سکرین شوٹ

بھارتی فورسز جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
06 دسمبر 2018 (16:15) 2018-12-06

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے امن کیلئے بہت سے اقدامات اٹھائے، بلوچستان میں بھی دہشت گردی میں کمی آئی ہے۔ بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آج سرحدوں اور ملکی صورتحال سے آگاہ کروں گا۔ بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا۔ سیز فائر کی خلاف ورزیاں 2017 اور 2018 میں زیادہ ہوئیں، بھارتی فورسز جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہیں۔ 2018 میں 55 شہری شہید جبکہ 300 زخمی ہوئے۔ جو تاریخ کی سب سے زیادہ سویلین اموات ہوئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرتارپور پر بھی بھارت نے منفی پراپیگنڈا کیا۔ کرتارپور سے کوئی پاکستان سے بھارت نہیں جاسکتا۔ راہداری سے سکھ یاتریوں کی آمد ہو گی۔ کرتارپور راہداری منصوبہ 6 ماہ میں مکمل ہو گا۔ کرتارپور راہداری کے راستے پر خاردار تاریں لگائی جائیں گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف زیادہ تر جنگ خیبرپختونخوا میں لڑی گئی۔ خیبرپختونخوا میں سرحد باڑ سے بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں ملیں۔ افغان سرحد سے بھی دہشت گردی میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔ دعا ہے وہ دن بھی آئے جب پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو۔ بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن کی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ کراچی میں کاروباری سرگرمیاں تیزی سے بحال ہو رہی ہیں، رینجرز نے کراچی میں امن وامان کیلئے بہت کام کیا، کراچی میں 99 فیصد دہشت گردی میں کمی آئی ہے۔ کراچی میں امن کا کریڈٹ رینجرز کو جاتا ہے۔ رینجرز نے قربانیاں دیکر کراچی کی روشنیاں بحال کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک سرحد پر دہشت گردی کا خطرہ کم نہیں ہوا، پی ٹی ایم کی 3 ڈیمانڈ تھیں، چیک پوسٹس کم کرنا، بارودی سرنگیں کم کرنا اور مسنگ پرسنز۔ ہم نے اپنی طرف سے امن میں بہت بہتری کرلی۔ کوئی بھی جنگ صرف آپریشن کی مدد سے نہیں جیتی جا سکتی۔ 7 ہزار لاپتا افراد کیسز میں 4 ہزار حل ہو چکے ہیں جبکہ 2 ہزار کیس لاپتا کمیشن کے پاس ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے درخواست کی کہ پہاڑوں پر بیٹھے افراد ملکی ترقی میں کردار ادا کریں۔ بلوچستان میں بہت سے فراری ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ افغانستان بارڈر پر 2611 کلو میٹر طویل باڑ لگا رہے ہیں۔


ای پیپر