”تمناﺅں کا خوں“
06 اگست 2020 2020-08-06

وطن عزیز والی تاریخ پیدائش کے لئے لوگ اب اس دنیا میں نہیں رہے، تاہم قارئین اگر آپ کی یادداشت قابل تعریف نہ بھی ہو آپ کو اتنا تو ضرور یاد ہوگا، کہ ہرحکمران یہی رعایا سے کہتا آیا ہے کہ ملک اس وقت نازک ترین صورت حال سے گزررہا ہے، یہ کہتے کہتے اور سنتے سنتے پاکستان دولخت ہوگیا۔ اور دشمنان اسلام نے ببانگ دہل یہ نعرہ عورت ہونے کے باوجود لگایا کہ ہم نے نظریہ پاکستان کو سمندر میں پھینک دیاہے، قارئین کبھی آپ نے سوچا کہ پاکستان کو دل سے تسلیم نہ کرنے والوں کو یہ بیان دینے کی جرا¿ت کیسے ہوئی۔ (ن) لیگ کے دورمیں اتنا تو مثبت ہوا تھا، کہ واجپائی کی آمد پر نعرے لگنے اور احتجاج ہونے کے باوجود اس نے منٹوپارک میں مینار پاکستان کے سائے تلے کھڑے ہوکر قرارداد پاکستان کی حمایت کی تھی۔ مگر اب اتنا ضرور ہوا ہے، کہ ایل اوسی پہ بھارت روزانہ کچھ شہری کچھ عسکری جوان شہید کردیتا ہے، اور حکمرانوں کے نزدیک ایک خوش آئندبات یہ ہے کہ دشمن نے اپنے آپ کو بلوچستان تک محدود کرلیا ہے۔ سرحدوں پہ ہمارے مورچے، ان کی چوکیوں سے ہوتی فائرنگ کو خاموش کرنے کے لیے جواباً چوکیاں ہی اڑا دیتا ہے، مگر ایک راز قارئین راز ہی ہے، کہ چوکیاں اڑانے کی دست اندازی پہ وہ بھارت میں موجود پاکستانی ہائی کمشنر کو احتجاج کے طورپر کبھی بھی نہیں بلاتا، جب کہ ہم نے آئے دن بلکہ روزانہ بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ بلایا ہوتا ہے، سید مظفر علی شاہ کے بقول دورمشرخانہ میں رانی مکھرجی سے دور شسماسوراج تک تو شاید یہ بات قابل فہم تھی، کہ 

مگر مجھ میں جاناں یہ ہمت نہیں تھی

 کہ میں کودجاتا، وہاں ڈوب جاتا!

تیرے آنسوﺅں سے چھلکتا دمکتا

 مگر ہائے قسمت نہیں ہوسکا کچھ !

مگر اب جبکہ ہم نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم، 130فٹ طویل اپنی سرحدوں پر لہرا دیا ہے، کہ بھارتی جارحیت کا مو¿ثر جواب دیا جائے، یہ دلیل طویل تنقیدی مباحثے میں تحلیل ہوتی نظر آتی ہے، کہ وطن عزیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو شاید غلط بیانی سے یہ کہہ کر کہ ہم نے اپنے ملک کو ریاست مدینہ بناکر اس میں آپ کے محبوب اور آپ کے پسندیدہ نظام اسلام کو نافذ کردینا ہے، یہ وعدہ کرکے لے لیا مگر ہمارے دامن میںنفاذ اسلام کیوں ممکن نہ ہوسکا، یہ ایک الگ داستان نصیب ہے، لیکن سوچنے کی بات ہے، کہ ہمارے کسی حکمران کو کلمہ طیبہ نہیں آتا، کسی ارکان پارلیمان کو قل نہیں آتا کسی کو دعا قنوت ، اور کسی کو عشا کی نوافل کا نہیں پتہ تو پھر یہ کیسے ناممکن کوممکن کردکھاتے؟ ان کا یہ بیان کہ کسی مذہب کو کسی مذہب پہ فوقیت نہیں ہے میں نے تو نماز عید چرچ میں پڑھ لی تھی، اس بحث میں پڑے بغیر کہ کیا پادری نے امامت کی تھی، یا اکیلے پڑھی تھی، اگر اکیلے پڑھی تھی، تو پھر گھر پہ ہی پڑھ لینی تھی۔ مذہب کے بارے میں عرض ہے کہ ہمارے ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے جوکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ مسلمان اس کو کہتے ہیں، کہ جوخدا کے آگے سرتسلیم خم کردے، اور اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا مالک، آقا، حاکم اور معبود مان لے، اور اپنے آپ کو کلیتاً خدا کے سپرد کردے، اس کی ہدایات پہ زندگی بسر کردے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہو، اس عقیدے اور اس طرز عمل کا نام اسلام ہے، اور اس پر عمل کرنے والے کا نام مسلمان ہے، اور یہی انبیاءکا دین تھا، جو ابتدائے آفرینشن سے دنیا کے مختلف ملکوں اور قوموں میں آئے، سورة النساءمیں ارشاد ہے دنیا میں جونیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو، یا عورت بشرطیکہ ہو وہ مومن تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور ان کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہوگی، اس شخص سے بہتر اور کس کا طریق زندگی ہوسکتا ہے، جس نے اللہ کے آگے سرتسلیم خم کرلیا، اور اپنا رویہ نرم رکھا، اور یکسو ہوکر ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی پیروی کی، اس ابراہیمؑ کی جسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنا دوست بنالیا تھا۔ 

آسمانوں اور زمین میں جوکچھ ہے، اللہ کا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پہ محےط ہے، اس کی تشریح کچھ اس طرح سے ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کے آگے سرتسلیم خم کردینا، اور خودسری اورخودمختاری سے باز آجانا، جب یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین اور آسمان اور ان ساری چیزوں کا مالک ہے جوزمین اور آسمان میں ہیں، تو انسان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت پر راضی ہوجائے، اور سرکشی چھوڑ دے۔ کیونکہ ہردین برابر نہیں ہوسکتا، کیا کافر اور مسلمان ایک جیسا ہوسکتا ہے اصل میں یہ بحث ومباحثہ اسلام آباد میں بننے والے مندر کے حوالے سے زیربحث ہے، اب چونکہ یہ معاملہ اسلامی شریعت کونسل کے پاس بھیج دیا گیا ہے اس شریعت کونسل کے روح رواں جناب قبلہ ایاز ہیں، امید ہے کہ وہ بخوبی اس مسئلے کو حل کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے تاکہ کروڑوں مسلمان کے قلوب واذہان کو سکون پہنچے۔ اس حوالے سے پاکستان کے مفتیان، فقہان وعلماءکے نہ صرف بیانات آچکے ہیں، بلکہ انہوں نے اپنی قوم وعوام کی بہترین رہ نمائی فرمائی ہے ۔اللہ تعالیٰ پاکستان کو فتنہ وفسادات، اور بدعات سے محفوظ رکھے آمین۔ کیونکہ اس دنیا ئے دنی میں شیطان، کی شیطانیاں بھی کارفرما ہیں، اسی لیے حکیم الامت جناب علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں :

یہ عناصر کا پرانا کھیل، یہ دنیائے دوں

 ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناﺅں کا خوں 


ای پیپر