Source : Facebook

سب چور لُٹیرے۔۔۔سیاست کی راہداریوں کے راز بیان کرتی تحریر
06 دسمبر 2018 (00:08) 2018-12-06

آئیے سر تشریف رکھیے.... کیا لیں گے آپ؟

فی الحال تو سادھا پانی چلے گا، مہمان آتا ہے تو آرڈر دیتا ہوں۔

یہ محسن بٹ ہے، کوئی 35/40 سال کے لگ بھگ عمر کا خوش شکل آدمی۔ لمبا قد، چھوٹے بال، سفید رنگ، بلی آنکھیں۔ بڑے ٹھاٹ ہیں جناب کے، گاڑی، گھڑی اور چشمے تو ایسے بدلتا ہے جیسے ٹشو، ہو استعمال کیا اور رکھ دیا۔ کیوں نا ہو؟ آخر کو ایم این اے ہے، کوئی چھوٹا موٹا عہدہ تونہیں۔ وہ ہوٹل میں اکمل بابا کا انتظار کر رہا تھا ایک دن پہلے ہی اکمل بابا جیل سے سزا پوری کرکے نکلا تھا، فون پر بات ہوئی اور جگہ کا انتخاب ہوا۔ محسن بے تابی سے اس کاانتظار کر رہا تھا۔

اچانک ایک لمبا تڑنگا شخص ہوٹل میں داخل ہوا، گہرا رنگ، بڑی مونچھیں اور چال ڈھال تھری پیس پہننے کے باوجود اس کے غنڈہ ہونے کی چغلی کھا رہی تھی۔ وہ لوگوں سے نظریں بچاتا ہوا محسن کے پاس پہنچا، دونوں بغلگیر ہوئے، محسن نے کہا:

” اکمل بابا کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں، کبھی تو وقت کی پابندی کر لیا کر، اسی وقت کی پابندی تو نے تنویر اسلم کو راستے سے ہٹاتے ہوئے بھی کی ہوتی تو جیل کی ہوا نا کھانی پڑتی۔“

اکمل جھنجلا کر بولا: ” بٹ صاحب آپ نے بھی تو کیس ختم کرواتے کرواتے ایک سال اسی قید میں رہنے دیا مجھے“۔

محسن نے مصنوعی مسکراہٹ بکھیری " تو وہاں بھی تو تُو عیش سے ہی رہا ہے نا، سگریٹ، وہسکی، روز مالش ،کسی بھی چیز کی کمی نہ ہوئی تجھے پھر شکوہ کیسا؟"

" ارے بٹ صاحب اتنے پر گزارہ کہاں ہوتا ہے ؟ قید تو قید ہے نا، ہزار آسائشیں تھیں مگر پسند کی راتیں تو نہ تھیں نا۔۔۔ اکمل بابا سر جھکا کر بول رہا تھا۔

" او اکمل بابا! اب آگئے ہو نا، اپنی مرضی کی راتیں اور اپنی مرضی کے دن گزارنا مگر ابھی کام کی بات سن، تنویر اسلم کو اوپر پہنچانے کے بعد تو اندر ہو گیا مگر یہاں کایا پلٹتی نظر آئی۔ وہ منیر ڈوگر نے بہت شاندار کیمپین کی اور تنویر اسلم کے قتل کا الزام بڑی دیدہ دلیری سے مجھ پر ہی دھرتا رہا" محسن نے پانی کے چند گھونٹ لئے، اس دوران اکمل بابا اُسے تجسس سے گھورے جا رہا تھا۔ پھر محسن مخاطب ہوا " منیر صاف جیتتا ہوا نظر آرہا تھا، اس لئے جو تجھ پر خرچ کرنے کے لئے پیسے رکھے تھے وہ مجھے ووٹ خریدنے میں لگانے پڑے، اس لئے تجھے باہر آتے دیر ہوگئی"۔

"ہاں تو صاف بولو نا کہ میری جان سے زیادہ تمہیں ایم این اے کی کرسی عزیز تھی۔۔۔" اکمل بابا نے تلملا کر ٹوکا۔

" میں ایم این اے نہ لگتا تو صرف پیسوں سے تیرا باہر آنا مشکل تھا، تنویر اسلم خود تو شریف آدمی تھا مگر اس کی پارٹی کا ہاتھ کافی مضبوط ہے۔ خیر بات تو پوری سُن لے۔۔۔ درمیان میں مت ٹوکو اب۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ مجھے ووٹ خریدنے میں پورا 15 لاکھ خرچ کرنا پڑا، کنگلا ہوا جا رہا تھا مگر خریدا ہوا ووٹ کام آیا اور منیر ڈوگر بُری طرح شکست کھا گیا۔ اب اس نے بدلا لینے کی ٹھان رکھی ہے۔ مجھے اپنے ایک جاسوس سے معلوم پڑا ہے کہ منیر ڈوگر مجھے اوپر پہنچانے کا پلان تیار کر رہا ہے، وہ تو شکر کہ تو واپس آگیا۔" محسن خوشامدانہ اندازمیں بول رہا تھا۔

" اس سے میری واپسی کا کیا تعلق ہے بٹ صاحب سیدھی سیدھی بات کرو؟ کیا یہ ارادہ تو نہیں کر لیا کہ میں ایک اور بندہ پھڑکا کر اس بار پھانسی پر چڑھ جاو¿ں اور تم ہمیشہ بادشاہوں کی طرح رہو"۔ اکمل بابا نے پہلی بار اس انداز میں بات کی تھی۔

محسن بٹ نے قہقہ لگایا، ویٹر کو بلایا، بار بی کیو اور کڑاہی کا آرڈر دیا اور اکمل سے مخاطب ہوا " اکمل بابا اس ایک سال میں اتنا مال جمع ہو چکا ہے کہ بہت سے اکمل بابا خرید سکتا ہوں، مگر تجھ سے اپنا تعلق ایسا ہے کہ گوانا نہیں چاہتا۔ میرا پلان اب تھوڑا مختلف ہے"۔

کھانا آچکا تھا، بار بی کیو سے ہلکے ہلکے اُٹھتے ہوئے دھویں اور اس کی خوشبو نے اکمل بابا کی بھوک بھڑکا دی۔ اکمل نے تیزی سے ایک کباب اُٹھایا تو اُف اُف کرتا فوراََ رکھ دیا "ابے اتنے گرم ہیں لگتا ہے آگ پر پکائے ہیں" اکمل بابا کے اس جملے پر دونوں بے اختیار قہقہے بلند کرنے لگے۔

" بس گرم شے پر ہاتھ ڈالتے وقت احتیاط کرنی چاہیے اسی لئے میں نے ایسا پلان بنایا ہے کہ منیر ڈوگر کی گرمی کو ٹھنڈا کرنا آسان ہو جائے گا" ۔ محسن بٹ نے رازدارانہ انداز میں بولنا شروع کیا۔ کباب اُڑاتے اور نان حلق سے اُتارتے وہ دونوں پلان پر دیر تک بات کرتے رہے۔ ہوٹل کا ماحول کافی خوشگوار تھا لیکن بار بار ویٹر کے آنے پر ان کے راز و نیاز میں خلل پڑتا، اکمل بابا تو ایسے کھا رہا تھا جیسے برسوں کا بھوکا، اصل میں یہ اس کی عادت تھی، ایک ایک قتل کا بھاری معاوضہ لے کر وہ ہمیشہ بڑے بڑے ہوٹلوں سے کھانے کھاتا تھا مگر ندیدہ پن تو جیسے اس کی گھٹی میں ملا تھا۔

کھانا ختم ہو چکا تھا، بھاری ٹِپ کے ساتھ بل ویٹر کو ادا کر دیا تو محسن بٹ نے ایک بار پھر اکمل بابا کو کہا "بابا اب کل ہی منیر کے پاس چلا جا تا کہ سرکاری کارروائی میں آسانی رہے"۔

اکمل بابا نے مسکرا کر تائید میں سر ہلایا، دونوں بغلگیر ہوئے اور ہوٹل سے نکل گئے۔

"سر! باہر کوئی ملنے آیا ہے، اکمل بابا نام بتایا ہے اور کہہ رہا ہے کہ کسی کنٹریکٹ کے متعلق بات کرنی ہے"۔ ملازم نے منیر ڈوگر کو آ کر بتایا۔

" اسے اندر لے آﺅ اور ڈرائنگ روم میں بٹھاو" منیر نے حیرت زدہ ہوتے ہوئے کہا۔

"بولو کیسے آنا ہوا، ابھی دو دن پہلے تو تم جیل کی ہوا کھا کر نکلے ہو"۔ منیر ڈوگر نے طنز بھرا جملہ داغا۔

اکمل بابا کو شدید غصہ آیا لیکن خود کو سمبھالا اور مصنوعی مسکراہٹ بکھیر کر کہا "آپ کے ہاں سلام کا رواج نہیں شائد"۔

اب کی بار منیر ڈوگر کا انداز بدل گیا اور بولا "اکمل بابا! سلام بھی ہوگا دُعا بھی ہوگی، فی لحال کام کی بات کرو، تم تو محسن بٹ کے لئے کام کرتے ہو، میرے پاس کیا لینے آئے ہو؟"

اکمل بابا صوفے کے کاندھوں پر ہاتھ پھیلا کر بیٹھ گیا، ٹانگ پر ٹانگ رکھی اور سگریٹ سلگانے لگا۔ منیر ڈوگر کھا جانے والی نظروں سے اُسے دیکھتا رہا مگر زبان سے ایک لفظ نہ نکالا۔

" دیکھو منیر صاحب ہم ہیں کاروباری بندے، جہاں سے مال آئے اسی کے ہو جاتے ہیں، تم مال دو تو تمہارے، بٹ صاحب مال دیں تو اُن کے، ارے ہم کوئی کسی کے خریدے ہوئے غلام تھوڑی ہیں، اپنا دھندہ ہے اور دھندے میں تو سب چلتا ہے نا"۔ اکمل بابا نے باقاعدہ آنکھ مارتے ہوئے منیر ڈوگر سے کہا " بٹ صاحب نے ہی بھیجا ہے تمھارے پاس صاحب، وہ تمہیں اپنی مال کمانے کی مشین میں پارٹنر بنانا چاہ رہے ہیں۔"

" کون سی مال کمانے والی مشین؟ " منیر نے نہایت تعجب سے سوال کیا۔

" ارے منیر صاحب! شائد تمہیں خبر نہیں کہ وزیر اعظم نے غریبوں کے لئے ہاﺅسنگ سکیم کا اعلان کیا ہے، اس کی تعمیر کے لئے کنٹریکٹر تلاش کرنا اپنے بٹ صاحب ہی کی ذمہ داری ہے"۔ اکمل بابا نے فخر سے گردن اکڑاتے ہوئے جواب دیا۔

منیر ڈوگر کو کچھ سمجھ نا آیا اور تھوڑا قریب ہوکر بولا " پہیلیاں نا بجھواﺅ، سیدھی بات کرو سیدھی، تم شائد جانتے نہیں کہ محسن بٹ نے مجھ سے دشمنی مول لی ہوئی ہے، تو ان باتوں سے بھلا مجھے کیا غرض؟"

" غرض ہی تو بتانے آیا ہوں، بٹ صاحب بڑے دل کے مالک ہیں، انہیں آپ شروع سے ہی پسند ہیں، اکثر آپ کی تعریف کرتے ہیں، وہ الیکشن میں جو کچھ بھی ہوا اس کا مداوا کرنا چاہتے ہیں۔"۔ اکمل بابا صاف جھوٹ بول گیا۔

" الیکشن میں جو کچھ ہوا اس کا بدلہ لینے کی تیاری میں کر چکا ہوں، جا کر بٹ صاحب کو کہہ دو کہ دِن گنے دِن۔" منیر ڈوگر نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے جواب دیا۔

"ہاﺅسنگ سوسائٹی کا پراجیکٹ ڈیڑھ ارب کا ہے منیر صاحب، اور اگر یہ کنٹریکٹ آپ کی کنسٹرکشن کمپنی کو ملے تو کروڑوں کا منافع آپ کی جیب میںاور ویسے بھی پیسے بنانا آپ سے بہتر کون جانتا ہے"۔ اکمل بابا نے فوراََ تیر داغا

جو بالکل نشانے پر لگا، منیر ڈوگر صوفے پر ٹیک لگا کر کچھ دیر سوچتا رہا پھر اچانک سیدھا بیٹھا اور کہا "محسن بٹ سے کہو کہ اس یاری میں اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گا، ہم اگر دشمن کے دشمن ہیں تو یاروں کے یار بھی ہیں۔ میں کل 12 بجے ان کے گھر آﺅں گا پیغام دے دینا۔"

اکمل بابا بڑی گرمجوشی سے اُٹھا اور منیر ڈوگر سے کہا "اب تو سلام بنتا ہے نا پھر؟"

" سلام کیا جو پیغام لائے ہو اس پر تو واقعی دعاﺅں کے بھی حق دار بنتے ہو" منیر ڈوگر کے اس جملے پر ڈرائنگ روم دونوں کے قہقوں سے گونج اُٹھا۔

اکمل بابا جاچُکا تھا اور منیر ڈوگر خود کلامی کرتے ہوئے بولا "دشمنی اتنی آسانی سے تو ختم نہیں ہونے والی مگر واہ بٹ صاحب تمہیں ابھی مزید جینا چاہیے" وہ کافی دیر ڈرائنگ روم میں ہی تنہا بیٹھا رہا۔

خوبصورت کشادہ ڈرائنگ روم میں، امپورٹد صوفے پر بیٹھے منیر ڈوگر کی نظر چھت سے لٹکتے قیمتی فانوس پر اٹکی ہوئیں تھیں کہ اچانک محسن بٹ مصنوعی مسکراہٹ سجائے داخل ہوا۔" دس لاکھ میں ملا ہے یہ فانوس، بس خوبصورت چیزیں پسند ہیں پھر قیمت چاہے کچھ بھی ہو" محسن بٹ نے متکبرانہ انداز میں بات کا آغاز کیا۔ ویسے تو یہ بات اس نے محض منیر ڈوگر پر رعب جمانے کے لئے کہی تھی۔

" ایک سال میں بہت آگے نکل گئے ہو بٹ صاحب" منیر ڈوگر نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔

محسن بٹ نے قہقہ بلند کیا اور بولا " اب آپ نے بھی تو ہم سے ہاتھ ملا لیا ہے، ایک ہی ڈگر کے مسافروں کا ساتھ چلنا ہی بہتر ہوتا ہے منیر صاحب"۔

" تابعدار بٹ صاحب" منیر ڈوگر کھسیانہ سا ہوکر صوفے پر بیٹھ چُکا تھا۔ " اکمل بابا آیا تھا، پہلے تو میں سمجھا کہ تنویر اسلم کی طرح میری بھی قیمت دے چُکے ہو اُسے لیکن وہ تو مجھے حیران کر گیا"۔

" قیمت تو تم نے ساجو پہلوان اور شوکی کو میرے سرکی دے رکھی ہے لیکن میرا دل دیکھو کہ۔۔۔" محسن بات مکمل ہی نہ کر پایا تھا کہ منیر فوراََبولا "اب وہ باتیں جانے دو میں نے کل ہی انہیں فون کر دیا تھا، پیسے انہیں تحفةََ بخش دیئے ہیں"۔

محسن نے رازدارانہ انداز میں کہا " تیس فیصد میرا ہوگا باقی 70 فیصد تم رکھ لینا "۔ منیر کچھ نہ بولا تو محسن نے پھر سوال کیا " کیوں منیر صاحب کنٹریکٹ پسند نہیں کیا؟"

" سوچ رہا ہوں کہ اگر ہم ایسے ہی مل کر عوام کی خدمت کرتے رہیں تو ایک خوشحال معاشرہ جلد ہی تعمیر ہوجائے گا۔"

دونوں کتنی ہی دیر اس بات کا مزہ لے لے کر ہنستے رہے اور شہر میں کہیں ایک ماں نے غربت اور بھوک سے تنگ آکر تین بچوں سمیت خودکشی کر لی تھی۔

٭٭٭


ای پیپر