Source : Yahoo

ریکس ٹلرسن نے سعودی عرب اور امارات کو قطر پر حملہ کرنے سے روکا ،رپورٹ
06 اگست 2018 (22:09) 2018-08-06

واشنگٹن : سابق امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو قطر کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے روک دیا ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ برس جون میں قطر سے سفارتی تعلقات خراب ہونے پر فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی خبروں کی ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ کو اطلاعات موصول ہوئیں کہ سعودی عرب اور امارات نے سعودی فوجی دستوں اور امارات کی فوجی قوت کے ساتھ مل کر قطر کے دارلحکومت پر قبضہ کرنا تھا۔امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے موجودہ اور دو سابق اعلیٰ حکام کے مطابق سعودی عرب اور امارات کے فرمانرواو¿ں کی جانب سے وسیع پیمانے پر بغاوت کی منصوبہ بندی کی گئی تھی ’ جس پر آئندہ چند ہفتوں میں عملدرآمد کیا جانا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی فورسز نے قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے خلاف ال عدید ایئربیس پر حملہ کرکے دوحہ پر قبضہ کرنا تھا۔ یہ علاقہ امریکی ایئر سینٹرل کمانڈ فورس کا گڑھ ہے جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی دستے تعینات ہیں۔ال عدید امریکا کا اہم ترین ملٹری بیس ہے جہاں سے مشرق وسطی میں آپریشن کیے جاتے ہیں۔قطری انٹیلی جنس حکام نے ریکس ٹلرسن کو اس منصوبے سے آگاہ کیا تو انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو قطر پر حملہ کرنے سے روک دیا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کو بھی قطری ریاست پر حملے کے خطرے سے آگاہ کردیا۔ریکس ٹلرسن کی جانب سے قطر پر حملہ نہ کرنے کے دباو¿ پر شاہ سلمان اپنے عزائم سے پیچھے ہٹ گئے کیونکہ اگر سعودی عرب قطر پر حملہ کرتا ہے تو یہ سعودی امریکی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہوگا۔گزشتہ برس 5 جولائی کو سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک نے قطر پر خطے میں دہشت گردی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے قطر سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کردیے تھے، تاہم قطر نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔

سعودی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ 'قطر نے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کے لیے اخوان المسلمون ، داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد اور فرقہ وارانہ گروپوں کی حمایت کی اور میڈیا کے ذریعے ان کے پیغامات کی تشہیر کی‘۔سعودی حکومت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے بحرین، مصر، متحدہ عرب امارات، یمن، لیبیا، مصر اور مالدیپ نے بھی قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیے تھے۔سفارتی تعلقات ختم کیے جانے کے ساتھ قطر کو سعودی سربراہی میں بننے والے اسلامی عسکری اتحاد سے بھی خارج کردیا گیا تھا، جبکہ یمن لڑائی میں شامل قطری فوج کو بھی واپس بھیج دیا گیا تھا۔قطر سے تعلقات ختم کرنے والے ممالک نے بظاہر صرف اخوان المسلمون اور ایران کے لیے دوحہ کی جانب سے نرم رویہ اختیار کرنے کو ہی سبب بنا کر تعلقات ختم کیے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر نے کوئی مستند دلائل پیش کرنے کے بجائے روایتی طریقے سے ان الزامات کو صرف بے بنیاد قرار دینے پر اکتفا کیا تھا۔رواں سال جون میں بھی سعودی عرب نے روس سے میزائل خریدنے پر قطر کو فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔


ای پیپر