں کہیں اپنی کمزوری یا غلطی کا علم ہوتا ہے اس سے وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اسے بھی ناقدین و مخالفین خوب اچھالتے ہیں۔ دراصل وہ گزشتہ ادوار کی موجوں، آسانیوں اور سہولتوں کے عادی ہو چکے تھے اب وہ ان سے محروم ہو گئے ہیں لہٰذا صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔۔۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔ اب عوام کو بیوقوف بنانا ممکن نہیں رہا کیونکہ پچھلے سو روز میں وہ اس دھرتی پر کچھ تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ داخلہ و خارجہ پالیسیوں میں نئی جہتیں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔۔۔ کرتار پور تک سکھوں کی رسائی سے پوری دنیا کو پیغام گیا ہے کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے وہ اپنے ہمسایوں سے محبت پیار سے رہنا چاہتا ہے جبکہ بھارتی حکمرانوں کا سیاہ رخ سامنے آیا ہے داخلہ کے حوالے سے یہ ہے کہ محکمہ پولیس و دیگر اداروں میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں جو عوامی بھلائی سے متعلق ہیں کیونکہ وزیراعظم عمران خان اس معاشرے کو انصاف پسند اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ بات ان کے منشور کا حصہ ہے اب کوئی حلقہ اس سے کیسے انکار کر سکتا ہے اس پر بھی حزب اختلاف کو اعتراض ہے۔ اگر وہ اپنے رویے پر نظر ثانی نہیں کرتی تو عین ممکن ہے ایک ڈیڑھ برس کے بعد حکومت عام انتخابات کا اعلان کر دے تب تک عوام کو بعض بنیادی سہولتیں مل چکی ہوں گی ادارے اپنی ساکھ بحال کر چکے ہوں گے یوں پی ٹی آئی دو تہائی کی اکثریت کے ساتھ دوبارہ ایوان میں جا پہنچے گی لہٰذا راستوں میں خار نہیں پھول اُگائیے جو فضاؤں کو مہکائیں!


ای پیپر