Source: Facebook

ڈیم کب تعمیر ہو گا ؟چیف جسٹس ثاقب نثار کادوٹوک فیصلہ
06 دسمبر 2018 (18:53) 2018-12-06

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں4رکنی بنچ نے کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈیم بنانے کا عدالتی فیصلہ حتمی ہو چکا ہے، فیصلے کے خلاف نظرثانی کی کوئی درخواست نہیں آئی، ڈیم کی تعمیر کے جائزے کیلئے عمل درآمد بنچ تشکیل دیا ہے.

واپڈا بتائے کہ ڈیم کی تعمیر کے مراحل اور ٹائم فریم کیا ہو گا ، عملدرآمد بنچ ٹائم فریم کے مطابق کام کی تکمیل یقینی بنائے گا ، ڈیم کا ایک پیسہ بھی کسی اور مقصد کیلئے خرچ نہیں ہوگا، ڈیم فنڈز کی رقم پر ججز اور سپریم کورٹ بھی قابل احتساب ہے، روپے کی قدر کم ہو رہی ہے، عدالت نہیں چاہتی کہ ڈیم فنڈز کی رقم کی قدر کم ہو ، اٹارنی جنرل عملدرآمد بنچ کے فوکل پرسن ہونگے۔

ڈیم کی تعمیر کیلئے ٹنل کی تعمیر ضروری ہے، این ایچ اے بابو سر کے علاقے میں ٹنل تعمیر کرے گا ، اٹارنی جنرل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ ٹنل پر کام شروع ہوا مگر مقامی عدالت نے اس لئے آرڈر جاری کر دیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم کی تعمیر میں جو بھی رکاوٹ آئے عدالت کو آگاہ کریں، ایک ویب سائٹ بنائی جائے جس پر ڈیم کی رقم خرچ کرنے کی تفصیلات دی جائیں، فنڈز لینے کا مقصد ڈیمز کیلئے مہم شروع کرنا تھا، لوگ اب پوچھ رہے ہیں کہ ڈیم کب بنے گا ۔

ڈیم فنڈز کیلئے مزید کتنے پیسے درکار ہیں آگاہ کیا جائے، ٹنل کیلئے مقامی عدالت کی طرف سے دیئے گئے حکم امتناہی کی بھی تفصیلات دی جائیں، یہ بھی بتایا جائے کہ پیسہ بنانے کیلئے بانڈز جاری کرتے ہیں یا نہیں بنانی ہے.

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ فنڈنگ کا بڑا حصہ وفاقی حکومت نے دینا ہے، ڈیم کی تعمیر کا کام رکنا نہیں چاہئے، اچھا مارک اپ ہے تو پیسہ بنک میں بھی جمع کروایا جا سکتا ہے، جسٹس اعجاز الحسن بولے کہ حکومت سے ہدایات لے کر ٹائم فریم دیا جائے یہ بھی بتایا جائے کہ ہر سال پی ایس ڈی پی میں ڈیم کی تعمیر کیلئے کتنی رقم مختص ہوگی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ خدشہ ہے کہ ٹنل کی تعمیر ڈیم کے کام میں رکاوٹ نہ بنے، عدالت نے وفاقی حکومت سے 24دسمبر تک ڈیم کی تعمیر سے متعلق تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 24دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔


ای پیپر