سید علی گیلانی، دنیا ان کی خدمات کی معترف !
06 اگست 2020 (23:02) 2020-08-06

سید علی گیلانی کا شمار دنیا کی ان بڑی شخصیتوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی قوم کیلئے جدوجہد آزادی کی تاریخ رقم کی۔ دنیا ان کی خدمات کی معترف ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت قیادت نے سید علی گیلانی کی قیادت میں متحدہو کر پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سید علی گیلانی کا موقف ہی پوری کشمیری قوم کا موقف کی بنیاد پر کامیاب ہوتی ہیں جن تحریکوں کے پیچھے کوئی نظریہ نہیں ہوتا وہ تحریکیں کامیاب نہیں ہوتی ہیں۔

 وزیراعظم پاکستان عمران خان نے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کے دوران بزرگ کشمیری حریت پسند رہنما سید علی گیلانی کو 14اگست کو نشان پاکستان کا اعزاز دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی طویل عرصے سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔اس سے قبل سینیٹ میں بھی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کیلئے سید علی گیلانی کی بے لوث اور مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ایوان نے ان کے غیر متزلزل عزم، جذبے، استقامت اور قیادت اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، ظالمانہ اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے میں ان کے کردار کو سراہا۔قرارداد میں حکومت پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد میں وزیراعظم ہاوس کے قریب قائم کی جانے والی مجوزہ پاکستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کا نام سید علی شاہ گیلانی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اورایمرجنگ ٹیکنالوجی رکھے۔

ابھی کچھ عرصہ قبل ہی سید علی گیلانی نے کثیر الجماعتی اتحاد حریت کانفرنس سے الگ ہونے کا اعلان کیا لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ وہ ’بھارتی استعمار‘ سے تاحیات برسرِ پیکار رہیں گے۔انہوں نے اپنی عمر اور خرابی صحت کی وجہ سے حریت کانفرنس سے علیحدگی اختیار کی۔ لیکن بھارت کے خلاف ان کی مزاحمت روز اول کی طرح آج 

بھی قائم ہے اور کشمیریوں کے حقوق کیلئے وہ آج بھی اتنے ہی کوشاں ہیں جتنے پہلے تھے۔ 

کشمیر کی آزادی کی تحریک ایک نظریے کے تحت برپا کی گئی ہے یہ نظریہ اسلام، آزادی اور تکمیل پاکستان ہے۔ اسی نظرئیے کو بنیاد بنا کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخ کا عظیم جہاد برپا ہے جس کی قیادت سید علی گیلانی نے کی۔ آج تک لاکھوں شہداء نے اپنا گرم گرم لہو آزادی کے لیے پیش کیا ہے۔ ہزاروں اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ ہزاروں زخمی اور معذوری کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہزاروں پس دیوار زنداں ہیں۔ نوے سال کی ضعیف العمری میں سید علی شاہ گیلانی کی گھر میں بلا جواز نظر بندی بھی باعث تشویش ہے۔ 

کسی بھی مجاہد آزادی خصوصا آزادی کشمیر کی تحریک سے متعلق شخص کے لیے علامہ اقبال کے ساتھ وابستگی نہ صرف ایک فطری امر بلکہ ناگزیر ہے۔ اقبال سے سید علی گیلانی کا اوّلین تعلق ہائی سکول سوپور میں تعلیم کے دوران پرندے کی فریاد پڑھ کر قائم ہوا تھا۔ یہ نظم انھیں ازبر ہوگئی۔ وہ اسے بچپن میں بھی پڑھتے اور آنسو بہاتے تھے۔ پھر جب انھیں اپنے لڑکپن میں ایک مختصر عرصے کے لیے علامہ اقبال کے ایک قریبی دوست محمد دین فوق کے ایما پر لاہور میں قیام کرنا پڑا تو وقتاً وقتاً بادشاہی مسجد جاکر اقبال کی قبر کی قربت سے ایک قلبی سکون اور طمانیت حاصل کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت اقبال کے کلام اور ان کے مرتبے اور مقام سے بے خبر تھا‘ لیکن شاید یہ ایک روحانی تعلق تھا جو انھیں کشاں کشاں اقبال کی تربت کی طرف لے جاتا۔ آگے چل کر اقبال سے ان کا یہ تعلق اتنا پختہ اور استوار ہوگیا کہ آزادی کشمیر کی تحریک میں علی گیلانی کے لیے کلام اقبال ایک بڑا سرچشمہ تحریک ثابت ہوا۔ ان کی زیرنظر کتاب ’’اقبال روح دین کا شناسا‘‘ اسی تعلق کی داستان اور شہادت پیش کرتی ہے۔

فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال سید علی گیلانی کی کتاب ’’اقبال روح دین کا شناسا‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں:برعظیم کی تاریخ میں مجی و محترمی سید علی گیلانی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ کشمیر کی حالیہ تحریک آزادی میں پیش پیش رہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اپنی زندگی کی ایک ربع صدی یا اس سے بھی کچھ زیادہ وقت پس دیوار زندان گزار چکے ہیں۔ دل اور سرطان کے موذی امراض بھی انھیں اس جہاد زندگانی سے باز نہیں رکھ سکے۔ متعدد بار گھر کی تباہی اور جسمانی و نفسیاتی تشدد بھی ان کے جذبوں کے سامنے دیوار نہ بن سکے۔ مجاہدین آزادی میں وہ اس اعتبار سے ایک منفرد شخص ہیں کہ انھوں نے تحریک آزادی کی ہنگامہ خیز زندگی اور اذیت ناک جدوجہد میں بھی قلم و قرطاس سے اپنا رشتہ برقرار رکھا۔ سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ وہ پرورش لوح و قلم بھی کرتے رہے۔

 کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی ساری زندگی جدوجہد سے تعبیر ہے۔ آزادی اور حق خود ارادیت کی جدوجہد میں عمر کا زیادہ حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا ہے۔ بھارت نے حریت قائد کی آزادی کی آواز دبانے کے لیے ظلم و جبر کے تمام ہتھکنڈے آزمائے لیکن وہ حریت قائدین کے عزم و حوصلے کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ماضی میں پاکستان کے حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مختلف آپشنز پیش کیے۔ اگر ان آپشنز اور فارمولوں کے سامنے کوئی ڈٹا رہا تو وہ سید علی گیلانی تھے جنہوں نے جنرل مشرف کو دو ٹوک جواب دیا تھا کہ کشمیر کے لاکھوں شہداء نے اپنا خون بھارت کے غاصبانہ قبضہ سے آزادی کے لیے پیش کیا ہے۔

  سید علی گیلانی کا موقف تھا کہ جب تک بھارت کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کرتا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آمادہ نہیں ہوتا اس وقت تک بھارت سے کسی طرح کے مذاکرات کا ر لاحاصل مشق ہے۔ محض پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی و ثقافتی وفود کے تبادلے آلو ،پیاز کی تجارت اور امن کی آشا سے کشمیریوں کے دکھوں کا مداوا نہیں ہو سکتا۔ تاریخ نے سید علی گیلانی کے موقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔


ای پیپر