فوٹو بشکریہ فیس بک

بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے کوئی آثار نہیں ملے تھے: ماہرین آثار قدیمہ
06 دسمبر 2018 (09:23) 2018-12-06

نیو دہلی: انتہا پسند ہندوؤں کی ایک اور گھٹیا سازش سے پردہ اٹھ گیا، ماہرین آثار قدیمہ نے بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا، کہتے ہیں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے کوئی آثار نہیں ملے تھے۔

انتہا پسند ہندوؤں کی مسلمانوں کیخلاف ایک اور گھناؤنی سازش بے نقاب ہو گئی۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے کوئی آثار نہیں ملے تھے۔ بھارتی اخبار کو انٹرویو میں ماہرین آثار قدیمہ نے بھانڈا پھوڑ دیا۔

ماہرین آثار قدیمہ سپریا ورما اور جیا مینین کا کہنا تھا کہ الہ آباد ہائیکورٹ میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے بھی جھوٹ بولا اور کھدائی سے پہلے کے اخذ کردہ نتائج 2003 میں عدالت میں پیش کئے۔

بھارتی ماہرین کے مطابق مسجد کے تین مقامات، نماز گاہ، ستونوں اور مسجد کے تعمیراتی ڈھانچے کے نیچے کھدائی کی گئی جس دوران صرف تین ٹکڑے ملے لیکن وہ رام مندر کے بالکل نہیں تھے۔ تینوں مقامات سے ملنے والے آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک قدیم اور چھوٹی مسجد تھی جس کے اوپر بڑی بابری مسجد بنائی گئی۔

واضح رہے کہ انتہا پسند ہندووں نے 6 دسمبر 1992 کو سولویں صدی میں بننے والی بابری مسجد کو شہید کیا تو اس کے نتیجے میں ملک بھر میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے تھے جس میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کو شہید کر دیا گیا تھا۔


ای پیپر