مقبوضہ کشمیر کی تا ر یخ اور یو مِ استحصا ل
06 اگست 2020 (23:03) 2020-08-06

آج سے دو روز قبل یعنی پا نچ اگست کو مقبو ضہ کشمیر کی ریا ستی حیثیت میں بھا رت کی بلا جواز مد اخلت کے خلا ف وطنِ عز یز میں یو مِ استحصال منا یا گیا۔ اہلِ کشمیر سا ت دہائیوں سے آ زا دی کی جد و جہد میں مصرو ف ہیں۔تا ہم 7  201 میں برہان وانی کی شہادت کے وقت زور پکڑتی ہوئی تحریک نے اس وقت مزید شدت پکڑ لی جب جنوب میں واقع کھربو شار نامی قصبے میں بھارتی درندوں نے رات کے اندھیرے میں شب خون مارا۔ نوجوانوں کو چن چن کر قید کردیا۔ ان پہ ناقابل بیان جسمانی تشدد کیا۔ ان قیدیوں میں تیس سالہ کالج پروفیسر شبیر احمد بھی شامل تھا۔ اسے قید میں کلمہ حق ادا کرنے کی جو سزا دی گئی اس کے نتیجے میں اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ شہید پروفیسر شبیر احمد کی لاش جب ان کے قصبے کھربو شار پہنچی تو وہاں کون سی آنکھ تھی جو آنسوئوں سے تر نہ تھی۔ طلباء نے اپنے استاد کے خون کو رائیگاں نہ جانے کا ایک دوسرے کے سر پر ہاتھ رکھ کر عہد کیا۔ گلی گلی کوچے کوچے مظاہرے زور پکڑنے لگے۔ ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے بھارتی فورسز نے ان ممنوع ہتھیاروں کا استعمال کرنے سے بھی گریز نہ کیا، جن پہ عالمی قوانین کے تحت پابندی عائد ہے۔ ان ہتھیاروں نے کشمیری نوجوانوں اور طلباء کو اس طور زخمی کیا کہ وہ قوت سماعت اور بینائی سے محروم ہوگئے۔خوبصورتی اور خوبصورتوں کی سرزمین کشمیر پہ ہتھیاروں کے مظالم کب سے روا ہیں، اس کا احوال جاننے کے لیے تھوڑا تاریخ کا سہارا لینا پڑے گا۔ پہلی بار کشمیر کو انگریزوں نے 1846ء میں ڈوگرو ں کے ہاتھ فروخت کردیا تھا۔ تب کشمیر کی قیمت 75 لاکھ روپے پڑی تھی۔ اس کے ٹھیک ایک سو برس بعد 1946ء میں فرنگیوں نے جب دوسری بار کشمیر ہندو ئوں کے قبضہ اختیار میں دینے کی چال چلی تو اس کی بھاری قیمت بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان سے وصول کی گئی۔ گورداسپور کے راستے بھارت کو کشمیر کے ساتھ براہ راست منسلک کرکے برطانیہ نے پاکستان کی نظریاتی، جغرافیائی اور معاشی سرحدوں پر ایک ننگی تلوار لٹکادی اور حربی نقطہ نظر سے اس نئی مملکت کو غیر متوقع اطراف و جوانب سے بھارت کے بے جواز گھیرائو میں دھکیل دیا۔ 

مغربی پنجاب کی معاشی زندگی کو بھارت کے پنجۂ اختیار میں دینے کے لیے ریڈ کلف نے گورداسپور کے نہلے پر فیروزپور کا دہلا بھی ماردیا۔ فیروزپور میں ان نہروں کے ہیڈ ورکس تھے جو مغربی پنجاب کو سیراب کرتی تھیں۔ ریڈ کلف نے یہ ہیڈ ورکس بھی بھارت کی جھولی میں ڈال دیئے۔ اس زیادتی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آٹھ مہینے کے اندر اندر اپریل 1948ء میں بھارت نے ان نہروں کا پانی بند کرکے پاکستان کو اپنی برتری کا احساس دلانے کی کوشش کی۔ تاہم 3 جون 1947ء کو جو فیصلہ ہوا اس کے مطابق معاہدہ طے پایا کہ کشمیر اپنے بارے میں آزاد ہے کہ وہ پاکستان سے الحاق کرے یا بھارت سے۔ مگر جب کشمیر کے حکمران نے وہاں کے عوام کی اکثریتی رائے کے خلاف کشمیر کو بھارت کا اتحادی مگر خودمختار آزاد ریاست برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تو کشمیری عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ تب کشمیر کے حکمران مہاراجہ کرن سنگھ نے بوکھلاہٹ اور بھارت کے دبائو کے عالم میں بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کردیئے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کا اہم بنیادی فریق وہاں کے عوام ہیں۔ انسانی حقوق کے قوانین کے تحت اپنی آزادی کے لیے جنگ لڑنے والوں میں بشرطیکہ وہ اکثریت میں ہوں، اقوام متحدہ مددگار ہوتی ہے۔ بھارت کی تحریک آزادی کے مرکزی رہنما اور پہلے سربراہ پنڈت جواہر لال نہرو آزادی کے بعد مقبوضہ کشمیر کے دائمی حل کے لیے سنجیدہ ہوگئے تھے، اور انہوں نے اس سلسلے میں مقبوضہ کشمیر کے رہنما شیخ عبداللہ کو تہاڑ جیل سے رہا کروا کے کشمیر کے معاملے پر ایک طویل مدتی پالیسی پر عمل پیر اہونے کا عندیہ دیا تھا۔ شیخ عبداللہ کو صدر ایوب سے بھی بامقصد مذاکرات کرنے کے لیے اپنے فیصلوں میں بااختیار ہونے کا حق دیا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو جس زاویئے سے مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے تھے، وہ چناب فارمولا کہلاتا ہے۔ پنڈت نہرو نے اس حقیقت کا 

سامنا کرتے ہوئے کہ وادی کشمیر کا 98 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، اپنے طور پر حل پیش کیا تھا کہ دریائے چناب کو بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی لکیر تسلیم کرلیا جائے۔ اس حل کے تحت جموں صوبے کے چھ میں سے کم از کم تین اضلاع پاکستان کا حصہ بن جاتے۔ پاکستان کے صدر ایوب کو بھی اس وقت کے حالات کے مطابق چناب فارمولے میں کشش نظر آرہی تھی۔ چنانچہ انہوں نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک جلسے کے انعقاد کی تیاریاں کرلیں۔ اس جلسے میں شیخ عبداللہ نے خطاب کرکے پنڈت نہرو کا نقطہ نظر عوام کو آسان لفظوں میں سمجھانا تھا۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں "Man Proposes God Disposes" بندہ کچھ چاہتا ہے مگر اللہ کا فیصلہ اپنا ہوتا ہے۔ اس دوران اچانک پنڈت جواہر لال نہرو کا انتقال ہوگیا۔ شیخ عبداللہ کو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نئی دہلی روانہ ہونا پڑا۔

پنڈت جواہر لال نہرو کی زندگی میں اگر چناب فارمولا پہ عمل ہوجاتا تو شاید 1965ء میں پاک بھارت جنگ نہ ہوتی۔ دوسری طرف مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کو اگرتلہ سازش کا ارتکاب کرکے پرپُرزے نکالنے کا موقع نصیب نہ ہوتا۔ یوں بھی اگرتلہ سازش کیس پہ صدر ایوب نے شیخ مجیب الرحمن پہ مضبوط ہاتھ ڈال دیا تھا۔ لیکن ایوب خان چونکہ فوجی انقلاب کے زیراثر اقتدار میں آئے تھے، لہٰذا اعلیٰ ایڈمنسٹریٹر ہونے کے باوجود ان کی سیاسی پوزیشن ہمیشہ کمزور رہی۔ ان کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاست دانوں نے جائز وجوہات کے ساتھ ساتھ ناجائز وجوہات کا سہارا لیتے ہوئے ا نہیں چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ اگرتلہ سازش ایک بھیانک حقیقت تھی ۔ مگر سیاست دانوں نے واویلا مچاتے ہوئے شیخ مجیب کو مظلوم بنا کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ آخر صدر ایوب کو بیک فٹ پر جانا پڑا اور پھر اگرتلہ سازش آخر اپنا رنگ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں لے کر آئی۔ اس قضیے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنائو میں اضافہ در اضافہ کیا اور مسئلہ کشمیر پہ بات چیت کی راہ کبھی ہموار نہ ہوسکی تاآنکہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں بھارت کے سربراہ اٹل بہاری واجپائی اور جنرل پرویز مشرف نے چناب فارمولے پہ کام شروع کرنے کی ٹھانی۔ اس پر وقت کے ساتھ ساتھ مثبت انداز میں پیش رفت بھی ہونے لگی تھی۔ لیکن 2008ء میں جنرل مشرف اپنی حکومت برقرار نہ رکھ سکے۔ دوسری طرف واجپائی کی رخصتی کے بعد کوئی بھی بھارتی سربراہ کشمیر کے پُرامن حل کرنے کی طرف مائل نہ ہوا۔ الٹا ان سربراہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو دبانے کے لیے حسب توفیق وہاں فوج کی تعداد میں اضافہ کیا۔گو یہ امر خو ش آ ئند ہے کہ ہما ری حکو متِ و قت نے مسلئہ کشمیر کو عالمی سطح پہ اجا گر کر نے کی تجد ید کی ہے اور اس حو ا لے سے پا ک فو ج اس کے شا نہ بشا نہ ہے۔تا ہم ضر ور ت اس امر کی ہے کہ اب اس بار ے میں کسی قسم کی سستی کا مظا ہر ہ نہ کیا جا ئے۔


ای پیپر