بیورو کریسی اور گورنر کریسی!
06 دسمبر 2018 2018-12-06

اب ذرا گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے دورہ فیصل آباد کی روداد بھی سُن لیں۔ جس کا تذکرہ پچھلے تین چار کالموں میں ہو رہا ہے۔ مگر تفصیل بیچ میں ہی کہیں رہ جاتی ہے۔ حکمرانوں کے ساتھ اپنی ذرا کم ہی بنتی ہے۔ چوہدری سرور کی عزت میرے دِل میں اِس لئے ہے وہ میرے ہر دُکھ سُکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ اور صرف میرے ہی نہیں‘ اُن کی وجہ شہرت یہی ہے جس کے ساتھ اُن کا تعلق ہے، اُس کی کسی حیثیت کو پیش نظر رکھے بغیر اُس کے ہر دُکھ سُکھ میں لازماً شریک ہوتے ہیں۔ چاہے کسی عہدے پر ہوں نہ ہوں، چاہے کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں۔ ایسے لوگوں کا حکم ٹالنا مشکل ہوتا ہے۔ فیصل آباد میں اُنہوں نے سینٹرل جیل میں واٹر فلٹریشن پلانٹ اور کچھ اور منصوبوں کا افتتاح کرنا تھا، جن کا اہتمام اُن کے فلاحی ادارے سرور فاﺅنڈیشن کی جانب سے کیا گیا تھا، میں اُن کی خواہش پر اُن کے ساتھ اِس لئے بھی فیصل آباد چلا گیا، وہاں سنٹرل جیل میں میرا ایف سی کالج کا شاگرد عزیز اسد جاوید وڑائچ سپرنٹڈنٹ ہے۔ ایسے ہی باکمال اور نفیس شاگردوں کی وجہ سے مجھے ہمیشہ یہ فخر رہا کہ میں نے کچھ پر کشش عہدے چھوڑ کر اُستاد بننے کو ترجیح دی تھی۔ فیصل آباد سے مجھے ویسے ہی بڑی محبت ہے۔ یہاں حافظ سرفراز میرے بزرگ ہیں۔ اُن کے صاحبزادے بلال سر فراز اور حسن فراز اتنی محبت فرماتے ہیں کبھی کبھی جی چاہتا ہے مستقل طور پر فیصل آباد میں ہی شفٹ ہو جاﺅں۔ فیصل آباد ہر لحاظ سے اب محفوظ ترین شہر ہے، کمشنر فیصل آباد آصف اقبال انتہائی نفیس انسان ہیں۔ تکبر چھو کر بھی اُنہیں نہیں گزرا۔ ورنہ ہمارے ہاں پٹواری مان نہیں ہوتا، کمشنر تو ویسے ہی بڑی توپ ہوتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر سیف اللہ ڈوگر بھی ایسے ہی افسر ہیں۔ اُن کے بڑے بھائی اسد اللہ ڈوگر بھی ایف سی کالج میں میرے شاگرد تھے۔ وہ اِن دِنوں ایک بڑے فوجی افسر ہیں۔ پچھلے دِنوں اِس ڈپٹی کمشنر کے ساتھ وکلاءنے بدسلوکی کی، مجھے اِس کا بڑا دُکھ ہوا۔ مجھے نہیں معلوم اُن وکلاءکے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہوئی یا نہیں؟ نہیں ہوئی تو یہ انتہائی افسوس اور شرم کا مقام ہے۔ وکلاءگردی کا فروغ پانا ملک کے لیے اسی طرح خطرناک ہے جِس طرح ” مُلا گردی کا فروغ پانا خطرناک ہے۔ سرکار نے کچھ شر پسند مولویوں کو قابو کر لیا ہے۔ تو کچھ شرپسند وکلاءکو قابو کرنا زیادہ ضروری ہے۔ ورنہ ہوسکتا ہے کل کلاں کچھ وکلاءیہ مطالبہ کر دیں کہ جِس طرح عدلیہ میں اُن کا کوٹہ ہوتا ہے۔ اُسی طرح فوج اور پارلیمنٹ میں بھی اُن کا کوٹہ ہونا چاہئے۔ اور پھر یہ مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اُن کے ہاتھ جرنیلوں اور وزیر اعظم کے گریبانوں تک پہنچ جائیں۔ ججوں کے گریبانوں تک تو پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔ روز کوئی نہ کوئی جج اُن کے ہتھے چڑھا ہوتا ہے۔ ہر کسی کو اپنے جلوے دکھانے والا بابا رحمتا بھی اُن کے آگے بے بس دِکھائی دیتا ہے۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ عدلیہ اور حکومت کو مِل بیٹھ کر اِس کا کوئی مستقل حل ڈھونڈنا پڑے گا جو کہ فی الحال نہیں ڈھونڈا جا رہا اور یہ ایک المیہ ہے۔ فیصل آباد عرف لائلپور کو میں نے اِس لئے بھی محفوظ ترین شہر قرار دیا یہاں سی پی او ، ڈی آئی جی اشفاق خان انتہائی مثبت ذہنیت کے حامل ایسے انسان دوست اور درد مند افسر ہیں جو ہمارے جو محکمہ پولیس میں اب آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی بھی اُن کے اِس لئے مداح ہیں کہ وہ انتہائی پروفیشنل پولیس افسر ہیں جنہیں فیلڈ وغیرہ میں اچھی تقرری کے لئے کبھی کسی سفارش کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اُن کی سب سے بڑی سفارش اُن کی اہلیت ہے۔ اپنے ماتحتوں کے لئے بھی انہوں نے یہ اعلان کر رکھا ہے اپنے جائز مسائل کے لئے وہ کسی سفارش کا سہارا لینے کے بجائے خود آکر اُن سے ملیں۔ یہی اعلان آر پی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی نے بھی کر رکھا ہے۔ گزشتہ ہفتے مجھے چند لمحات اِس عظیم پولیس افسر کے دفتر میں گزارنے کا موقع ملا۔ میرے بیٹھے بیٹھے مظلوم لوگوں اور ماتحتوں کی اتنی دعائیں اُنہوں نے سمیٹیں میں سوچ رہا تھا کچھ دعائیں اُن سے اُدھار لے لُوں۔ ایسے افسروں کا تبادلہ عموماً اِس ” شکایت“ پر ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کا جائز کام بغیر سفارش کے کر دیتے ہیں۔ فیصل آباد کی طرح گوجرانوالہ بھی اِس حوالے سے اب خوش قسمت شہر ہے۔ اِس ضلع اور ڈویژن میں تعینات ہونے والے اکثر افسران کی شہرت ہر حوالے سے بہت اچھی ہے۔ سی پی او گوجرانوالہ، ڈی آئی جی ڈاکٹر معین مسعود انتہائی شریف آدمی ہیں۔ اِس کے باوجود محکمہ پولیس کا انتخاب اُنہوں نے شاید یہ سوچ کر کیا

ہوگا اِس محکمے میں کچھ شریف لوگ بھی ہونے چاہئیں۔ ورنہ تو یہ محکمہ اب بھی ” شریف برادران “ کے لوگوں بلکہ چمچوں سے بھرا پڑا ہے۔ حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ رائے منظور حسین ناصر بھی انتہائی شریف آدمی ہیں۔ وہ پی ایم ایس ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ اپنی ” برادری “ کو جائز حقوق دِلوانے کے لئے اُن کی جدوجہد مثالی ہے۔ مکمل حقوق تو اب بھی پتہ نہیں ملے ہیں یا نہیں مگر اُن کی عظیم جدوجہد کے نتیجے میں اتنا ضرور ہوا اہم سیٹوں پر پی سی ایس یا پی ایم ایس افسروں کی تقرریاں اب پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہیں۔ رائے منظور حسین ناصر سے پہلے جو ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ تھے اُن کا تبادلہ اُن کی تعیناتی کے چند روز بعد ہی کر دیا گیا۔ سنا ہے وہ گوجرانوالہ کے کچھ ” نون لیگیوں “ کو اُن کی مرضی کے مطابق خوش رکھنے میں ناکام رہے۔ اِس لئے تبدیل کر دیئے گئے۔ یہ بھی ایک نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں نون لیگیوں کو زیادہ نوازا جا رہا ہے۔ نون لیگی ارکانِ اسمبلی اور اُن کے عزیز واقارب خوش ہیں کہ اُن کے اتنے ناجائز کام اُن کی اپنی حکومت میں نہیں ہوتے تھے جتنے پی ٹی آئی کی حکومت میں ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ نون لیگی افسران بھی بڑے خوش ہیں کہ اتنی اچھی تقرریاں اُنہیں اُن کی اپنی حکومت میں نہیں ملی تھیں جتنی اب مل رہی ہیں۔ ابھی حال ہی میں ڈی پی او سیالکوٹ ، انتہائی پڑھے لکھے، بھلے اور نفیس پولیس افسر ایس ایس پی عبدالغفار قیصرانی کو بھی شاید اِس لئے تبدیل کر دیا گیا کہ سیالکوٹ میں پی ٹی آئی میں اچھی شہرت کے حامل لوگ اُنہیں بڑا پسند کرتے تھے۔ پچھلے دِنوں جب وزیر اعظم عمران خان سیالکوٹ کی یونیورسٹی کا افتتاح کرنے گئے۔ اِس تقریب میں سیالکوٹ سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے اپنی تقریر میں وزیر اعظم اور اعلیٰ افسران کی موجودگی میں ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی تعریف کر دی۔ اعلیٰ افسران کو یقیناً اِس کی بڑی تکلیف ہوئی ہوگی کہ اُن کی موجودگی میں اُن کے ماتحتوں کو شاباش کیوں دی گئی؟ میرے خیال میں تو یہی تکلیف اِن دونوں افسران کے فوری تبادلے کا باعث بنی۔ یہ بے چارے دونوں افسران سفارش وغیرہ پر یقین نہیں رکھتے۔ ورنہ نون لیگ کے کسی رکن اسمبلی کے کسی بیٹے یا عزیز وغیرہ کو پکڑ کر وزیر اعلیٰ بزدار کے پاس لے جاتے اُن کا تبادلہ فوراً کینسل ہو جاتا۔ کبھی کبھی مجھے احساس ہوتا ہے نون لیگ نے بزدار صاحب کو پی ٹی آئی کو کچھ عرصے کے لئے اُدھار دیا ہوا ہے تاکہ وہ پی ٹی آئی کے معاملات بگاڑ کر نون لیگ کے(صفحہ 4 پر بقیہ نمبر 1)

لئے آسانیاں پیدا کر سکیں یا پنجاب میں دو بارہ نون لیگ کی حکومت بنانے کی راہ ہموار کر سکیں۔ جہاں تک گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا تعلق ہے اُن کا دورہ فیصل آباد شاید اِس لئے کامیاب رہا کہ میں اُن کے ساتھ تھا۔ میں اُن کے ساتھ نہ ہوتا اُن کا دورہ مزید کامیاب ہونا تھا۔ سینٹرل جیل فیصل آباد میں اُنہوں نے اپنے فلاحی ادارے ” سرور فاﺅنڈیشن “ کی جانب سے لگائے جانے والے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کیا۔ میں نے اُن سے گزارش کی اِس فلاحی ادارے کی خدمات کا دائرہ پورے پاکستان تک وسیع کیا جائے جو فی الحال پنجاب تک ہے۔ اگلے روز اُنہوں نے مجھے بتایا سرور فاﺅنڈیشن کی جانب سے اب سندھ کی جیلوں میں بھی واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اُس کے بعد دیگر صوبوں کی جیلوں میں بھی لگائے جائیں گے۔ اللہ اُنہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ یہ اصل کام اصل میں سرکار کے ہوتے ہیں جو پنجاب کے گورنر سرکار کی جانب سے کر رہے ہیں!!

بیورو کریسی


ای پیپر