شہدائے پولیس وشوہدائے پولیس! 
06 اگست 2020 2020-08-06

ایک تو ”شہدائے پولیس“ ہیں جنہوں نے اس ملک کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے، دوسرے کچھ ”شوہدائے پولیس“ ہیں جن کا سارا زور ”نذرانے“ وصول کرنے پر رہتا ہے، ایک دوقسطوں میں دونوں کا ذکر کروں گا، .... دوروز پہلے محکمہ پولیس پنجاب نے ”یوم شہدائے پولیس“ منایا، اس حوالے سے ہرسال ایک بڑی تقریب ہوتی ہے، جس میں پولیس کے شہداءکی فیملیز کو بلاکر مزید عزت دی جاتی ہے، اُنہیں سٹیج پر بٹھایا جاتا ہے، ظاہر ہے وہ اس ادب، عزت اور احترام کے قابل ہوتے ہیں، اِس بارممکن ہے کوئی تقریب کورونا کی وجہ سے منعقد نہ کی گئی ہو، پنجاب میں تعینات اکثر مردم بیزار وماتحت دشمن پولیس افسروں نے شکر کیاہوگا کورونا کے باعث کسی ایسی تقریب کا اہتمام نہیں کیا گیا جس میں شریک ہوکر خوامخواہ وہ اپنا وقت ”ضائع “ کرتے۔ شہدائے پولیس کی یاد میں منعقدہ آخری تقریب جس میں مجھے بھی شریک ہونے کا اعزاز بخشا گیا تھا۔ آئی جی پنجاب عارف نواز کے زمانے میں الحمرا ہال ون میں ہوئی تھی، یہ تقریب تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک جاری رہی، ایک سیکنڈ کے لیے بھی آئی جی عارف نواز سٹیج سے نہیں ہلے جبکہ میں اِس دوران تقریباً تین بار اسٹیج سے اُتر کر واش روم گیا، یہ اپنے شہیدوں کے ساتھ اُن کی محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا، ہمارے اکثر آئی جی صاحبان اول تو ایسی تقریبات میں شریک ہی نہیں ہوتے، اور اگر ماتحت افسران منت ترلا کرکے اُنہیں لے آئیں تو چند منٹوں بعد سی ایم کے ساتھ کسی اہم میٹنگ کا اُنہیں دورہ پڑ جاتا ہے، اور وہ رخصت ہو جاتے ہیں، اور سٹیج پر بیٹھے بھی رہیں تو ”اُباسیاں“ لیتے رہتے ہیں اور بعض اوقات دوران اُباسی منہ پر ہاتھ نہ رکھنے کی صورت میں اُن کے منہ سے نکلنے والی بُو پورے ہال میں پھیل جاتی ہے، عارف نواز ماتحت پرور آئی جی پنجاب تھے، ایک بارمیں اُن کے نوٹس میں لایا پولیس کے ایک شہید کی فیملی کے حصے میں آنے والی سرکاری رقم کے حصول میں محکمہ غیر ضروری رکاوٹیں ڈال رہا ہے، ان رکاوٹوں کو ایک ہی روز میں اُنہوں نے ختم کرواکر چیک شہید کے بچوں اور بیوہ کے سپرد کردیا، .... کن انتہائی کمزور وجوہات کی بناءپر آئی جی پنجاب کے عہدے سے محض چند ماہ بعد اُنہیں الگ کردیا گیا تھا؟ مجھے سب معلوم ہے، میں نے اس پر وزیراعظم سے شدید احتجاج کیا تھا، جس نے اُن کے خلاف یہ سازش کی، دومہینوں بعدوہ ڈی ایم جی افسر خود ذلیل وخوار ہوکر پنجاب سے نکال دیا گیا، اللہ جانے کیوں ہمارے کچھ لوگ دعاﺅں اور بددعاﺅں پر اب یقین نہیں رکھتے، کچھ بددعائیں دی نہیں جاتی، خود بخود لگ جاتی ہیں، آہ صرف نکلتی نہیں پڑ بھی جاتی ہے، .... اکثر کہا جاتا ہے ”جو مقدر میں ہے مل کر رہے گا جو مقدر میں نہیں ہے جتنی چاہے کوئی انسان اُس کے لیے کوششیں کرلے، کبھی نہیں ملے گا“.... میرا ”ایمان“ اِس سے ذرا مختلف ہے، میں یہ سمجھتا ہوں جو مقدر میں لکھا ہے وہ کسی کی بددعا سے چھن بھی سکتا ہے، اور جو مقدر میں نہیں لکھا وہ کسی کی دعاسے مل بھی سکتا ہے، .... عارف نواز کو بطور آئی جی مزید کچھ عرصہ مل جاتا پولیس کے انتہائی بگڑے ہوئے معاملات میں کوئی نہ کوئی ایسی بہتری اب تک یقیناً آچکی ہوتی جو حکمرانوں کے الیکشن سے قبل لوگوں کو دکھائے جانے والے اس خواب کو کسی حدتک تعبیر بخش دیتی کہ اقتدارمیں آکر ہم پولیس کا قبلہ درست کردیں گے، فی الحال پولیس کا قبلہ تبدیل کرکے اُس کا رُخ مزید خرابیوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے، .... میں ذاتی طورپر جانتا ہوں وزیراعظم کو اس کا بہت احساس ہے، اصل احساس اُنہیں یہ ہونا چاہیے ایک اچھے آئی جی کو پنجاب میں اُنہوں نے ٹکنے نہیں دیا، وہ شاید اپنی اسی شرمندگی کو مٹانے کے لیے اب چاہتے ہوئے بھی موجودہ آئی جی کو ہٹانے میں دشواری محسوس کررہے ہیں، موجودہ آئی جی پنجاب کی ریٹائرمنٹ میں چار پانچ ماہ ہی رہ گئے ہیں، اُنہیں چاہیے وزیراعظم کی اِس ”دشواری“ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کوئی ایک کام ایسا ضرور کر جائیں جس کی بنیاد پر لوگوں خصوصاً‘ اچھے ماتحتوں کو وہ دیر تک یاد رہیں، ورنہ عموماً پولیس افسران یا سول افسران ماتحتوں کو اُتنی دیر تک ہی یاد رہتے ہیں جتنی دیرتک وہ اُن سے اپنی اے سی آر نہیں لکھوا لیتے، .... ایک آئی جی مشتاق سکھیرا بھی تھا، ماتحت افسروں کی اے سی آر نہ لکھنے کے عمل کو وہ باقاعدہ ایک ”کارثواب“ سمجھتا تھا، زندگی بھر صرف یہی ”ثواب“ وہ حاصل کرتا رہا، ریٹائرمنٹ کے بعد اُس نے اپنے اِس عمل کو اپنا باقاعدہ ایک ”ہتھیار“ بنالیا، یہ ”ہتھیار“ دکھا کر وہ اپنے ماتحت رہنے والے ہرافسر سے جائز ناجائز کام نکلواتا رہا، جسم اور کردار کے کمزور اِس پولیس افسر کا فون تک اب کوئی نہیں سنتا،”شوہدائے پولیس افسروں“میں اُس کا بڑا نمایاں مقام ہے، .... یوم شہدائے پولیس پر ایک اچھے پولیس افسر کی یاد بھی مجھے ستارہی ہے، میں اُس سے معافی چاہتا ہوں اُس کا ذکر ایک بُرے پولیس افسر کے ذکر کے فوراً بعد مجھے کرنا پڑ رہا ہے، یہ پچھلے دور میں لاہور کا ایس ایس پی ایڈمن رانا ایاز سلیم تھا، پورے دعوے پورے وثوق پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کوئی اپنی فیملی کے ساتھ بھی اس قدر محبت نہیں کرتا جس قدر محبت اور شفقت اس عظیم پولیس افسر نے شہداءکی فیملیز کے ساتھ کی، میں کئی واقعات کا ذاتی گواہ ہوں، یہ واقعات محض دوچار کالموں میں نہیں سما سکتے، دوچار کتابوں میں بھی شاید نہ سما سکیں، یہ پوری ایک تحریک جو تاریخ بن گئی، اِس تاریخ کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا، .... اب وہ فیلڈ میں نہیں، اور اِس لیے نہیں وہ رانا ثناءاللہ کا عزیز ہے، کوئی افسر یا پولیس افسر چاہے کتنا اچھا کیوں نہ ہو، کتنا ایماندار اور شاندار کیوں نہ ہو، اپنے کام کا کتنا اہل کیوں نہ ہو، اُسے محض اِس لیے”کھڈے لائن“ لگائے رکھنا کہ وہ حکمرانوں کی مخالف سیاسی جماعت کے کسی رہنما کا دُور یا نزدیک کا کوئی عزیز ہے، حکمرانوں کی اِس روایت یا گھٹیاسوچ پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے، ایسے اچھے اور نفیس افسروں کا اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، اس سے نقصان سیاسی حکمرانوں کا اپنا ہوتا ہے، کیونکہ ایسے عظیم افسروں کی جگہ جن مردم بیزار، کرپٹ گھٹیامزاج اور ماتحت وعوام دشمن افسروں کو مختلف سفارشوں پر، کچھ لے دے کے یارواں کرپٹ سسٹم کے کسی اور ضابطے کے مطابق تعینات کرتے ہیں وہ حکومت کی یا حکمرانوں کی اپنی ہی بے عزتی یا بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ پر حکمرانوں کو اِن باتوں، اِن بدنامیوں یا اِن بے عزتیوں کی اب کوئی خاص پرواہی نہیں، کیونکہ وہ اِس راز سے مکمل طورپر واقف ہوچکے ہیں عوام میں وہ چاہے کتنے ہی بے عزت کتنے ہی غیر مقبول کیوں نہ ہوجائیں، عوام چاہے اُن سے کتنی ہی نفرت کیوں نہ کریں، اِس ملک کی تقدیر کے ”دنیاوی ٹھیکیدار“ اگر طے کرلیں اُنہیں اقتدار میں لے کر آنا ہے کوئی قوت اُن کی راہ میں دیوار تو کیا روڑہ بھی نہیں بن سکتی۔ (جاری ہے) 


ای پیپر