دوہری شہریت ا ور دوغلا پن
06 اگست 2020 (23:03) 2020-08-06

وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کی دوہری شہریت کے معاملے پر حکومت نے یوں کریڈٹ لینے کی کوشش کی جیسے ملک و قوم پر کوئی احسان کیا ہو۔ اسکے ساتھ ساتھ انکے اثاثوں کا معاملہ بھی سامنے آیا جو درحقیقت قانون کی خلاف ورزی ہے۔ایف بی آر کے قواعد کے مطابق ان افراد کو دو سال میں کم از کم دومرتبہ اپنے اثاثوں کی تفصیل اور ذرائع آمدن تحریری طور پر جمع کرانے ہوتے ہیں۔لیکن یہاں قانون تو صرف عوام یاپھر سیاسی مخالفین کیلئے ہے۔باقی جس کا جو جی چاہے کرتا پھرے۔ عمران خان جب ن لیگ کی حکومت کو گرانے کی کوشش میں لگے ہوتے تھے تو دوہری شہریت انکے نزدیک ا تنا بڑا  جرم تھا کہ ایسے لوگوں کو کسی صورت ملک کے کسی اہم عہدے پر فائز نہیں کیا جا سکتا تھا۔اسی دور میں وہ اکثریہ اعتراض کرتے رہے۔ان کی مددکیلئے ہمہ وقت دستیاب چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز حکومت میں دوہری شہریت والے عہدیداروں کی دوڑیں لگوا دیں۔عمران خان کو جیسے ہی اقتدار سونپا گیا تو انہوں نے یو ٹرن ڈاکٹرائن کے تحت ملک کا نظم و نسق ہی دوہری شہریت رکھنے والے افراد کے سپرد کردیا۔اب تک یہی صورتحال ہے۔برطانوی شہریت رکھنے والے زلفی بخاری کو ناقدین ڈپٹی پرائم منسٹر قرار دیتے ہیں،بعض دل جلے تو انہیں سپر پرائم منسٹر کہنے سے بھی بازنہیں آتے۔زلفی بخاری اور انکے والد گرامی کے کاروبار کے حوالے سے کئی باتیں مسلسل گردش میں ہیں۔بعض مقدمات کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔عمران خان نئے نئے وزیر اعظم بنے تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے انہیں ایزی لیتے ہوئے زلفی بخاری کے معاملات کے متعلق دریافت کیا۔اسی دوران نیب بھی حرکت میں آئی۔ عمران خا ن نے سخت برا منایا اور میڈ یا پر آ کر کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔پھر دیکھتے  ہی دیکھتے سارا معاملہ گول ہوگیا۔ معاون خصوصی برائے اوورسیز امور کا عہدہ رکھنے والے زلفی بخاری بہت زیادہ اثاثے رکھنے کے باوجود ٹیکس کتنا دیتے ہیں۔اسکا جواب بڑا دلچسپ ہے۔وہ خود فرماتے ہیں کہ اس حوالے سے کا غذات ابھی تیار کرنے جا رہے ہیں۔یعنی فی الحال کچھ نہیں۔پاکستان میں وہ ایک مہمان بلکہ مہمان خصوصی کے طور پر آئے ہیں۔ملک کے اندر انکے اختیارات کا عالم یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی سے متفقہ طورپر منظور ہونے والے تحفظ بنیاد اسلام بل کو رکوانے کیلئے خود لاہور آئے اور گورنر پنجاب کی ‘‘رہنمائی’’ کی۔یہ انکے دائرہ اختیارات کی صرف ایک جھلک ہے۔2019میں فوجی قیادت کے ہمراہ وزیر اعظم عمران خان دورہ امریکہ پر گئے تو زلفی بخاری انکے دست راست کے طور پر موجود رہے۔رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ صدر ٹرمپ کے یہودی داماد جیئرڈ کشنر جو مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک کے معاملات میں اپنے سسر کے بہت اہم مشیر ہیں وائٹ ہائوس میں موجود تھے۔ زلفی بخاری نے پاکستانی وفد کے ارکان کا جیئرڈ کشنر سے تعارف کرایا۔ٹرمپ خود بھی ہوٹل انڈسٹر ی اور رئیل اسٹیٹ بزنس کے بڑے کھلاڑی ہیں۔عجب اتفاق ہے کہ ان دنوں یہ مصدقہ خبریں آ رہی ہیں کہ امریکی صدر نیویارک کے مہنگے ترین علاقے میں واقع پی آئی اے کے ملکیتی انتہائی قیمتی ہوٹل روز ویلٹ کو خریدنا چاہتے ہیں۔ جولائی2019میں ہونے والے اسی دورے میں مسئلہ کشمیر پر بھی بات ہوئی۔محض چند دن بعد 5اگست2019کو ہی بھارتی حکومت نے مقبو ضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے فیڈریشن میں شامل کرنے کا اعلان کردیا۔آج ایک سال بعد حالت یہ ہے کہ ہم ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے نغمہ جاری کر کے اور یوم استحصال منا کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی کوشش کر رہے ہیں ادھر بھارتی حکومت تیزی سے ایسے اقدامات کر رہی ہے کہ جن سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمان آبادی کی اکثریت اقلیت میں بدل جائے۔کہا جا تا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ہر شعبے میں زلفی بخاری کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔ابھی تک تو وہ کسی ایک شعبے میں بھی کارکردگی نہیں دکھا پائے۔دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔وزیر اعظم کے ایک اور معاون خصوصی ندیم بابر کے پاس امریکی شہریت کے ساتھ ساتھ پٹرولیم کا شعبہ ہے۔اب کوئی بھی آسانی سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ جس با اختیار معاون خصوصی کے اپنے تمام کاروباری مفادات پٹرولیم 

مصنوعات اور بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں سے جڑے ہونگے وہ کام کس طریقے سے کرے گا،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ روس سے گیس لینے کے مجوزہ معاہدے کی راہ میں ندیم بابر دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔آجکل یہ افواہیں بھی ہیں کہ تانیہ ادریس اور ڈاکٹر ظفر مرزا کی طرح ندیم بابر کو بھی کسی لمحے اچانک پروانہ رخصتی تھمایا جا سکتا ہے۔اس سے کیا فرق پڑیگا۔ایک جائے گا تو اس کی جگہ دوسرا بھی ویسا ہی آ جائے گا۔ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہی دیکھ لیں۔ان کی ’’کارکردگی ‘‘اور’’کارناموں ‘‘ کے بارے میں سپریم کوٹ تک معترض رہی وہ پھربھی کام کرتے رہے۔ایک موقع پر چیف جسٹس برہم ہوئے تو اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹایا گیا تو کورونا وباء کے خلاف جاری مہم بری طرح متاثرہو گی۔بھارت سے ادویات منگوانے کا معاملہ ہو یا طبی اشیاء چین بھجوانے کا کیس،ڈاکٹر ظفر مر زا کی ذات کئی حوالوں سے مشکوک تھی۔اب شاید یہی سوچا گیا کہ عوام کو یہ تاثر جانا چاہیے کہ اعلیٰ عہدیداروں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ مہنگائی اور بیڈگورننس سے پیدا ہونے والی اضطراب کی شدید لہر کا زور کم کیا جا سکے سو ڈاکٹر ظفر مرزا کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔اب محکمہ صحت شوکت خانم کینسر ہسپتال کے سی ای او اور عمران خان کے پرانے ساتھی ڈاکٹر فیصل سلطان کو سونپ دیا گیا۔یہ کس میرٹ پر کیا گیا یہ سوال نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔مفادات کا ٹکراو جس بڑے پیمانے پر موجودہ دور میں دیکھنے میں آیا ہے اسکی ماضی میں کوئی مثال نہیں۔حال ہی میں معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ادریس کو بھی فارغ کردیا گیا ہے۔تانیہ درحقیقت جہانگیر ترین کی دریافت تھیں۔ان کو بڑے اہتمام سے پاکستان لایا گیا مگر کسی کو علم نہ تھا کہ آخر ان سے کیا کام لینا ہے۔انکو ہٹاتے وقت یہ دعویٰ کیاگیا کہ وہ ایک این جی او بنا کر مفادات کے ٹکرائو کی جانب جا رہی تھیں۔اس این جی او میں جہانگیر ترین بھی عہدیدار ہیں۔یہ بات  اس لیے مضحکہ خیز ہے کہ وزیروں،مشیروں اور معاونین خصوصی میں زیادہ تر انہی محکموں کو کنٹرول کرتے ہیں جن سے متعلقہ کاروبار وہ خود کررہے ہیں۔تانیہ کو شاید اس لیے ہٹایا گیا کہ ڈیجیٹل اور سمارٹ پاکستان کے حوالے بطور’’ پوسٹر لیڈی‘‘ انکا جتنا استعمال کیا جانا تھا ہو چکا۔اب سارا معاملہ اوپن ہونا شروع ہو گیا تھا۔دوسر ی بات یہ کہ ان دنوں برطانیہ میں مقیم جہانگیر ترین ،عمران خان کومحسن کش قرار دے کر ان کی حکومت پر تنقید کر تے رہتے ہیں۔سو یہ خطرہ بھی محسوس کیا گیا کہ ترین کے ہمدردوں کو باہر کا راستہ نہ دکھایا گیا تو انکی لابی مضبوط ہو تی جائے گی۔ یہ بات بھی پھیلائی کہ تانیہ ادریس کی رسائی نادرا تک ہے۔ جہاں سے حساس ڈیٹا چرایا جا سکتا ہے۔یہ الزام تانیہ کو ا ستعفیٰ دینے کیلئے ڈرانے کی کوشش تھا ،بالکل ویسے ہی جیسے کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی چھٹی کرانے سے پہلے ہی ا ن کے خلاف نیب کیسز کی خبریں چلنا شروع ہو گئی تھیں۔پی ٹی آئی حکومت کے ’’ترجمان اعلیٰ‘‘ شہباز گل امریکی شہری ہیں۔ان کی ویڈیو موجودہے جس میں وہ کھل کر سی پیک کی مخالفت کر رہے ہیں۔انہیں شاید اسی میرٹ پر نوازا گیا ہے۔بظاہر سیدھے سادھے نظر آنے والے ندیم افضل چن بھی کینیڈین شہری نکلے۔ان کو اس بات پر شاباش ہی دی جا سکتی ہے کہ رپورٹ سامنے آنے تک کسی کو کانوں کا ن خبر نہیں تھی۔امریکی شہری معید یوسف کو معاون خصوصی برائے قومی سلامتی مقرر کرتے وقت سب کو انکے ماضی اور حال کا پتہ تھا۔الیکشن 2018میں دھاندلی کس نے اور کیوں کرائی معید یوسف انٹرنیشنل میڈیا پر بیٹھ کر تفصیل سے بیان کرتے رہے۔ اپنے شعبے کے ساتھ ساتھ وہ دیگر امور میں بھی مداخلت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ میڈیا کو قابو کرنے کے حوالے سے بھی اوٹ پٹانگ تجاویز دیتے رہتے ہیں ، وزیر اعظم کے مشیر بھی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں حفیظ شیخ کو ہی دیکھ لیں۔کہا ں سے آ کر ایک بار پھر فٹ ہو گئے۔یو ں تو یہ ایک لمبی فہرست ہے جس میں دیگر کئی عہدیداروں کے نا م بھی شامل ہیں۔ نمونے کے طور پر صرف عبدالرزاق داؤد کو ہی دیکھ لیں۔جنہوں نے ایک ارب75کروڑ کے کل اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ داؤد فیملی دھائیوں سے کھرب پتی ہے۔ عبدالرزاق داؤد کو یہ ’’اعزاز‘‘ حاصل ہے کہ پی ٹی آئی حکومت بننے کے بعد سی پیک کے خلاف سرکاری سطح پر پہلا علم بغاوت انہوں نے ہی بلند کیا تھا۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان اپنے قیام کے کچھ عرصہ بعد ہی غیر ملکی طاقتوں اور شخصیات کیلئے تجربہ گاہ بن گیا تھا۔صرف سیاسی ہی نہیں بیورو کریسی،عسکری اور عدالتی شخصیات کی اولادیں بیرون ملک مقیم ہیں۔ایسے بہت سے  لوگ وہاں پر کش نوکریاں اور کاروبار بھی کر رہے ہیں۔غیر ملکیوں کے آگے بچھے چلے جانے کا یہ عمل آج بھی جاری ہے۔اب امریکی خاتون سنتھیا رچی کو  ہی دیکھ لیں۔پاکستان میں اسکی پہنچ کہاں نہیں؟ عام پاکستانی بیچارے کڑھتے رہتے ہیں کہ غیر ملکیوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں؟ سادہ سی بات ہے جب کسی ملک کے مقتدر طبقات کو غیر ملکی مداخلت سے کوئی مسئلہ نہ ہو تو  پھر اونٹ خیمے میں پوری طرح کیوں نہ گھسے۔ایسانہیں کہ دوہر ی شہریت والے تمام افراد محب وطن نہیں ہیں مگر یہ بھی ممکن نہیں کہ ان میں سے ہرایک کی پہلی ترجیح پاکستان ہی ہو۔کوئی کسی کا بھی ایجنٹ ہو سکتا ہے۔کیا باہر سے آنے والوں کی کوئی ڈی بریفنگ وغیر ہ ہوتی ہے۔سوالیہ نشانات بہت زیاد ہ ہیں مگر کوئی واضح جواب نہیں۔یہ وہ ملک ہے کہ جہاں معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے لوگ باہر سے آکر وزیراعظم لگ جاتے ہیں ، جو کچھ اس وقت ہورہا ہے وہ بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہی ہے ،کسی کو شک ہو تو امریکی دفتر خارجہ کا تازہ بیان دیکھ لے جس میں سی پیک کو بین الاقوامی معیار کے خلاف اور غیر شفاف منصوبہ قرار دیا گیا ہے ، اس منصوبے کے خلاف کاروائیوں پر نیب کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا ہے ، اس سے باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں باہر والوں کی موجودگی بے سبب نہیں۔ بہر حال ہمیں تو اتنا ہی علم ہے کہ جن پر سکیورٹی رسک ہونے کا شک کیاجا سکتاہے ،وہ سکیورٹی والوں کے ساتھ ہی اٹھتے بیٹھتے ہیں اب اگر ان کے خلاف کوئی شکایت بھی کی جائے تو کس سے کی جائے۔ دوہری شہریت کے مسئلے کا تو کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈا جاسکتا ہے مگر اس کے لیے سب سے پہلے اپنا دوغلاپن ختم کرنا ہوگا۔


ای پیپر